سوال 7656
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ محترم! ایک مسئلے میں رہنمائی مطلوب ہے۔ اگر جماعت ہو رہی ہو اور ایک شخص دیر سے آئے، جبکہ ایک صف مکمل ہو چکی ہو، تو وہ پچھلی صف میں اکیلا کھڑا ہو کر امام کے ساتھ نماز شروع کر دے۔
اگر نماز کے دوران اس کے ساتھ شامل ہونے کے لیے کوئی دوسرا شخص نہ آئے اور وہ پوری نماز اکیلا ہی پچھلی صف میں مکمل کرے، تو کیا اس کی نماز درست ہوگی؟ اور امام کے سلام پھیرنے کے بعد اگر اس کی ایک یا دو رکعتیں رہ گئی ہوں تو کیا وہ انہیں اسی طرح مکمل کرے گا یا نماز دوبارہ پڑھنی ہوگی؟
براہِ کرم مکمل وضاحت فرما دیں کہ اکیلے شخص کا صف میں نماز پڑھنا شرعاً درست ہے یا نہیں۔
جزاکم اللہ خیرا
جواب
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته
اگلی صف میں جگہ ہو، پھر صف کے پیچھے اکیلے کھڑا ہونا حدیث کی رو سے منع ہے علی بن شیبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا
خَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْنَاهُ، وَصَلَّيْنَا خَلْفَهُ، ثُمَّ صَلَّيْنَا وَرَاءَهُ صَلَاةً أُخْرَى، فَقَضَى الصَّلَاةَ، فَرَأَى رَجُلًا فَرْدًا يُصَلِّي خَلْفَ الصَّفِّ، قَالَ: فَوَقَفَ عَلَيْهِ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ انْصَرَفَ، قَالَ اسْتَقْبِلْ صَلَاتَكَ، لَا صَلَاةَ لِلَّذِي خَلْفَ الصَّفِّ
ہم سفر کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور آپ کے پیچھے نماز پڑھی، پھر ہم نے آپ کے پیچھے دوسری نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کرنے کے بعد ایک شخص کو دیکھا کہ وہ صف کے پیچھے اکیلا نماز پڑھ رہا ہے، آپ اس کے پاس ٹھہرے رہے، جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، دوبارہ نماز پڑھو، جو صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی
[سنن ابن ماجہ حدیث نمبر : 1003]
اس حدیث میں بیان ہوا ہے کہ ایک شخص نے صف سے الگ اکیلے نماز ادا کی، تو نبی ﷺ نے اسے نماز دوبارہ پڑھنے کا حکم دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صف کے پیچھے اکیلے کھڑے ہو کر نماز پڑھنا درست نہیں، کیونکہ اگر نماز صحیح ہوتی تو آپ ﷺ اسے دہرانے کا حکم نہ دیتے
ہلال بن یساف نے کہا: زیاد بن ابی الجعد نے میرا ہاتھ پکڑا اور بنو اسد کے ایک شیخ کے پاس مجھے کھڑا کر دیا جن کو وابصۃ بن معبد کہا جاتا تھا، پھر کہا کہ انہوں نے مجھ سے حدیث بیان کی اور وہ شخ (وابصہ) سن رہے تھے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے “ایک شخص کو دیکھا جس نے (تنہا) آپ کے پیچھے نماز پڑھی اور صف میں نہیں ملا” ، رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نماز لوٹانے کا حکم دیا۔
[سنن دارمي حدیث نمبر : 1320]
یعنی اکیلے نماز ایسی صورت میں پڑھی جب اگلے صف میں جگہ تھی، تب نماز لوٹانے کا حکم دیا گیا۔
ایسی حالت میں نماز ادا کرنے والے کیلئے کچھ گزارشات
1 : یہ بات بھی یاد رہے کہ اگر دو آدمی جماعت کے ساتھ نماز پڑھ رہے ہوں اور اس دوران تیسرا نمازی آ جائے، تو وہ حسبِ سہولت یا تو امام کو آگے کر دے، یا مقتدی کو پیچھے آنے کا اشارہ کرکے، اپنے ساتھ کھڑا کر لے، یا امام دونوں کو پیچھے کردے، ان دونوں میں سے جو صورت آسان ہو، اس پر عمل کیا جا سکتا ہے، اس پر قیاس کرتے ہوئے بعض لوگ یہ دلیل لیتے ہیں کہ جب کوئی شخص نماز کیلئے آئے، صف میں جگہ نہیں ہو، تو وہ ایک بندہ پیچھے کھینچ سکتا ہے، لیکن یہ بات قطعی طور پر درست نہیں ہے
کیونکہ بھری ہوئی صف سے ایک بندے کو پیچھے آنے کا اشارہ کرنے سے صف میں نقص پیدا ہوتا ہے جبکہ دو لوگوں کی جماعت سے ایک آدمی کے پیچھے آنے سے صف میں خلل اور نقص پیدا نہیں ہوتا ہے، کیونکہ امام کی جگہ آگے ہی ہے، دو لوگوں کی جماعت کی وجہ سے وہ ایسے کھڑے تھے، جب تیسرا شخص آیا تو وہ صحیح صف بندی میں آنے کیلئے پیچھے ہوگیا، بذات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا ہے
ثُمَّ جِئْتُ حَتَّى قُمْتُ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَدَارَنِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ جَاءَ جَبَّارُ بْنُ صَخْرٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ فَقَامَ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْنَا جَمِيعًا فَدَفَعَنَا حَتَّى أَقَامَنَا خَلْفَهُ
پھر میں آیا اور رسول اللہ ﷺ کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا ۔ آپ نے میرے ہاتھ سے پکڑ کر مجھے گھمایا ، یہاں تک کہ مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کیا ، پھر جبار بن صخر رضی اللہ عنہ آئے ، انھوں نے وضو کیا اور آ کر رسول اللہ ﷺ کی بائیں جانب کھڑے ہو گئے ۔ آپ ﷺ نے ہم دونوں کے ہاتھ پکڑے اور ہمیں دھکیل کر اپنے پیچھے کھڑا کر دیا
[صحیح مسلم حدیث نمبر : 7516]
اب پیچھے اکیلا آدمی کیا کرے؟
بعض کہتے ہیں کہ اگلی صف سے آدمی کھینچ لے گا مگر یہ درست نہیں، جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے
اگر کوئی شخص بعد میں جماعت میں پہنچے اور وہ اکیلا ہو، جبکہ پہلی صف مکمل دکھائی دے، تو اگر اس کے لیے پہلی صف میں کسی جگہ شامل ہونا ممکن ہو، لوگوں کی صف میں فاصلہ ہو تو اس کو ختم کرے، جگہ بنائے اور صف میں شامل ہوجائے
اگر ایسا ممکن نہیں، تو وہ صف کے پیچھے اکیلا کھڑا ہو کر نماز ادا کر لے، اگر نماز کے دوران کوئی دوسرا شخص آ کر اس کے ساتھ کھڑا ہو جائے تو بہتر ہے، اگر کوئی نہیں بھی آتا تو اسکی نماز درست ہے، اسکو لوٹانے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو لوٹانے کا حکم دیا ہے جو صف میں نقص ہونے کے باوجود صف میں شامل نہیں ہوتا، اس کو نہیں جو مکمل صف کے پیچھے کھڑا ہوکر اکیلا نماز پڑھتا ہے
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب
فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ




