بدعت: جو لوگ اسے نہیں جانتے، ان کے لیے
بدعت اور ابتداع کی دو قسمیں ہیں:
1️⃣《 عادات میں ابتداع 》
اس سے مراد دنیاوی عادات و معاملات میں نئی چیزیں ایجاد کرنا ہے، جیسے جدید ایجادات اور نئی ٹیکنالوجی وغیرہ۔ یہ جائز ہے، کیونکہ دنیاوی عادات و معاملات میں اصل اباحت ہے، جب تک شریعت کی طرف سے کسی چیز کی ممانعت نہ ہو۔
2️⃣《 دین میں ابتداع 》
اس سے مراد دین میں ایسا نیا طریقہ یا عمل ایجاد کرنا ہے جسے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے مشروع نہیں کیا۔ یہ حرام ہے، کیونکہ عبادات میں اصل توقیف ہے؛ یعنی کوئی عبادت اسی وقت مشروع ہوگی جب اس کی دلیل قرآن و سنت میں موجود ہو۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هٰذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ[صحيح بخاري 2697]
جس شخص نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں، وہ مردود ہے۔
اور ایک دوسری روایت میں ہے:
مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ [صحيح مسلم/كتاب الأقضية/حدیث: 4493]
جس شخص نے ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم نہیں، وہ مردود ہے۔
📛 بدعت کی اقسام
دین میں بدعت کی بنیادی طور پر دو قسمیں ہیں:
1️⃣《 قولی و اعتقادی بدعت 》
یعنی عقائد اور نظریات کے باب میں ایسا نیا عقیدہ اختیار کرنا جو کتاب و سنت کے خلاف ہو۔
مثلاً جہمیہ، معتزلہ، روافض اور دیگر گمراہ فرقوں کے باطل عقائد اور نظریات۔
2️⃣《 عبادات میں بدعت 》
یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت ایسے طریقے سے کرنا جسے اللہ تعالیٰ نے مشروع نہیں فرمایا۔
📛 عبادات میں بدعت کی اقسام
1️⃣《 عبادت کی اصل میں بدعت 》
یعنی ایسی عبادت ایجاد کرنا جس کی شریعت میں کوئی اصل موجود نہ ہو؛ مثلاً ایسی نماز، روزہ یا عید ایجاد کرنا جو شریعت میں مشروع نہ ہو، جیسے عیدِ میلاد وغیرہ۔
2️⃣《 مشروع عبادت میں اضافہ کرنا 》
یعنی کسی مشروع عبادت میں اپنی طرف سے اضافہ کر دینا؛ مثلاً ظہر یا عصر کی نماز میں جان بوجھ کر پانچویں رکعت کا اضافہ کرنا۔
3️⃣《 عبادت کی ادائیگی کی کیفیت میں بدعت 》
یعنی عبادت کو ایسے طریقے اور کیفیت کے ساتھ ادا کرنا جو شریعت سے ثابت نہ ہو؛ مثلاً مشروع اذکار کو باقاعدہ اجتماعی، مترنم اور مخصوص آوازوں کے ساتھ ادا کرنا، یا عبادت میں اپنے آپ پر ایسی سختی کرنا جو رسول اللہ ﷺ کے طریقے سے تجاوز کر جائے۔
4️⃣《 مشروع عبادت کے لیے غیر مشروع وقت مقرر کرنا 》
یعنی ایسی عبادت جو شریعت میں مطلقاً مشروع ہو، لیکن اس کے لیے اپنی طرف سے کوئی خاص وقت مقرر کر لیا جائے جسے شریعت نے مخصوص نہیں کیا؛ مثلاً شعبان کی پندرہویں رات یا دن کو خصوصی طور پر قیام یا روزے کے لیے مقرر کرنا۔
اصلِ قیام اور اصلِ روزہ تو مشروع ہیں، لیکن کسی خاص وقت کے ساتھ انہیں مخصوص کرنے کے لیے شرعی دلیل ضروری ہے۔
📛 بدعات کا ظہور کب ہوا؟
بدعات میں سب سے پہلے نمایاں ہونے والی بدعات میں:
1️⃣ بدعتِ قدر
2️⃣ بدعتِ ارجاء
3️⃣ بدعتِ تشیع
4️⃣ بدعتِ خوارج
شامل ہیں۔
یہ بدعات دوسری صدی ہجری میں ظاہر ہوئیں، جبکہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں سے جو حضرات اس زمانے میں موجود تھے، انہوں نے ان بدعات کے حاملین کا رد کیا اور ان سے براءت کا اظہار کیا۔
بعد ازاں بدعتِ اعتزال نے جنم لیا، مسلمانوں کے درمیان فتنوں اور اختلافات میں اضافہ ہوا، مختلف آراء کا غلبہ ہونے لگا اور لوگ بدعات و خواہشاتِ نفس کی طرف مائل ہونے لگے۔
پھر فضیلت والے ابتدائی ادوار کے بعد تصوف کی بدعات اور قبروں پر عمارتیں بنانے جیسی بدعات بھی ظاہر ہوئیں۔
یوں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بدعات میں اضافہ اور ان کی صورتوں میں تنوع پیدا ہوتا گیا۔
چنانچہ جو شخص کتاب و سنت سے منہ موڑ لیتا ہے، اسے گمراہ کن راستے اور نئی ایجاد کردہ بدعات اپنے گھیرے میں لے لیتی ہیں۔
📛 بدعات کے ظہور کے اسباب
بدعات کے ظہور کے اہم اسباب درج ذیل ہیں:
1️⃣《 دینی احکام سے ناواقفیت 》
2️⃣《 خواہشِ نفس کی پیروی 》
3️⃣《 شخصیات اور آراء کے ساتھ تعصب 》
4️⃣《 کفار کی مشابہت اور ان کی تقلید 》
جوں جوں زمانہ گزرتا گیا اور لوگ عہدِ رسالت کے آثار سے دور ہوتے گئے، علم کم اور جہالت عام ہوتی گئی۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا[سنن ابی داود/السنة ۶ (۴۶۰۷)]
تم میں سے جو شخص میرے بعد زندہ رہے گا، وہ بہت سے اختلافات دیکھے گا۔
اور آپ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ اللهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ الْعِبَادِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ عَالِمٌ، اتَّخَذَ النَّاسُ رُؤُوسًا جُهَّالًا، فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا [صحيح مسلم/كتاب العلم/حدیث: 6796]
اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ اسے بندوں کے سینوں سے اچانک نکال لے، بلکہ علماء کو اٹھا کر علم کو اٹھائے گا۔ یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا پیشوا بنا لیں گے۔ ان سے مسائل پوچھے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے فتوے دیں گے؛ چنانچہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔
لہٰذا بدعات کا مقابلہ علم اور علماء ہی کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ جب علم اور علماء کا فقدان ہو جاتا ہے تو بدعات کے پھیلنے اور اہلِ بدعت کے سرگرم ہونے کے لیے میدان ہموار ہو جاتا ہے۔
📛 آراء اور شخصیات کے تعصب کا نقصان
لوگوں کی آراء اور شخصیات کے ساتھ اندھا تعصب انسان اور شرعی دلیل کی پیروی اور حق کی معرفت کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنْزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ﴾ سورۃ البقرۃ: ١٧٠
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس چیز کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل فرمائی ہے تو کہتے ہیں: بلکہ ہم تو اسی طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے آباء و اجداد کو پایا ہے۔ کیا اس صورت میں بھی کہ ان کے آباء و اجداد نہ کچھ سمجھتے ہوں اور نہ ہدایت یافتہ ہوں؟
بدعات کی بعض معاصر صورتیں
زمانے کے گزرنے، علم کی کمی، بدعات کی دعوت دینے والوں کی کثرت اور کفار کی عادات و رسوم کی مشابہت کے بڑھنے کے باعث آج بدعات کی بہت سی نئی صورتیں سامنے آچکی ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7320]
تم ضرور اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں کی پیروی کرو گے۔
معاصر بدعات کی بعض مثالیں یہ ہیں:
🚫 میلاد النبی ﷺ کے نام پر مخصوص جشن و تقریبات
🚫 مقامات، آثار اور فوت شدگان سے تبرک حاصل کرنا
🚫 عبادات اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے طریقوں میں غیر مشروع اضافہ کرنا
📛 بدعت کے نقصانات
بدعات دین میں ایسی زیادتی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے مشروع نہیں فرمایا۔
بدعت انسان کو سنت سے دور کر دیتی ہے اور بعض صورتوں میں اسے حق سے بہت دور لے جاتی ہے۔
مبتدع شخص عموماً اپنی بدعت کو دین اور ثواب کا ذریعہ سمجھ کر اختیار کرتا ہے؛ اسی وجہ سے وہ اسے چھوڑنے اور اس سے توبہ کرنے کی طرف آسانی سے متوجہ نہیں ہوتا۔
اس کے برعکس عام گناہ کرنے والا شخص اکثر یہ جانتا ہے کہ وہ گناہ کا ارتکاب کر رہا ہے، اس لیے اس کے لیے توبہ کی طرف رجوع کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
بدعات سنتوں کو مٹانے کا سبب بنتی ہیں، انسان کو سنت پر عمل کرنے اور اہلِ سنت سے محبت کرنے سے دور کرتی ہیں، اللہ تعالیٰ سے دوری کا سبب بنتی ہیں، اس کی ناراضی اور عذاب کا موجب بن سکتی ہیں، اور دلوں میں کجی اور فساد پیدا کرتی ہیں۔
📚 ماخذ: شیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ، البدعة: تعريفها، أنواعها، أحكامها، ص: ٧–٤١۔
ناشر: حافظ امجد ربانی

