سیکھنے کے اعتبار سے علم کی پانچ اقسام

اسلام نے علم کو محض معلومات کا انبار نہیں بنایا، بلکہ اسے ہدایت، بصیرت اور عمل کا وسیلہ قرار دیا ہے۔ قرآن و سنت میں علم کی فضیلت کے ساتھ ساتھ اس کے حصول، مقصد اور اثرات پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ اسی لیے کسی علم کا شرعی حکم صرف اس کے نام سے متعین نہیں ہوتا، بلکہ اس بات کو بھی دیکھا جاتا ہے کہ وہ علم کس مقصد کے لیے کس شخص کے لیے اور کس درجے میں حاصل کیا جا رہا ہے۔

اہل علم نے سیکھنے کے حکم کے اعتبار سے علم کو عموماً پانچ بنیادی اقسام میں تقسیم کیا ہے:

① فرضِ عین علم

فرضِ عین علم وہ علم ہے جس کا حصول ہر مکلف مسلمان، مرد ہو یا عورت، پر اپنی دینی زندگی کو درست رکھنے کے لیے لازم ہے۔ اس میں بالخصوص وہ عقائد، عبادات اور معاملات شامل ہیں جن کی ادائیگی انسان پر لازم ہو۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ»

علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔(سنن ابن ماجہ: 224)
چنانچہ جس شخص پر نماز فرض ہے، اس کے لیے نماز کے ضروری مسائل جاننا فرض ہیں؛ جس پر روزہ فرض ہے، اس کے لیے روزے کے ضروری احکام سیکھنا لازم ہیں؛ اور جو شخص تجارت کرتا ہے، اس کے لیے خرید و فروخت کے حلال و حرام اور شرعی اصولوں سے واقف ہونا ضروری ہے۔
اس کی بنیاد اصولِ فقہ کے معروف قاعدے پر ہے:

«مَا لَا يَتِمُّ الْوَاجِبُ إِلَّا بِهِ فَهُوَ وَاجِبٌ»

جس چیز کے بغیر کسی واجب کی ادائیگی مکمل نہ ہو، وہ چیز بھی واجب ہوتی ہے۔
(ابن تيمية، مجموع الفتاوى، ج 20، ص 160)

لہٰذا جس قدر دینی ذمہ داری کسی شخص پر عائد ہو، اسی قدر اس سے متعلق ضروری علم کا حصول بھی اس پر لازم ہے۔

② فرضِ کفایہ علم

فرضِ کفایہ علم وہ علم ہے جس کی ضرورت پوری امت یا معاشرے کو ہوتی ہے، لیکن ہر فرد کا اسے حاصل کرنا ضروری نہیں۔ اگر معاشرے کے کچھ اہل لوگ اس ذمہ داری کو ادا کر لیں تو باقی افراد بری الذمہ ہو جاتے ہیں، لیکن اگر کوئی بھی اس ضرورت کو پورا نہ کرے تو سب گناہ گار ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿فَلَوْلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ﴾(التوبة: 122)

پس ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلتی تاکہ وہ دین میں سمجھ حاصل کرتے اور جب اپنی قوم کی طرف واپس آتے تو انہیں ڈراتے، تاکہ وہ بچتے رہیں۔

دینی علوم میں تفسیر، حدیث، فقہ، اصولِ فقہ، عربی زبان، نحو و صرف اور دیگر تخصصی علوم کی ایسی ضرورتیں ہیں جنہیں معاشرے کے ایک طبقے کا پورا کرنا ضروری ہے۔
اسی طرح معاشرے کی دنیوی ضروریات کے لیے طب، انجینئرنگ، زراعت، معاشیات، ٹیکنالوجی اور دیگر مفید علوم بھی اپنی ضرورت اور اجتماعی مصلحت کے اعتبار سے فرضِ کفایہ کے درجے میں آ سکتے ہیں۔
اس کی حکمت یہ ہے کہ ہر شخص کا ہر شعبے میں ماہر ہونا نہ ممکن ہے اور نہ مطلوب بلکہ ایک صالح معاشرہ مختلف میدانوں کے ماہرین کا محتاج ہوتا ہے۔

③ مباح علم

مباح علم وہ علم ہے جس کا حاصل کرنا بذاتِ خود نہ شرعاً لازم ہو اور نہ ممنوع، بلکہ جائز دائرے میں ہو۔ اس کے سیکھنے پر بذاتِ خود نہ گناہ لازم آتا ہے اور نہ کوئی خاص شرعی ثواب، البتہ نیت اور نتیجے کے اعتبار سے اس کا حکم بدل سکتا ہے۔
مثلاً تاریخ، جغرافیہ، بعض ادبی علوم یا دیگر عمومی معلومات، اگر شرعی ممانعت سے خالی ہوں اور انسان کو فرائض سے غافل نہ کریں تو اصولاً مباح دائرے میں آ سکتے ہیں۔
اہلِ علم نے قرآن و سنت کے متعدد دلائل سے یہ معروف اصول اخذ کیا ہے:

«الأَصْلُ فِي الأَشْيَاءِ الإِبَاحَةُ»(الاشباہ والنظائر (امام جلال الدین السیوطی، صفحہ: 60)

اشیاء میں اصل اباحت و جواز ہے۔
البتہ یہاں ایک اہم بات پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ مباح علم بھی نیت کے اعتبار سے باعثِ اجر بن سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی جائز علم کو اللہ کی مخلوق کے فائدے، اپنی معاشی ضرورت یا دین و دنیا کی بہتر خدمت کے لیے حاصل کرے تو اس کی نیت اسے اجر کا ذریعہ بنا سکتی ہے۔

④ مکروہ علم

مکروہ علم سے مراد وہ علم یا علمی مشغولیت ہے جس میں کوئی واضح شرعی ممانعت تو نہ ہو، لیکن وہ انسان کو ایسی لایعنی بحثوں، بے فائدہ مشغولیات یا وقت کے ضیاع میں مبتلا کر دے جن سے اس کے دینی یا دنیاوی مقاصد متاثر ہوں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ»

آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ ان چیزوں کو چھوڑ دے جو اس سے متعلق نہیں۔
(جامع الترمذي: 2317)
اور نبی کریم ﷺ کی دعا تھی:

«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ»

اے اللہ! میں ایسے علم سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو نفع نہ دے۔(سنن النسائی،5469)
لہٰذا ایسی علمی مشغولیات جو انسان کی عمر کا بڑا حصہ محض بے نتیجہ مناظروں، لایعنی اعتراضات یا غیر ضروری بحثوں میں صرف کر دیں، جبکہ ضروری علوم اور عملی ذمہ داریاں نظر انداز ہو رہی ہوں، قابلِ اجتناب ہیں۔

یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ کسی علم کو محض اس کے عنوان کی وجہ سے مکروہ قرار دینا درست نہیں؛ بلکہ اس کا حکم اس کے موضوع، مقصد، ضرورت اور اس سے پیدا ہونے والے نتائج کو دیکھ کر متعین کیا جائے گا۔

⑤ حرام علم

حرام علم وہ علم ہے جس کا حاصل کرنا شریعت کی صریح ممانعت کے تحت آتا ہو، یا جس میں بذاتِ خود کفر و شرک، جادو، گمراہی یا انسانوں کو ناجائز نقصان پہنچانے کا عنصر پایا جاتا ہو۔
اللہ تعالیٰ جادو کے بارے میں فرماتے ہیں:

﴿وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ﴾ (البقرة: 102)

اور وہ ایسی چیز سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان پہنچاتی ہے اور انہیں کوئی فائدہ نہیں دیتی۔

اسی طرح ایسا علم جو انسان کو عقیدہ توحید سے منحرف کرے، باطل عقائد کی طرف دعوت دے یا صریح حرام کام کے حصول کا ذریعہ بنے، اس کا حکم بھی اس کے موضوع اور مقصد کے مطابق متعین ہوگا۔
جادو کا سیکھنا اور سکھانا اس کی واضح مثال ہے۔ اسی طرح ایسے علوم و طریقے جن کا مقصد لوگوں کو دھوکا دینا، ان پر ظلم کرنا یا ناحق نقصان پہنچانا ہو، شرعی طور پر ممنوع دائرے میں داخل ہو سکتے ہیں۔
البتہ ہر دنیوی یا نظری علم کو محض اس بنا پر حرام قرار دینا درست نہیں کہ اس میں کسی باطل نظریے کا ذکر آتا ہے۔ بسا اوقات کسی باطل نظریے کا مطالعہ اس کے رد، علمی نقد اور باطل کی معرفت کے لیے جائز بلکہ اہلِ تخصص کے لیے ضروری بھی ہو سکتا ہے۔ اصل اعتبار مقصد، طریقۂ استعمال اور شرعی نتیجے کا ہے۔

اقتباس: زوال علم کے اسباب اور ان کا سدباب از

حافظ امجد ربانی