سوال 7478

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
شیخ محترم! آج کل بازار میں مختلف اشیاء، مثلاً موبائل، الماریاں، واشنگ مشین وغیرہ قسطوں پر فروخت ہوتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ قسطوں پر کوئی بھی چیز خریدنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ اس معاملے میں کن باتوں کا احتیاط کرنا ضروری ہے؟
اور اگر کسی شخص کے پاس نقد رقم نہ ہو اور مجبوری کی صورت ہو تو کیا وہ قسطوں پر چیز خرید سکتا ہے؟
اس مسئلے میں بہت سے علماء جواز کے قائل ہیں جبکہ بعض علماء ناجائز قرار دیتے ہیں۔ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں تسلی بخش، مدلل اور واضح جواب عنایت فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیراً و احسن الجزاء فی الدنیا والآخرۃ

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
قسطوں پر چیز لی جا سکتی ہے۔ چیز کیا ہے، یہ طے ہو جائے؛ قیمت کتنی ہے، یہ فائنل ہو جائے؛ ادائیگی کا شیڈول کیا ہوگا اور کتنے عرصے میں مکمل ہوگی، یہ تمام چیزیں واضح اور طے شدہ ہوں تو قسطوں پر خریدنا جائز ہے۔
البتہ اس معاملے میں لیٹ فیس کے نام سے اضافی چارجز یا جرمانہ نہیں لگایا جانا چاہیے۔ اگر یہ شرط نہ ہو تو پھر ان شاء اللہ یہ معاملہ جائز ہے۔
عرب و عجم کے تقریباً 95 فیصد علماء قسطوں پر خرید و فروخت کے جواز کے قائل ہیں۔ اس مسئلے پر دلائل کی روشنی میں بڑے بڑے مباحث بھی لکھے گئے ہیں۔
تفصیلی بحث کے لیے فتاویٰ اصحاب الحدیث اور اسی طرح مجلہ البیان میں شائع شدہ متعلقہ مباحث کو دیکھا جا سکتا ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ