طالبِ علم کے لیے مفید اقوال

1️⃣۔ امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«وَلَوْ صُوِّرَ الْعِلْمُ صُورَةً، لَكَانَتْ أَجْمَلَ مِنْ صُورَةِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ».[روضة المحبين، ص: 301]

اگر علم کو ایک مجسم صورت میں پیش کیا جاتا تو اس کی صورت سورج اور چاند کی صورت سے بھی زیادہ حسین و خوب صورت ہوتی۔

2️⃣۔ امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ فَقَدْ بَايَعَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ».[مفتاح دار السعادة، 1/70]

جس شخص نے علم حاصل کرنے کا ارادہ کیا، گویا اس نے اللہ عزوجل کے ساتھ بیعت کرلی۔

3️⃣۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«إِنَّ هَذَا الْعِلْمَ هُوَ لَحْمُكَ وَدَمُكَ، وَعَنْهُ تُسْأَلُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَانْظُرْ عَمَّنْ تَأْخُذُهُ».[رواہ الخطیب فی الکفایة، ص: 21]

بے شک یہ علم تمہارا گوشت اور خون ہے، اور قیامت کے دن اسی علم کے بارے میں تم سے پوچھا جائے گا؛ لہٰذا خوب دیکھ لو کہ تم اپنا علم کس سے حاصل کر رہے ہو۔

4️⃣۔ علامہ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«وَالْوَاجِبُ عَلَى مَنْ تَهُمُّهُ نَفْسُهُ وَيَخْشَى عَلَيْهَا الْهَلَاكَ،أَنْ يَحْرِصَ عَلَى طَلَبِ الْعِلْمِ، وَحِلَقِ الْعِلْمِ، لِيَفِيدَ وَيَسْتَفِيدَ، وَلَوْ بَعُدَتْ دِيَارُهُ».[الفتاوى، 8/77]

جس شخص کو اپنی جان کی فکر ہو اور اسے اپنی ہلاکت کا اندیشہ ہو، اس پر لازم ہے کہ وہ علم حاصل کرنے اور علمی مجالس میں شرکت کرنے کی بھرپور کوشش کرے، تاکہ خود بھی فائدہ اٹھائے اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچائے، خواہ اس کے لیے کتنی ہی دور کا سفر کیوں نہ کرنا پڑے۔

5️⃣۔ ابن الصلاح رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«فَإِنَّ مَعْرِفَةَ الْإِنْسَانِ بِأَحْوَالِ الْعُلَمَاءِ رِفْعَةٌ وَزَيْنٌ، وَإِنْ جَهْلَ طَلَبَةِ الْعِلْمِ وَأَهْلِهِ بِهِمْ لَوَصْمَةٌ وَشَيْنٌ».[طبقات الفقهاء، 1/74]

انسان کا علماء کے حالات و احوال سے واقف ہونا اس کے لیے رفعت اور باعثِ زینت ہے، جبکہ طلبۂ علم اور اہلِ علم کا علماء کے حالات سے ناواقف ہونا ایک عیب اور باعثِ ننگ و عار ہے۔

6️⃣۔ محمد بن النضر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«أَوَّلُ الْعِلْمِ الِاسْتِمَاعُ، ثُمَّ الْإِنْصَاتُ، ثُمَّ حِفْظُهُ، ثُمَّ الْعَمَلُ بِهِ، ثُمَّ بَثُّهُ».[سیر أعلام النبلاء، 8/157]

علم کا پہلا مرحلہ غور سے سننا ہے، پھر خاموشی اور توجہ سے سننا، پھر اسے محفوظ کرنا، پھر اس پر عمل کرنا، اور اس کے بعد اسے دوسروں تک پہنچانا ہے۔

7️⃣۔ حافظ محمد بن ادریس الرازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«اكْتُبْ أَحْسَنَ مَا تَسْمَعُ، وَاحْفَظْ أَحْسَنَ مَا تَكْتُبُ، وَذَاكِرْ بِأَحْسَنِ مَا تَحْفَظُ». [تاریخ بغداد، 2/420]

جو کچھ تم سنتے ہو، اس میں سے بہترین بات کو لکھ لیا کرو؛ جو کچھ لکھو، اس میں سے بہترین کو یاد کرلو؛ اور جو کچھ یاد کرو، اس میں سے بہترین چیز کو باہم مذاکرہ کیا کرو۔

8️⃣۔ علامہ زید المدخلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«مِنَ الصِّفَاتِ الْخَاصَّةِ بِالتَّعَلُّمِ، اخْتِيَارُ الزُّمَلَاءِ الصَّالِحِينَ وَالْقُرَنَاءِ الْمُفْلِحِينَ، فَإِنَّ مُصَاحَبَةَ هَذَا الصِّنْفِ مِنَ النَّاسِ هِدَايَةٌ وَفَضِيلَةٌ، وَمُخَالَطَتَهُمْ غَنِيمَةٌ جَلِيلَةٌ، وَمُذَاكَرَتَهُمْ فِي فُنُونِ الْعِلْمِ لَهَا فَوَائِدُ جَزِيلَةٌ، مِنْهُمْ يُؤْخَذُ حُسْنُ الْأَدَبِ، وَمِنْ سُلُوكِهِمْ تَظْفَرُ بِخَيْرِ الْمُنْقَلَبِ، وَمِنْ خِلَالِ مُلَازَمَتِهِمْ تَحْكُمُ طَرِيقَ الطَّلَبِ».[الأجوبة السديدة على الأسئلة الرشيدة، ص: 225]

تعلیم و تعلم سے متعلق خصوصی اوصاف میں سے ایک نیک ساتھیوں اور کامیاب رفقاء کا انتخاب بھی ہے۔ ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کرنا ہدایت اور فضیلت ہے، ان کے ساتھ رہنا ایک عظیم غنیمت ہے، اور علوم کے مختلف فنون میں ان کے ساتھ مذاکرہ کرنے کے بے شمار فوائد ہیں۔ انہی سے حسنِ ادب سیکھا جاتا ہے، ان کے کردار و سلوک سے اچھا انجام نصیب ہوتا ہے، اور ان کی صحبت و رفاقت کے ذریعے علم حاصل کرنے کی راہ مضبوط اور پختہ ہوتی ہے۔

9️⃣۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«وَاللَّذَّةُ الَّتِي تَبْقَى بَعْدَ الْمَوْتِ وَتَنْفَعُ فِي الْآخِرَةِ، هِيَ لَذَّةُ الْعِلْمِ بِاللهِ وَالْعَمَلِ لَهُ».[مجموع الفتاوى، 14/162]

وہ لذت جو موت کے بعد بھی باقی رہتی ہے اور آخرت میں انسان کو فائدہ پہنچاتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنے اور اس کے لیے عمل کرنے کی لذت ہے۔

ناشر: حافظ امجد ربانی