کائنات کا سب سے بدترین، لعنتی اور جہنمی آدمی وہ ہے جس کی کالی زبان سے اصحابِ پیغمبرﷺ محفوظ نہ ہو، کیوں؟ ————–
کیونکہ دین کامل ہمارے پاس اصحابِ پیغمبرﷺ کے واسطے سے ہی پہنچا۔
کم و بیش ایک لاکھ چوالیس ہزار اصحابِ پیغمبرﷺ میں ایک کسی ایک صحابی کی ادنیٰ سی گستاخی بھی حرام اور ناجائز ہے،
کیوں؟ ————
کیونکہ ہر صحابی نبیﷺجنتی، جنتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلیل: و کلا وعد اللہ الحسنیٰ (پارہ:٢٧، سورت الحدید، آیت کریمہ: ١٠)
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہر صحابی رسولﷺ سے الحسنیٰ یعنی جنت کا وعدہ کیا ہوا ہے،
کوئی بدبخت اور ملعون ترین گستاخ، اصحابِ پیغمبرﷺ کو اس آیتِ کریمہ سے خارج نہیں کرسکتا۔
یہ ایک الگ باب ہے کہ کس صحابی کا مقام زیادہ ہے اور کس کا کم،
اس کا مطلب یہ ہوا کہ اصحابِ پیغمبرﷺ میں بھی مقام و مرتبہ کے اعتبار سے درجہ بندی موجود ضرور ہے، لیکن۔۔۔۔۔۔۔ اول تا آخر پر صحابی جنتی ہی ہیں۔
اگر آج کا کوئی ملعون کسی صحابی کے جنتی ہونے میں شک کرتا ہے تو گویا وہ صحابی کا انکار نہیں کرتا بلکہ وہ مندرجہ بالا آیتِ کریمہ کا انکار کرتا ہے، اور آیت کا انکار ہی دراصل کفر ہے، کیوں؟؟؟
کیونکہ قرآنِ کریم منزل من اللہ ہے، جس نے اس کا انکار کیا گویا اس نے اللہ تبارک وتعالیٰ کا انکار کیا اور اللہ تعالیٰ کا انکار بالاتفاق کفر پر مبنی ہے۔
اگرچہ ہم کسی آدمی کے تکفیر و خروج کے قائل نہیں لیکن یہ بات کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ جس نے اللہ تعالیٰ کی ذات کا انکار کیا، گویا وہ دنیا کا بدترین کافر ہے، اب خواہ وہ اس کفر اکبر میں ذات باری تعالیٰ کا انکار کرکے شامل ہو جائے، ذات مصطفیٰ ﷺ کا انکار کرکے شامل ہو جائے یا پھر اصحابِ رسول کا انکار کرکے شامل ہو جائے، البتہ وہ دائرہ اسلام سے بالاتفاق خارج ہو ہی جاتا ہے۔
یاد رہے کہ اہل السنہ کے نزدیک انبیاء و رسل علیہم السلام کے بعد افضل اور واجب الاطاعت شخصیات اصحابِ رسول ہی ہیں، جن کا ادب و احترام کرنا ہر مسلمان پر فرض و واجب ہے، جو آدمی ان نفوسِ قدسیہ کا ادب نہیں کرتا وہ ان کے استاذ و مربی امام الانبیاء سیدنا محمد رسول اللهﷺ کا بھی ادب و احترام نہیں کرسکتا اور جو امامِ کائنات ﷺکی تکریم نہیں کرتا وہ خالقِ کائنات اللہ تبارک وتعالیٰ کی بھی عزت و تکریم نہیں کرتا،
اور جو ان میں کسی بھی شخصیات کا ادب و احترام نہیں کرتا وہ مسلمان و مؤمن کہلوانے کا حقدار نہیں ہوسکتا، بلکہ ہمارے نزدیک کائنات کا بدترین کافر شمار ہوگا۔۔۔۔۔۔۔
آج ایک بدترین اور لعنتی درندہ کی وفات کی خبر سن کر دل کو تسکین و راحت پہنچی جو درندہ ان نفوسِ قدسیہ کے بارے بدکلامی کرتا تھا جن کے بارے میں امام الانبیاء ﷺکے واضح دعائیہ کلمات موجود ہیں، میری مراد کاتبِ وحی، سیدنا معاویہ بن ابی سفیان اور حافظِ حدیث، فقیہ الامت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنھم
میں تو کہا کرتا ہوں کہ اگر تاریخِ اسلام میں ان دو عظیم تر، محبوبِ پیغمبرﷺ شخصیات کو نکال دیا جائے تو آدھے سے زیادہ علومِ دینیہ مسخ ہو جائے گا، کیوں؟؟؟؟؟؟
کیونکہ کاتبِ وحی، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ وہ صحابی رسول ﷺ تھے، جو قرآن کریم کے حروفِ مقدسہ کو لکھا کرتے تھے، اور سیدنا ابوہریرہ وہ عظیم ترین محدث و فقیہ تھے، جو ناطق وحی کی زبانِ مبارک سے چنیدہ الفاظ ادا ہوتے ہی قلم بند کیا کرتے تھے، یہی وہ صحابی رسولﷺ تھے، جنہوں نے اپنی کُل زندگی احادیثِ مبارکہ کے لئے وقف کردی تھی،
لیکن اگر آج کا کوئی مرتد، کافر اور زندیق ان شخصیات کے بارے اپنی غلیظ ترین زبان کو حرکت دے تو ہم ایسے ملعون کی وفات پر صرف خوشیاں ہی نہیں منائیں گے بلکہ مرنے کے بعد لعنتیں بھی برساتے رہیں گے، اور یہی ہمارے اسلاف کا طریقہ تھا کہ جب بھی کوئی بدعتی اور گستاخِ صحابہ اور بدبخت واصلِ جہنم ہوتا تو ہمارے اسلاف خوشی منایا کرتے تھے۔۔۔۔۔
ملعون و زندیق کے مرنے کے بعد یعنی کہ دنیا سے بوجھل ہلکہ ہونے پر ان کو حدیث رسولﷺ” لا تسبوا الاموات ” یاد آگئی ہے، کیا ان کو یہ حدیث یاد نہیں آئی ؟؟
کہ میرے پیغمبرﷺ نے ناطق وحی سے یہ کلماتِ مبارکہ فقط صحابہ کرام کے بارے ارشاد فرمائے تھے کہ: لا تسبوا اصحابی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔، اللہ اللہ اصحابی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری حیات مبارکہ سے لیکر آخری دم تک میرے اصحاب کو برا بھلا نہ کہنا، لیکن آج کا بدبخت ملعون ندوی گندی زبان کو حرکت دیتا ہوئے بکواس کرتا ہے کہ ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) بنو امیہ کے سرکاری مولوی تھے۔ (نعوذ باللہ من ذالک)
میں کہتا ہوں کہ جب تم نے یہ الفاظ زبان سے نکالے تھے تو تُو اس سے پہلے مر کیوں نہیں گیا، کاش کہ اس سے پہلے مرجاتا لیکن ہمیں یہ الفاظ سننے کو نہ ملتے۔
ہمارا نقظہ نظر واضح اور اٹل ہے کہ جو اصحابِ پیغمبرﷺ اور ہمارے امام، مرشد و لیڈر سیدنا محمد رسول اللهﷺ کا ادب و احترام نہیں کرتا ہمارے نزدیک اس کا کوئی احترام نہیں۔
آخری بات ۔۔۔۔۔۔۳
ہمارے نزدیک ادب و احترام اس کا ، جو صحابہ سے محبت کرے گا
جو صحابہ کا وہ ہمارا ، جو صحابہ کا نہیں وہ ہمارا بھی نہیں
لفظوں کے بیچتا ہوں پیالے خرید لو
شب کا سفر ہے، اُجالے خرید لو
ہم سے نہ ہوسکے گا، گستاخِ صحابہ کا احترام
ہماری زباں کے واسطے تالے خرید لو
✍️ یاسر مسعود بھٹی حفظہ اللہ
فاضل علوم اسلامیہ، مرکز لارنس روڈ لاہور
یہ بھی پڑھیں: مولانا سلمان ندوی: کیا لکھوں کچھ لکھا نہیں جاتا




