سوال 7626

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
مشائخ کرام ایک مسئلے کے بارے میں رہنمائی فرما دیں کہ اگر خاندان میں شادی ہو تو لڑکے لڑکی کا ٹیسٹ کروانا شرعا کیسا ہے کیونکہ ڈاکٹر حضرات کہتے ہیں کہ کزن میرج کی صورت میں اکثر ایسے بچے پیدا ہوتے ہیں جن کو تھیلیسیمیا ہوتا ہے تو اس لیے شادی سے پہلے لڑکے لڑکی کا تھیلیسیمیا کا ٹیسٹ کروانا شرعا کیسا ہے اس بارے میں رہنمائی فرما دیں اللہ تعالی آپ لوگوں کو عزتوں اور برکتوں سے نوازے آمین۔

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
دیکھیں، یہ بات کہ کزن کی شادی کی صورت میں لازماً ایسے مسائل پیدا ہوتے ہیں، بدشگونی کے قبیل سے ہے۔ اسلام کی رو سے بدشگونی لینا حرام اور ناجائز ہے۔ نبی علیہ السلام نے تین دفعہ فرمایا:

«الطِّيَرَةُ شِرْكٌ»

یعنی بدشگونی لینا شرک ہے۔
لہٰذا محض اس بنیاد پر کہ کزن میرج کی وجہ سے ایسا ہوگا یا بچے میں فلاں خرابی پیدا ہوگی، اس طرح کے خیالات کو بنیاد نہیں بنانا چاہیے اور نہ بدشگونی میں مبتلا ہونا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں، توکل کی دعائیں پڑھیں اور بسم اللہ کرکے نکاح کریں۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ