سوال 7634
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک مسئلے کے حوالے سے رہنمائی درکار ہے دو بھائی ہیں ان میں سے ایک کا دعو ہے کہ ایک مکان یا ایک پلاٹ ہے جسے میں نے اپنے ذاتی پیسوں سے خریدا ہے جبکہ دوسرا بھائی کہتا ہے کہ میرا بھی اس میں حصہ ہے میں نے بھی اس کی آدھی رقم ادا کی ہے۔
پہلا بھائی جو کہتا ہے کہ میں نے اس کو خود خریدا ہے اسی کے نام مکان کی رجسٹری اور فرد ہے۔
جبکہ دوسرا بھائی کہتا ہے میرے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور بعد میں ایک پنچایت ہوتی ہے اس میں مسئلہ یہ ڈسکس ہوتا ہے تو پنچایت والے کہتے ہیں کہ جس کے پاس ثبوت نہیں ہے وہ قسم اٹھائے اس نے وہ کہتا ہے میں نے قسم نہیں اٹھانی ایک آدمی جو اس پنچایت میں موجود تھا وہ کہتا ہے کہ اس نے کہا تھا کہ میں نے قسم نہیں اٹھانی تو میں قسم اٹھائے بغیر ہی اس پہ اپنا دعوی کر رہا ہوں ۔
گواہ جو موجود ہے وہ کہتا ہے کہ اس کو قسم اٹھانے پہ مجبور کیا گیا کہ وہ قسم اٹھائے اگر قسم اٹھاتا ہے تو پھر اس کو اس کا حصہ دلوایا جاتا ہے اگر قسم نہیں اٹھاتا تو اس کو اپنے حصے سے جس کا وہ دعوی کر رہا ہے اسے دستبردار ہونا پڑے گا۔
تو اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں جو صحیح معاملات کے حوالے سے ہے کیا آیا جس نے قسم اٹھائی ہے وہ اس حصے کا دعوی دار ہے یا نہیں ہے۔ اگر ہے تو کتنے کا ہے؟
اس حوالے سے علمائے کرام رہنمائی فرمائیں۔
شکریہ
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ٹوک فرمایا کہ اگر صرف دعوے کی بنیاد پر لوگوں کو ان کی مانگی ہوئی چیز دے دی جائے تو لوگ جان و مال تک کے دعوے کر دیں گے۔ اس لیے محض دعویٰ کافی نہیں ہے۔
حدیث میں آتا ہے:
«الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي، وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ»
یعنی جو دعویٰ کرے گا، وہ دلیل پیش کرے گا، اور جو انکار کرے گا، وہ قسم اٹھائے گا۔
لہٰذا پنچایت بٹھائی جائے، بڑوں کو درمیان میں ڈالا جائے، علماء یا علاقے کے ذمہ دار افراد کو شامل کیا جائے، فیصلہ اسی اصول کے مطابق ہوگا۔ جو شخص دعویٰ کر رہا ہے کہ میرا بھی اس میں حصہ ہے، وہ بینہ اور گواہ پیش کرے۔ اگر وہ دلیل پیش نہ کر سکے تو دوسرا فریق قسم اٹھا لے اور بری ہو جائے، بشرطیکہ وہ سچی قسم اٹھائے کہ اس کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ پھر بات ختم ہو جائے گی۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




