سوال 7484

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک مسئلہ پوچھنا تھا، براہِ کرم کسی مستند مفتی صاحب سے اس کا جواب معلوم کر کے بتا دیجیے گا۔
ایک عورت کے بیٹے کی طبیعت بہت خراب تھی، وہ ہسپتال میں داخل تھا اور اس کا آپریشن ہونا تھا، حالت بھی نازک تھی۔ اس وقت اس عورت نے نیت کی کہ اگر میرا بیٹا صحت یاب ہو کر گھر واپس آ جائے تو میں اللہ کی رضا کے لیے ایک بکری صدقہ کروں گی۔
لیکن افسوس کہ بچہ صحت یاب نہیں ہوا بلکہ اس کا انتقال ہو گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس عورت پر وہ بکری صدقہ کرنا پھر بھی لازم ہے، یا چونکہ جس شرط پر اس نے نیت کی تھی وہ پوری نہیں ہوئی، اس لیے اب صدقہ کرنا لازم نہیں؟
براہِ کرم قرآن و حدیث اور فقہی حکم کی روشنی میں جواب بتا دیجیے گا۔ جزاکم اللہ خیراً

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
قدر اللہ وما شاء فعل
نذر تو اس عورت نے مشروط مانگی تھی کہ اگر بچہ صحت یاب ہو کر گھر واپس آ جائے گا تو میں اللہ کی رضا کے لیے ایک بکری صدقہ کروں گی۔ اب وہ شرط پوری نہیں ہوئی بلکہ اللہ تعالیٰ کی قضا غالب آ گئی اور بچے کا انتقال ہو گیا، تو اس کے ذمے اس نذر کو پورا کرنا لازم نہیں ہے۔
البتہ اگر وہ ایصالِ ثواب کے طور پر، اللہ تعالیٰ کی خوشنودی، رحمت کے حصول اور اپنے بچے کی مغفرت کے لیے راہِ للہ ایک بکری یا کوئی اور چیز صدقہ کر دیتی ہے تو یہ اچھا ہے، بلکہ اولیٰ ہے۔
باقی اس کے ذمے کچھ لازم نہیں ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ