سوال 7618

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم! ایک پوسٹ اسٹیٹس پر لگی ہوئی تھی، جس میں لکھا تھا:
“وقت برا ہو تو محنت کرنا، اور وقت اچھا ہو تو مدد کرنا۔”
اس میں وقت کو برا کہا گیا ہے۔ براہِ کرم اس بارے میں رہنمائی فرمائیں کہ کیا نبی کریم ﷺ سے کسی حدیث میں وقت کو برا کہنے کا ذکر ملتا ہے؟ یا کسی صحابی رضی اللہ عنہ سے صحیح سند کے ساتھ ایسی بات ثابت ہے؟
اگر اس بارے میں کوئی حدیث یا مستند حوالہ موجود ہو تو براہِ کرم آگاہ فرما دیں۔
جزاکم اللہ خیراً

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
مطلقا کسی دن، مہینہ، سال یا کسی گھڑی کو برا کہنا ، اسے منحوس سمجھنا حرام ہے۔
جیسے منگل کے دن سفر کرنے سے بچنا کہ یہ دن منحوس ہے۔ یہ اللہ کو ایذا دینا ہے۔
(صحیح مسلم : 5863-5866 ،دیکھیں)
البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ کوئی دن کسی کے لیے برا بنا دیا جائے ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے:

اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ رِيۡحًا صَرۡصَرًا فِىۡ يَوۡمِ نَحۡسٍ مُّسۡتَمِرٍّۙ ۞ [ القمر : 19]

ہم نے ان پر تیز و تند مسلسل چلنے والی ہوا، ایک منحوس دن میں بھیج دی.
ایک ہی دن ایک قوم کے حق میں منحوس ہوتا ہے اور وہی دن دوسری قوم کے حق میں سعد ہوتا ہے۔ مثلاً یہی دن سیدنا ہود علیہ السلام اور آپ کے پیروکاروں کے حق میں سعد تھا۔ جنہیں اللہ نے اس مصیبت سے بچا لیا تھا یا مثلاً دس محرم کا دن فرعون اور آل فرعون کے لیے منحوس تھا مگر یہ دن سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے لیے سعد اور انتہائی خوشی کا دن تھا۔
[تفسیر تیسیر القرآن،القمر: 19]
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب
دوسری بات:
پوسٹ میں موجود الفاظ کا چناؤ بہتر کرلینا چاہیے۔
باقی اگر اس میں وقت سے مراد حالات کا اچھا یا برا ہونا ہے تو درست ہے۔ فتح ،شکست، خوشی، غمی، تنگی خوشحالی کے دن لوگوں میں بدلتے رہتے ہیں ۔
[آل عمران: 140]

وتِلۡكَ الۡاَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيۡنَ النَّاسِۚ

ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب

فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ

بارك الله فيكم وعافاكم
اس نحوست وبشگونی کے متعلق حال ہی میں ایک کتاب چھپی ہے اس کا مطالعہ کافی مفید رہے گا۔

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ

سائل: بارک اللہ فیک شیخ محترم کتاب کا نام ارسال کردیں۔ جزاک اللہ خیرا
جواب: وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
معاشرتی بدشگونیاں حقیقت،نقصانات اور ان کا شرعی رد
تالیف محمد سلطان افضل
نظر ثانی وتحقیق اور مفید راہنمائی اس طالب علم کی ہے۔

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ

کتاب بہت اچھی ہے
والحمدللہ

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

شكرا لكم وبارك فيكم وعافاكم
اس میں ایک روایت نہیں نکالی گئی یے جس کی نشاندہی کی تھی میں نے اور اکثر جگہ پر سندہ صحیح،سندہ حسن لذاتہ لکھنا رہ گیا ہوا ہے اور یہ غفلت ہے کمپوزر وغیرہ کی
ہاں اس میں صرف صحیح اور حسن لذاتہ روایات کا ہی اہتمام کیا گیا ہے۔
رب العالمین اس کتاب کو
جہالت میں مبتلا لوگوں کے لئے باہر نکلنے کا ذریعہ بنا دیں۔

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ