سوال 7391
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ابھی بارش ہو رہی ہے بہت زیادہ
ہم لوگ اپنی فیکٹری میں موجود ہیں اور فیکٹری میں ہی جماعت ہوتی ہے سب نمازوں کی اس وقت بارش شدید تھی تو ظہر کے ساتھ عصر جمع کروا دی ہے۔ کیا یہ درست ہے؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
دیکھیں جمع تو اس صورت میں کروائی جائے گی کہ جب لوگوں کو باہر سے آنے میں دقت ہو رہی ہے۔ جب ایک فیکٹری کے اندر ہی سارے موجود ہیں باہر آندھی آئے، طوفان آئے، نماز اپنے وقت پر ہوگی۔ آپ نے تو وہیں رہنا ہے۔ یا نکل کر کہیں اور جانا ہے وہاں سے؟ ایسا تو کچھ بھی نہیں ہے۔ تو غیر ضروری طور پہ جو ہے وہ فائدہ اٹھایا گیا ہے۔ نماز بہرحال ہو گئی ہم نماز کا انکار تو نہیں کرتے مگر یہ جواز کو غیر ضروری سنت کا درجہ دے دینا۔ یہ مناسب نہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: بہت نوازش شیخ مکرم
آپ کی رائے بہت معقول ہے
جیسے سفر میں مشقت نہ ہو تو اس میں قصر والی رخصت برقرار رہتی ہے اسی کو مد نظر رکھا گیا اس معاملے میں بھی۔
جواب:السلام علیکم سفر میں مشقت اور عدم مشقت کی کوئی بحث نہیں ہے۔ سفر کو مطلقاً عذاب کا ٹکڑا کہا گیا ہے۔ اس میں مشقت ہو یا نہ ہو۔ وہاں تو دلائل موجود ہیں۔ بات یہ ہے ہم کہتے ہیں کہ نماز آپ کی ہو گئی ہے، لیکن یہ ضروری فائدہ بہت سے لوگ اٹھاتے ہیں ہمارے یہاں بھی یہ رواج ہوتا ہی جا رہا ہے تقریبا الجمع بین الصلاتین کا۔ و اللہ عالم تھوڑے دن بعد پتہ چلے گا ہم بھی مغربین ظہرین کے قائل ہو گئے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ


