”پس بنو امیہ نے جہاد کا بیڑا اٹھائے رکھا، گویا ان کا کوئی اور کام ہی نہ تھا۔ مشرق و مغرب میں اسلام کا پھریرا لہرانے لگا، کفر اور اربابِ کفر کو ذلیل و رسوا کر دیا، مشرکوں کے دل اہلِ اسلام کی ہیبت سے لرزنے لگے۔ مسلمان جس علاقے کا رُخ کرتے اسے اسلامی قلمرو میں شامل کر لیتے۔ بنو امیہ کی فوجوں اور جنگجوؤں میں کبار تابعین میں سے صالحین، اولیاء اور علماء کی بڑی تعداد ہوا کرتی تھی، جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے دین کی نصرت فرماتے تھے۔“

(البداية والنهاية لابن كثير : ٧٣/٩)