شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید رحمہ اللہ کا مختصر تعارف

علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید رحمہ اللہ کا نام سنتے ہی ذہن میں ایک ایسی شخصیت کا نقشہ ابھرتا ہے جس نے اپنی مختصر مگر بھرپور زندگی کے ہر لمحے کو علم تحریر خطابت اور دفاعِ دین کے لیے وقف کردیا۔ آپ کی سوانح کا مطالعہ دراصل ایک ایسے سفر کا مطالعہ ہے جو سیالکوٹ کے ایک گمنام گاؤں سے شروع ہو کر مسجد نبوی ﷺ کے منبر تک پہنچا اور بالآخر جنت البقیع کی خاک میں جا کر امر ہوگیا۔

پیدائش تاریخ اور علاقہ:
سیالکوٹ سے مشرق کی جانب تقریباً دس کلومیٹر دور ایک بستی تھی جسے “احمد پورہ” کہا جاتا تھا یہ نام شیخ احمد دین کے نام پر رکھا گیا تھا جو اس خاندان کے بزرگ اور کپڑے کے تاجر تھے۔ شیخ احمد دین کو دو شادیوں سے اولاد نہ ہوئی تیسری شادی سے اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک ہی بیٹا عطا کیا جس کا نام “ظہور الٰہی” رکھا گیا یہی حاجی ظہور الٰہی آگے چل کر علامہ احسان الٰہی ظہیر کے والدِ محترم بنے۔
حاجی ظہور الٰہی شادی سے پہلے ہی روزانہ مولانا میر ابراہیم سیالکوٹی رحمہ اللہ کے درسِ “علم اور عالمِ دین کی فضیلت” میں حاضر ہوا کرتے تھے اور اسی دوران دل میں یہ عزم پختہ ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ جو بیٹا عطا فرمائے اسے حافظِ قرآن اور خادمِ دین بناؤ گا۔ اسی آرزو کے ساتھ 31 مئی 1940ء کو خاندان میں طویل انتظار کے بعد، “لالہ جی” (شیخ احمد دین) کی نسل میں پہلا بیٹا پیدا ہوا۔ ساتویں روز بروزِ جمعہ 6 جون کو عقیقہ کیا گیا اور بچے کا نام “احسان الٰہی” رکھا گیا۔
بعض طرق سے ملتا ہے آپ کی پیدائش سے پہلے آپ کی دادی محترمہ نے خواب میں دیکھا کہ کمرے میں ایک روشنی پھیل رہی ہے اور وہ روشنی چاروں طرف بکھرتی جارہی ہے۔ جب اس خواب کا ذکر ایک عالمِ دین سے کیا گیا تو انہوں نے (إن شاء اللہ) خیر و برکت کی امید دلائی اور واقعی یہ نومولود آگے چل کر خاندان ہی نہیں بلکہ پوری امت کے لیے روشنی کا مینار ثابت ہوا۔ علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ کی جائے پیدائش سیالکوٹ کا نواحی گاؤں احمد پورہ (تحصیل و ضلع سیالکوٹ پنجاب)

علمی خانوادے کا تسلسل:
علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ اپنے پانچ بھائیوں اور پانچ بہنوں میں سب سے بڑے تھے۔ والد کی اسی خواہش سے متاثر ہو کر آپ کے برادرِ اصغر ڈاکٹر فضل الٰہی حفظہ اللہ نے بھی علمِ دین کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے ریاض یونیورسٹی اور بعد ازاں اسلام آباد کی یونیورسٹی میں عربی و اردو کی تدریس کی اور متعدد علمی کتب بھی تصنیف کیں۔ آپ کے ایک اور بھائی حافظ عبدالسلام الٰہی مکتبہ بیت السلام کے ذریعے دینی کتب کی اشاعت و ترویج میں اپنا کردار ادا کرتے رہے۔
یہ علمی چراغ صرف علامہ کے والدین کے گھر تک محدود نہ رہا بلکہ ان کی اپنی اولاد نے بھی اسے آگے بڑھایا۔ علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ تین بیٹوں اور پانچ بیٹیوں کے والد تھے۔
ان کے صاحبزادوں میں علامہ حافظ إبتسام الٰہی ظہیر علامہ ہشام الٰہی ظہیر اور علامہ معصم الٰہی ظہیر دینی علمی دعوتی اور تصنیفی سرگرمیوں سے وابستہ ہیں جبکہ دیگر اولاد اور خاندان کے افراد بھی مختلف میدانوں میں دین کی خدمت کرتے رہے۔ یوں علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید رحمہ اللہ کا خانوادہ محض ایک عالم کے گھرانے کا نام نہیں بلکہ علم دعوت، تدریس، تصنیف، اشاعت اور دینی خدمت کے ایک مسلسل سفر کی داستان ہے۔ ایک نسل نے علم کی محبت دلوں میں پیدا کی دوسری نے اسے تعلیم و تصنیف کے ذریعے آگے بڑھایا، اور تیسری نسل نے اسے دعوت، میڈیا، امامت اور اشاعت کے نئے میدانوں تک پہنچایا۔یہی کسی علمی خانوادے کی حقیقی میراث ہے کہ افراد رخصت ہوجاتے ہیں مگر ان کے ہاتھوں روشن کیا ہوا چراغ نسلوں کے ہاتھوں میں منتقل ہوتا رہتا ہے۔ علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید رحمہ اللہ دنیا سے رخصت ہوئے مگر ان کے علمی و دعوتی آثار اور ان کے خانوادے کی دینی وابستگی اس چراغ کو آج بھی روشن رکھے ہوئے ہے۔

ابتدائی تعلیم:
علامہ صاحب کے والد حاجی ظہور الٰہی نے اپنے بیٹے کی تربیت میں دینی و جسمانی دونوں پہلوؤں کا خیال رکھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ علمِ دین کے ساتھ جسمانی توانائی بھی ضروری ہے اس لیے عمدہ خوراک کا خاص اہتمام کرتے اور ورزش کی عادت ڈلواتے۔ قرآن مجید کی ابتدائی تعلیم گھر ہی میں ناظرہ سے شروع ہوئی۔
خاندان نے راوی روڈ پر ایک نیا گھر بھی بنایا تھا جہاں کی مسجد احمد پورہ کی مسجدِ اہلِ حدیث جسے “مسجد شیخاں والی” بھی کہا جاتا ہے میں علامہ شہید نے حفظِ قرآن کی منزلیں طے کیں۔ اسی مسجد میں علامہ شہید نے حفظِ قرآن کی تکمیل کے بعد پہلی مرتبہ نمازِ تراویح کی امامت کرائی یہ معمول آپ کے مدینہ یونیورسٹی جانے تک برقرار رہا۔ آپ نے دس سال کی عمر سے پہلے ہی قرآن مجید مکمل حفظ کرلیا تھا۔

دینی تعلیم کا آغاز جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ:
ابتدائی اسکولی تعلیم ایم بی پرائمری سکول دھاریانوالہ سیالکوٹ سے فراغت کے بعد والدِ محترم کی شدید خواہش پر باقاعدہ دینی تعلیم کا آغاز ہوا۔ علامہ صاحب کو جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ میں داخل کرایا گیا۔ ان دنوں جامعہ اسلامیہ میں مولانا ابوالبرکات احمد بن اسماعیل مدرس تھے جبکہ ابتدائی نحو کی کتابیں مولانا نذیر احمد رحمہ اللہ سے پڑھیں۔ اسی دوران بنیادی درسی کتب الفیہ (نحو) اصولِ تفسیر میں الفوز الکبیر، مصطلح الحدیث میں “نخبۃ الفکر” اور معانی میں “تلخیص المفتاح” ازبر کرلی تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ حاجی ظہور الٰہی کا نظریہ تھا کہ مدرسے کا کھانا (جو اکثر زکوٰۃ و صدقات سے مہیا ہوتا تھا) بیٹے کو نہیں کھلانا اس لیے سیالکوٹ سے روزانہ شیخ منیر کے ذریعے تازہ کھانا گوجرانوالہ کالا مارکیٹ (جہاں مدرسہ واقع تھا) بھجوایا جاتا تھا۔ بعد میں خاندان نے خود بھی گوجرانوالہ میں رہائش اختیار کرلی تاکہ بیٹے کی تعلیم میں سہولت رہے۔

جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں علمی استفادہ:
ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے جامعہ سلفیہ فیصل آباد کا رخ کیا۔ اس زمانے میں فیصل آباد اہلِ حدیث علوم و فنون کا ایک نمایاں مرکز تھا اور یہاں ملک کے ممتاز اہلِ علم تدریس و تحقیق میں مصروف تھے۔آپ نے یہاں بالخصوص محدث حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ سے استفادہ کیا۔ حدیث کی بنیادی کتابوں کے ساتھ ساتھ آپ نے دیگر علوم و فنون کے اساتذہ سے بھی فیض حاصل کیا۔اسی مرحلے میں آپ کے علمی مزاج میں حدیث عقیدہ منہج اور تقابلی مطالعے کی وہ بنیاد مضبوط ہوئی جس نے بعد میں آپ کی تصنیفی زندگی کو ایک خاص سمت عطا کی۔

علوم و فنون کا وسیع مطالعہ:
علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ کی علمی شخصیت کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے اپنے مطالعے کو صرف ایک فن تک محدود نہیں رکھا۔حدیث و علومِ حدیث عقیدہ فرق و مذاہب، تاریخ، عربی، فارسی، اردو، فقہ اور دیگر علوم سے استفادہ کیا۔ان کی بعد کی تصانیف سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے جن موضوعات پر قلم اٹھایا ان کے لیے صرف ثانوی مواد پر اکتفا نہیں کیا بلکہ متعلقہ فرقوں اور مذاہب کے بنیادی مراجع تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی۔

پنجاب یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم:
دینی تعلیم کے ساتھ علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ نے عصری تعلیم کے میدان میں بھی نمایاں پیش رفت کی۔1960ء سے 1963ء کے دوران آپ نے پنجاب یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی اور عربی فارسی اور اردو میں اعلیٰ تعلیمی اسناد حاصل کیں۔بعد میں آپ نے عربی اسلامیات اردو اور فارسی کے مختلف شعبوں میں اعلیٰ تعلیمی ڈگریاں بھی حاصل کیں۔
اس تعلیمی امتزاج نے آپ کی شخصیت میں ایک خاص وسعت پیدا کردی۔ ایک طرف مدارس کا روایتی علمی سرمایہ تھا اور دوسری طرف یونیورسٹی کی عصری و تحقیقی فضایہی امتزاج بعد میں آپ کی تحریروں میں بھی نظر آتا ہے۔

مدینہ منورہ کا علمی سفر:
آپ کی زندگی کا ایک نہایت اہم علمی مرحلہ مدینہ منورہ کی اسلامی یونیورسٹی میں داخلہ تھا۔1963ء میں آپ نے مدینہ منورہ کی اسلامی یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور کلیۃ الشریعہ میں تعلیم حاصل کی۔ 1967ء میں آپ نے وہاں سے شریعت کی تعلیم مکمل کی۔مدینہ منورہ کا یہ قیام آپ کی علمی زندگی کا فیصلہ کن مرحلہ ثابت ہوا۔ یہاں آپ کو عربی زبان کے ماحول کتب و مصادر تک وسیع رسائی اور عالمِ عرب کے ممتاز اہلِ علم سے براہِ راست استفادہ کا موقع ملا۔آپ نے بعد میں خود بھی علمی تصنیف کے میدان میں عربی زبان کو نمایاں حیثیت دی اور آپ کی بیشتر معروف تصانیف عربی میں سامنے آئیں۔ اسی طرح جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں زمانہ طالبِ علمی میں بھی علامہ کا واسطہ دنیا بھر سے آئے ہوئے ممتاز طلبہ سے رہا جن میں سے بعض بعد میں اپنے اپنے ممالک میں جید علماء کی حیثیت سے ابھرے۔ ان ہم مکتب احباب کی رفاقت نے علامہ صاحب کی فکری تربیت میں اہم کردار ادا کیا اور آپ کی زندگی بھر ان علماء سے دوستانہ و علمی مراسم قائم رہے۔
داخلہ غیر معمولی قابلیت کی بنا پر خصوصی انٹرویو کے ذریعے “گروپ A” میں داخلہ ملا اور آپ اس گروپ میں داخلہ پانے والے پہلے وہ واحد پاکستانی طالبِ علم تھے۔

علمی اعزاز اور غیر معمولی تعلیمی امتیاز:
علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید رحمہ اللہ کی علمی زندگی کا ایک نہایت قابلِ ذکر واقعہ وہ ہے جو زمانہ طالب علمی ہی میں ان کی غیر معمولی علمی صلاحیتوں کا آئینہ دار بن گیا۔
جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں دورانِ تعلیم آپ نے ’’القادیانیۃ دراسات وتحلیل‘‘ کے عنوان سے عربی زبان میں ایک علمی کتاب تصنیف کی۔ یہ کتاب دراصل ان علمی لیکچرز کا مجموعہ تھی جو آپ اپنے رفقائے درس کو دیتے تھے۔ فتنہ قادیانیت کے موضوع پر آپ کی گہری نظر اور وسیع مطالعے کے باعث بعض اوقات آپ اپنے اساتذہ کی عدم موجودگی میں بھی اپنے ہم جماعتوں کو اس موضوع پر درس دیا کرتے تھے۔
جب کتاب اشاعت کے مرحلے میں پہنچی تو ناشر نے تجویز پیش کی کہ مصنف کے نام کے ساتھ ’’متعلّم جامعۃ الإسلامیۃ‘‘ کے بجائے ’’متخرّج جامعۃ الإسلامیۃ‘‘ لکھ دیا جائے کیونکہ اس سے کتاب کی علمی حیثیت اور وقار میں اضافہ ہوگا۔ علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ نے اس تجویز کو اس وقت کے جامعہ اسلامیہ کے وائس چانسلر معروف عالمِ دین شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ کے سامنے رکھا۔شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے اس معاملے کو جامعہ کی گورننگ کمیٹی کے سامنے پیش کیا۔ کمیٹی نے کتاب کی علمی اہمیت اور علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ کی غیر معمولی علمی استعداد کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے انہیں دورانِ تعلیم ہی اپنی کتاب کے تعارف میں ’’متخرّج جامعۃ الإسلامیۃ‘‘ لکھنے کی اجازت دے دی۔یوں ایک عجیب اور منفرد اعزاز یہ حاصل ہوا کہ فارغ التحصیل ہونے سے پہلے ہی ایک طالب علم کو اس کی علمی قابلیت کے اعتراف میں جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کی طرف سے ’’متخرج‘‘ ہونے کا اعزاز حاصل ہوگیا۔
جب یہ سند نما اعزاز آپ کو عطا ہوا تو علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ نے شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے ازراہِ مزاح عرض کیا:
شیخ! اگر میں امتحان میں فیل ہوگیا تو اس سرٹیفکیٹ کا کیا بنے گا؟
شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے اپنے اس ہونہار شاگرد پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے بے ساختہ فرمایا:
اگر احسان الٰہی امتحان میں فیل ہوگیا تو ہم جامعہ ہی بند کردیں گے!

مدینہ یونیورسٹی میں اول پوزیشن:
علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ نے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے فراغت حاصل کی۔ اس موقع پر ان کی علمی کارکردگی نے ایک اور تاریخ رقم کی۔ جامعہ میں زیرِ تعلیم 98 ممالک کے طلبہ میں آپ نے اول پوزیشن حاصل کی اور غیر معمولی امتیازی نمبروں کے ساتھ اپنی علمی برتری ثابت کی۔ایک ایسے بین الاقوامی تعلیمی ادارے میں جہاں دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے طلبہ زیرِ تعلیم ہوں ایک عجمی طالب علم کا پوری یونیورسٹی میں نمایاں مقام حاصل کرنا یقیناً آپ کی غیر معمولی علمی استعداد، محنت اور ذہانت کا روشن ثبوت تھا۔

علامہ صاحب کے ممتاز اساتذہ کرام:
آپ نے اپنے علمی سفر میں متعدد جلیل القدر اہلِ علم سے استفادہ کیا۔
آپ کے معروف اساتذہ میں:
🔸 حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ
🔸 شیخ ابو البرکات احمد رحمہ اللہ
🔸 شیخ محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ
🔸 شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ
🔸 شیخ محمد امین شنقیطی رحمہ اللہ
🔸 شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ
🔸 شیخ عبدالقادر شیبۃ الحمد رحمہ اللہ
🔸 شیخ عطیہ محمد سالم رحمہ اللہ
🔸 مولانا شریف اللہ رحمہ اللہ
🔸شیخ ابوبکر جابر الجزائری رحمہ اللہ
🔸 شیخ عطیہ محمد سالم رحمہ اللہ
🔸 شیخ محمد عبدالوہاب البنا رحمہ اللہ
🔸 شیخ مولانا نذیر احمد رحمہ اللہ
🔸 شیخ مولانا عبدالغفار حسن

مدینہ سے واپسی اور زندگی کا آغاز:
علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید کو مدینہ یونیورسٹی سے فراغت پر آپ کو ایک اعزاز کے طور پر سعودی حکومت کی جانب سے برطانیہ میں دعوت و تبلیغ کی ملازمت کی پیشکش بھی ہوئی جسے علامہ صاحب نے اپنی خودداری اور وطن سے محبت کی بنا پر مسترد کردیا اور وطن واپسی کا فیصلہ کیا۔
مدینہ منورہ سے فراغت کے بعد آپ پاکستان واپس تشریف لائے۔ پاکستان واپسی کے بعد آپ نے کچھ عرصہ مختلف مدارس اور تعلیمی اداروں میں تدریس کی۔ اس کے ساتھ ساتھ خطابت اور دعوتی سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔ آپ کی شخصیت میں تدریس اور خطابت دونوں ساتھ ساتھ چلتے رہے تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خطابت، دعوت، تصنیف اور علمی تحقیق نے آپ کی عملی زندگی میں زیادہ نمایاں حیثیت اختیار کرلی۔

مسجد چنیانوالی میں خطابت:
لاہور کے قلب میں واقع ایک عالی شان تاریخی مسجد چینیاں والی کی بنیاد شاہ جہاں کے عہد میں گورنر لاہور سرفراز خان نے رکھی تھی۔ یہ مسجد صدیوں سے جیدِ اہلِ حدیث علماء کی خطابت کا مرکز رہی مولانا محمد حسین بٹالوی مولانا عبدالجبار غزنوی مولانا ابوالقاسم مولانا عبدالواحد غزنوی رحمہم اللہ جیسی بلند پایہ شخصیات اس کے منبر و محراب سے وابستہ رہیں۔ مولانا عبدالواحد غزنوی کی 1930ء میں وفات کے بعد ان کے بھانجے مولانا داؤد غزنوی نے 16 دسمبر 1963ء تک یہاں خطابت کی پھر مولانا محمد اسحاق رحمانی اور ان کے بعد مولانا عبدالخالق قدوسی نے چھ ماہ خطابت کی۔
اسی عظیم روایت کی کڑی کے طور پر 1974ء میں علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید مسجد چینیاں والی کے خطیب مقرر ہوئے، اور اپنی شہادت (23 مارچ 1987ء) تک یعنی مسلسل تقریباً 13 برس اسی تاریخی منبر سے خطبہ جمعہ ارشاد فرماتے رہے۔ آپ کی خطابت کی شہرت صرف لاہور تک محدود نہ رہی بلکہ مسجد نبوی ﷺ میں بھی، جب آپ وہاں کھڑے ہوکر عربی میں پرجوش تقریر کرتے، فلسطین، کشمیر اور اریٹیریا کے مسائل پر آیاتِ جہاد کی روشنی میں گفتگو فرماتے، تو سامعین میں شامل عرب بزرگ و جواں آنسوؤں سے تر ہوجاتے۔ ایک ماہرِ فن نے آپ کو “اقلیمِ خطابت کا تاجدار” کا خطاب دیا یہ لقب بجا طور پر آپ کی خطابتی عظمت کا اعتراف تھا۔

خطابت کا منفرد انداز:
علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ کی خطابت ان کی شخصیت کا نمایاں ترین پہلو تھی۔ ان کا اندازِ بیان بلند آہنگ، پُرجوش، براہِ راست اور سامع کے جذبات کو متوجہ کرنے والا تھا۔ لیکن ان کی خطابت کی بنیاد محض جوش و ولولہ نہیں تھی اس کے پیچھے وسیع مطالعہ عربی مصادر سے واقفیت، تاریخی معلومات، قرآن و حدیث سے استدلال اور موضوع پر گہری تیاری موجود تھی۔ اسی لیے ان کے خطابات میں بسا اوقات ایک ہی موضوع کے اندر قرآن کی آیات، احادیث، عربی عبارات، تاریخی واقعات اور مختلف فرقوں کی اپنی کتابوں کے حوالے یکجا نظر آتے ہیں۔ آپ کے خطابات میں قرآن و حدیث کے ساتھ ساتھ عقیدہ، توحید، سنت، ختمِ نبوت، فرق و مذاہب، اصلاحِ معاشرہ اور دیگر اہم دینی و اجتماعی موضوعات شامل ہوتے تھے۔رفتہ رفتہ آپ کے خطابات سننے کے لیے لاہور ہی نہیں بلکہ دور دراز علاقوں سے بھی لوگ آنے لگے۔
وطن واپسی پر علامہ صاحب نے اپنی زندگی کا رخ تدریس، تحریر اور تنظیمی جدوجہد کی طرف موڑ دیا۔ مجلسِ شوریٰ کے ایک اہم اجلاس میں، لارنس روڈ پر واقع مرکز میں، آپ نے پرجوش انداز میں یہ تاریخی جملے کہے: “میں اس ملک میں آزادیٔ اظہار کے لیے لڑ رہا ہوں اگر آپ لوگ اس جدوجہد میں شریک نہیں ہو سکتے تو کسی کو روکیں بھی مت میں رکنے والا نہیں۔ یہی جملے آپ کی تدریسی و تنظیمی زندگی کے آغاز کا اعلان ثابت ہوئے۔ اسی دور میں آپ نے ادارہ ترجمان السنہ کی بنیاد رکھی اور علمی و تدریسی مصروفیات کا باقاعدہ آغاز کیا۔

علمی شخصیت کے نمایاں اوصاف:
علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ کی علمی شخصیت کے چند نمایاں پہلو یہ ہیں:
1️⃣ قرآن و حدیث سے گہرا تعلق
2️⃣ عربی زبان میں علمی تحریر کی قدرت
3️⃣ مختلف فرق و مذاہب کے بنیادی مصادر کا مطالعہ
4️⃣ تحقیق و تصنیف کا ذوق
5️⃣خطابت میں قوتِ بیان
6️⃣ صحافت اور اشاعت سے وابستگی
7️⃣ عالمی سطح پر دعوتی سرگرمیاں
8️⃣ علمی موضوعات کو عوامی انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت
9️⃣ وسیع مطالعہ اور کتب سے گہری وابستگی
🔟 منبر، قلم اور دعوت کو ایک دوسرے کے معاون ذرائع کے طور پر استعمال کرنا

تصنیف و تالیف کا میدان:
علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ کی علمی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کی تصنیفی خدمات ہیں۔آپ نے اپنی مختصر مگر بھرپور علمی زندگی میں متعدد ایسی کتابیں تحریر کیں جن میں مختلف معاصر فرقوں مذہبی تحریکوں عقائد افکار اور اسلامی منہج سے متعلق مباحث کو تحقیقی انداز میں پیش کیا گیا۔آپ کی بیشتر اہم تصانیف عربی زبان میں ہیں۔ اس کا ایک بنیادی سبب یہ تھا کہ آپ اپنے علمی مباحث کو صرف برصغیر کے اردو داں طبقے تک محدود نہیں رکھنا چاہتے تھے بلکہ عرب دنیا اور عالمِ اسلام کے علمی حلقوں تک بھی پہنچانا چاہتے تھے۔آپ کی تصانیف میں قادیانیت شیعیت بہائیت بابیت بریلویت تصوف اسماعیلیہ اور دیگر فکری موضوعات کے ساتھ ساتھ اسلامی عقائد اور سنت کی حجیت سے متعلق مباحث بھی شامل ہیں۔
📚 تصانیف کی فہرست 📚
علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ کی معروف تصانیف میں بالخصوص درج ذیل کتب شامل ہیں:
1️⃣ القادیانیة: دراسات وتحلیل
2️⃣ الشیعة والسنة
3️⃣ الشیعة وأهل البیت
4️⃣ الشیعة والتشیع
5️⃣ الشیعة والقرآن
6️⃣ بین الشیعة وأهل السنة
7️⃣ البابیة: عرض ونقد
8️⃣ البهائیة: نقد وتحلیل
9️⃣ البریلویة: عقائد وتاریخ
🔟 الإسماعیلیة: تاریخ وعقائد
1️⃣1️⃣ التصوف: المنشأ والمصادر
1️⃣2️⃣ دراسة في التصوف
ان تصانیف میں سے متعدد کا اردو اور دوسری زبانوں میں ترجمے بھی ہوئے۔ الشیعة والسنة کے فارسی اور انگریزی ترجمے کا بھی ملتے ہیں جبکہ البریلویة اور القادیانیة کے انگریزی تراجم بھی دستیاب رہے ہیں۔

علمی صحافت ترجمان الحدیث:
علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ نے علمی صحافت کو بھی اپنی دعوتی زندگی کا اہم ذریعہ بنایا۔ انہوں نے 1969ء میں ترجمان الحدیث کے نام سے ایک علمی و تحقیقی رسالہ جاری کیا۔ یہ مجلہ ان کی ادارت میں مسلسل علمی و دینی موضوعات پر مواد پیش کرتا رہا اور ان کے انتقال تک ان کی علمی سرگرمیوں کا ایک اہم ذریعہ بنا رہا۔ ترجمان الحدیث کے ذریعے حدیث، عقیدہ، منہج، فرق و مذاہب، اصلاح اور معاصر فکری مسائل پر تحریری مواد سامنے آتا رہا۔

علمی تحقیقی اور دعوتی خدمات:
علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید رحمہ اللہ کی علمی و دعوتی خدمات کے نمایاں پہلو یہ ہیں:
🔸 عقیدہ و توحید:
توحید و عقیدہ کی وضاحت اور شیعیت قادیانیت، بابیت، اسماعیلیت اور دیگر باطل افکار و نظریات کا تحقیقی و مدلل رد۔
🔸 تحقیق و تصنیف:
مخالفین کی اصل کتب سے استدلال کرتے ہوئے مستند حوالہ جات کے ساتھ علمی و تحقیقی مضامین اور کتب کی تصنیف۔
🔸 حدیث و سیرت:
حدیث و سیرت کے ساتھ دفاعِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کے فضائل و مقام کا مؤثر انداز میں بیان۔
🔸 عربی زبان و ادب:
عربی زبان و ادب پر غیر معمولی عبور جس کی بنا پر عرب اہلِ علم بھی آپ کی عربی خطابت اور اسلوبِ بیان کے معترف تھے۔
🔸 فلسفہ و منطق:
فلسفہ و منطق کے دقیق مباحث پر گہری نظر اور ان موضوعات پر علمی و تنقیدی گفتگو۔
🔸 معاصر مسائل:
فلسطین، کشمیر، اریٹیریا اور عالمِ اسلام کے دیگر اہم سیاسی و سماجی مسائل پر تاریخی و تجزیاتی گفتگو۔
🔸 علمی صحافت:
ماہنامہ ترجمان الحدیث کے ذریعے علمی و تحقیقی مضامین کی اشاعت جو آج بھی علمی حلقوں میں اہمیت رکھتے ہیں۔
🔸 خطابت و دعوت:
مسجد نبوی ﷺ سمیت مختلف مقامات پر خطابات اور بڑے عوامی اجتماعات کے ذریعے دعوت و اصلاح کا پیغام عام کیا۔
🔸 تنظیمی خدمات:
جمعیت اہلِ حدیث پاکستان کی مرکزی قیادت و تنظیمِ نو اور اہلِ حدیث یوتھ فورس کے قیام و سرپرستی کے ذریعے نوجوانوں کو دعوتی و تنظیمی جدوجہد سے وابستہ کیا۔
🔸 مرکزِ دعوت:
53-لارنس روڈ لاہور کو اپنی علمی، دعوتی اور تنظیمی سرگرمیوں کا اہم مرکز بنایا۔
🔸 ملکی و اجتماعی جدوجہد:
تحریکِ بحالیِ جمہوریت (ایم آر ڈی)، شریعت بل کی تحریک اور دیگر قومی و ملی معاملات میں فعال کردار ادا کیا اور مختلف رہنماؤں کے ساتھ مل کر ملکی مسائل پر جدوجہد کی۔
🔸 عوامی رابطہ:
جلسہ ہائے عام کے وسیع سلسلے کے ذریعے عوام تک اپنا علمی دعوتی اور اصلاحی پیغام پہنچایا۔

آخری دور اور سانحہ لاہور:
23 مارچ 1987ء کو لاہور میں ایک دینی اجتماع کے دوران علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ خطاب کر رہے تھے کہ بم دھماکا ہوا۔اس دھماکے میں علامہ صاحب شدید زخمی ہوئے جبکہ متعدد دیگر افراد بھی جاں بحق اور زخمی ہوئے۔
علامہ صاحب کو لاہور میں علاج کے لیے داخل کیا گیا مگر ان کی حالت تشویش ناک رہی۔بعد ازاں علاج کے لیے انہیں سعودی عرب منتقل کیا گیا۔

ریاض میں وفات:
علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ شدید زخمی حالت میں سعودی عرب پہنچے اور ریاض میں علاج کے دوران 30 مارچ 1987ء کو وفات پاگئے۔
41 سال کی مختصر عمر میں ایک ایسی علمی و دعوتی زندگی اپنے اختتام کو پہنچی جس میں تعلیم تدریس، خطابت تصنیف صحافت اور دعوت کے کئی میدان جمع ہوگئے تھے۔

نمازِ جنازہ اور تدفین:
ریاض میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی ان کے استاد اور معروف سعودی عالم شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ نے امامت کروائی۔
بعد ازاں ان کی میت مدینہ منورہ لے جائی گئی اور جنت البقیع میں تدفین عمل میں آئی۔
جس شہر سے ان کی علمی زندگی کے اہم ترین ابواب کا آغاز ہوا تھا اسی شہر کی سرزمین نے ان کے جسدِ خاکی کو بھی اپنے دامن میں جگہ دی۔

دعا: اللہ تعالیٰ علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید رحمہ اللہ کی مغفرت فرمائے انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ان کی علمی، تحریری، خطابتی اور دعوتی خدمات کو قبولیت سے نوازے ان کے خاندان اور ان کے محبین کو ان کے نقشِ قدم پر ثابت قدم رکھے اور امتِ مسلمہ کو ان جیسے مخلص اور بےباک داعیانِ حق سے مالا مال فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

ناشر: حافظ امجد ربانی