سوال 7488

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کہ بارے میں
ایک دوکان جس میں مختلف چیزیں رکھی ہوئی ہیں ساتھ سالگرہ کا سامان مثلآ کیک ڈیکوریشن کا سامان غبارے اور بھی سامان جو سالگرہ کے پروگرام میں استعمال کیا جاتا ہے کیا یہ سامان فروخت کرنا جائز ہے؟

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اصولی سی بات ہے کہ جو کام جائز نہیں، ان کے لیے ساز و سامان فروخت کرنا بھی جائز نہیں. لیکن ایسی اشیاء اور ساز و سامان جو کسی جائز کام میں بھی استعمال ہو سکتا ہے اور کچھ لوگ اسے ناجائز کاموں میں بھی استعمال کرتے ہیں.. تو ایسی چیزوں کو فروخت کرنے میں حرج نہیں، مثلا کیک، غبارے اور دیگر زیب و زینت کی اشیاء سالگرہ کے علاوہ بھی کسی کام میں استعمال ہو سکتی ہیں۔
ہاں اگر سالگرہ کے خصوصی چیزیں تیار کروائی جائیں، تو ان سے گریز کریں۔
ویسے ایک اضافی بات ہے کہ سالگرہ اب بعض علماء کے نزدیک بھی جائز ہو چکی ہے، لہذا جن کے نزدیک یہ کام جائز ہے، ان کے ہاں اس کے لیے خرید و فروخت کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ