سب صحابہ کے لیے خدارا رواداری اور اخلاقیات کے سبق نہ پڑھائیں بلکہ اپنے عقیدے کی فکر کریں

لاہور کے ایک ڈاکٹر صاحب کی تحریر پڑھنے کا اتفاق ہوا جس میں موصوف سلیمان ندوی حسینی کی وفات پر تحسینی کلمات لکھ رہے تھے اور ہمیں رواداری اور اخلاقیات کے سبق پڑھا رہے تھے کاش کہ موصوف کو یہی سبق صحابہ کے حوالے سے بھی یاد ہوتا۔
اسلام نے مسلمانوں کی عزت و آبرو کی حفاظت کا حکم دیا ہے، اس لیے عام مسلمانوں کی ذاتی کمزوریوں اور گناہوں کو ان کی وفات کے بعد اچھالنا اور ان کی تشہیر کرنا جائز نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اپنے فوت شدہ لوگوں کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہ وہ اپنے اعمال کے انجام تک پہنچ چکے ہیں۔
لیکن یہ حکم ہر شخص کے بارے میں یکساں نہیں ہے۔ جو لوگ خود کو دین کا رہنما، عالم، مصلح یا داعی بنا کر اپنے عقائد و نظریات کو حق کے طور پر پیش کرتے رہے ہوں، اور انہوں نے ایسے افکار پھیلائے ہوں جو قرآن و سنت اور اجماعِ امت کے خلاف ہوں، تو ان کے باطل نظریات کی نشاندہی کرنا اور لوگوں کو ان سے آگاہ کرنا اہلِ علم کی شرعی ذمہ داری ہے۔ اس مقصد سے ان کی غلطیوں کا ذکر کرنا نہ غیبت ہے، نہ بد اخلاقی، اور نہ ہی شقاوتِ قلبی؛ بلکہ یہ دین کی حفاظت اور امت کی خیر خواہی ہے۔
شاید حسن بصری رحمہ اللہ سے ایک قول منسوب ہے:

لَيْسَ لِصَاحِبِ الْبِدْعَةِ غِيبَةٌ۔

بدعتی (جو اپنی بدعت کا داعی ہو) کی غیبت نہیں۔
اہلِ علم نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اس کی وہ باتیں بیان کرنا جو لوگوں کو اس کے شر سے بچانے کے لیے ضروری ہوں، جائز ہے، نہ کہ اس کی ذاتی زندگی کی برائیاں اچھالنا۔
امام نووی نے غیبت کی جائز صورتیں بیان کرتے ہوئے لکھا:
ومنها: تحذير المسلمين من الشر ونصيحتهم.
غیبت کے جائز ہونے کی ایک صورت یہ ہے کہ مسلمانوں کو کسی شر سے خبردار کیا جائے اور ان کی خیر خواہی کی جائے۔
پھر فرمایا کہ راویوں پر جرح کرنا، گواہوں پر کلام کرنا، بدعتیوں اور گمراہ لوگوں سے خبردار کرنا اسی باب میں داخل ہے۔
خصوصاً اگر کوئی شخص صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم، جو اس امت کا سب سے افضل اور معزز طبقہ ہیں، ان کی شان میں گستاخی، سبّ و شتم، تہمت یا تنقیص کا مرتکب رہا ہو، اور اپنی زندگی میں اس سے توبہ بھی نہ کی ہو، تو محض اس کی وفات ہمیں اخلاقیات کے سبق نہیں پڑھاتی اور نہ ہی اس کے ان نظریات کو درست بنا دیتی، نہ ہی اسے ایسی تعظیم و تکریم کا مستحق بنا دیتی ہے کہ اس کی گمراہیوں کا ذکر کرنا ممنوع قرار دے دیا جائے۔ البتہ اس بات کا خیال ضرور رکھا جائے کہ فوت ہونے والے کو گالم گلوچ کے ساتھ ذکر نہ کیا جائے اس کی کسی صورت اجازت نہیں ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی تعریف فرمائی ہے اور ان کے بارے میں ایمان والوں کی یہ دعا سکھائی ہے:

رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا﴾ (الحشر: 10)

اے ہمارے رب! ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دے جو ایمان میں ہم سے پہلے گزر چکے، اور ہمارے دلوں میں اہلِ ایمان کے لیے کوئی کینہ نہ رکھ۔
اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لا تسبوا أصحابي، فلو أن أحدكم أنفق مثل أحد ذهبًا ما بلغ مُدَّ أحدهم ولا نصيفه (صحیح البخاری، 3673؛ صحیح مسلم، 2540)
میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہ اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کر دے تو وہ ان کے ایک مُد بلکہ آدھے مُد کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا۔
لہٰذا جو شخص صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی تنقیص اور گستاخی کو اپنا نظریہ بنائے، اس کے ان افکار کو باطل قرار دینا، ان کا علمی رد کرنا اور لوگوں کو ان سے خبردار کرنا، اس وقت تک ضروری رہے گا جب تک اس کے نظریات لوگوں میں موجود اور مؤثر ہوں۔ یہ رد کسی ذاتی دشمنی یا انتقام کے جذبے سے نہیں، بلکہ قرآن و سنت، صحابۂ کرام کے مقام کی حفاظت اور امت کو گمراہی سے بچانے کے لیے ہوتا ہے۔
البتہ اس پورے عمل میں انصاف، دیانت، علمی امانت اور عدل کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ کسی شخص پر وہ بات منسوب نہ کی جائے جو اس سے ثابت نہ ہو، نہ اس پر جھوٹ بولا جائے، نہ گالم گلوچ کی جائے اور نہ ذاتی کردار کشی کی جائے۔ صرف وہی اقوال و افکار بیان کیے جائیں جو معتبر طور پر اس سے ثابت ہوں، اور ان کا رد بھی علمی دلائل کے ساتھ کیا جائے۔ یہی اہلِ سنت والجماعت کا منہج ہے۔
لہذا جن احباب کو سب صحابہ کے مرتکب افرادکے لیے رواداری کے دورے پڑ رہے ہیں انہیں اس بات کی فکر کرنی چاہیے کہ روز قیامت وہ اللہ کو کیا جواب دیں گے جب اللہ نے ان سے پوچھا کہ حبیب کائنات اور محبوب کائنات ﷺ کی صحبت و رفاقت کے لیے جن خوبصورت لوگوں کو میں نے چنا ان کو گالیاں دینے والا شخص کیسے تمہارے لیے اچھا بن سکتا ہے؟
تو وہ کیا جواب دیں گے۔
واضح رہے کہ سلیمان ندوی حسینی صاحب سید نا ابو بکر صدیق، سید نا عمر فاروق و سید نا عثمان غنی، سیدہ عائشہ ، سید نا طلحہ و زبیر اور سید نا معاویہ رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخی کے مرتکب ہو چکے ہیں جس پر ان کی تحریریں اور ویڈیو بیانات بھی موجود ہیں۔

🖋️ ۔۔۔ فضیلۃ الشیخ فیض الابرار شاہ حفظہ اللہ

یہ بھی پڑھیں: کائنات کا سب سے بدترین، لعنتی اور جہنمی آدمی وہ ہے جس کی کالی زبان سے اصحابِ پیغمبرﷺ محفوظ نہ ہو، کیوں؟