سوال 7645

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
علماء کرام سے ایک مسئلے میں رہنمائی مطلوب ہے۔
امریکہ میں اس وقت کچھ ایسے کاموں کی ضرورت ہے جو ہم اپنے گھر بیٹھ کر یہاں سے انجام دے سکتے ہیں۔ ان میں:
1. میڈیکل پریسکرائبنگ: ڈاکٹر مریض کو جو نسخہ، ٹیسٹ وغیرہ تجویز کرتا ہے اور ان کے جو نتائج ہوتے ہیں، انہیں سسٹم پر اپلوڈ کرنا۔
2. میڈیکل کوڈنگ: ڈاکٹر کی طرف سے تجویز کردہ علاج یا دیگر طبی معلومات کو مخصوص میڈیکل کوڈز میں تبدیل کرنا۔
3. میڈیکل بلنگ: فراہم کردہ میڈیکل کوڈز کی بنیاد پر بل تیار کرکے انہیں انشورنس کمپنی کو بھیجنا۔
چونکہ امریکہ میں ہیلتھ کیئر کا نظام بڑی حد تک انشورنس کمپنیوں کے ذریعے چلتا ہے، اس لیے سوال یہ ہے کہ کیا ہم پاکستان میں بیٹھ کر یہ میڈیکل پریسکرائبنگ، کوڈنگ اور بلنگ کا کام انجام دے سکتے ہیں؟ کیا یہ کام شرعاً جائز ہے؟
براہِ کرم اس بارے میں رہنمائی فرما دیں۔
جزاکم اللہ خیراً

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ڈاکٹر صاحب! گزارش یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کبھی غلط نہیں ہو سکتے۔ آقا علیہ الصلاۃ والسلام کا واضح فرمان ہے کہ ایک وقت آئے گا جب لوگوں کو اس بات کی فکر نہیں ہوگی کہ میں جو مال کما رہا ہوں، وہ حلال ہے یا حرام، اور یہ مناظر اس وقت ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں۔
انسان اگر کوشش کرے تو حرام سے بچ سکتا ہے، اور حلال کے اندر برکت بھی بہت ہے۔ آپ نے جو کچھ بتایا، اس سے یہی سمجھ آتی ہے کہ یہ سارا سلسلہ بنیادی طور پر انشورنس کمپنیاں چلا رہی ہیں، اور ان کا مقصد اپنے مالی مفادات ہیں، عوام کا فائدہ نہیں۔ یہ جو کہتے ہیں کہ ہم عوام الناس کے لیے یہ خدمت کر رہے ہیں، یہ صرف ایک نام اور لیبل کی حد تک ہے۔ ورنہ اصل میں ان کا مقصد اپنی جیبیں بھرنا، اپنے دفاتر چلانا، اپنی مشہوری کرنا اور اپنے کاروبار کو فروغ دینا ہے۔
اور یہ بات طے شدہ ہے کہ انشورنس میں سود بھی ہے، جوا بھی ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر احکامات کی مخالفت بھی ہے۔
اب اگر اسے حرام نہ بھی کہا جائے، حالانکہ واضح طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ یہ حرام ہے، تب بھی آقا علیہ السلام کا فرمان ہے:

«الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ، وَبَيْنَهُمَا أُمُورٌ مُشْتَبِهَاتٌ»

حلال چیزیں بھی واضح ہیں اور حرام بھی واضح ہیں، جبکہ ان کے درمیان ایسے امور ہیں جو شکوک و شبہات میں ڈالنے والے ہیں۔

«فَمَن وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ»

جو شخص مشکوک چیز کو اختیار کرتا ہے، گویا وہ حرام میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
لہٰذا اولیٰ، افضل، بہتر اور تقویٰ کا تقاضا یہی ہے کہ ایسی چیزوں سے گریز کیا جائے۔
اور آپ کا یہ سوال کرنا بھی اس بات کی علامت ہے کہ آپ بذاتِ خود اس معاملے میں مطمئن نہیں ہیں۔ میں ذاتی طور پر آپ کو جانتا ہوں، آپ کے ساتھ ہمارا پرانا دینی تعلق ہے اور آپ اچھا خاصا دینی شعور رکھتے ہیں۔ اس لیے آپ کا یہ سوال کرنا دراصل اس بات کی علامت ہے کہ آپ اس معاملے میں خود مطمئن نہیں ہیں۔
جہاں دل مطمئن نہ ہو اور شکوک و شبہات کا شکار ہو، وہاں پرہیز ہی بہتر ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبدالرزاق زاہد حفظہ اللہ