دوران تعلیم جامعہ امیرہ نورہ میں کئ بار یہ معاملہ پیش آیا، اور کئ بار ہماری اساتذہ نے مجھ سے پوچھا، اور ام القرى یونیورسٹی سے ہماری بڑی بہن سے بھی پوچھا گیا، اور غیر ملکی خواتین بھی پوچھتی کہ علامہ عبد الرحمن المبارکفوری صاحب تحفة الأحوذي، علامہ عبید اللہ رحمانی مبارکپوری صاحب مرعاة المصابيح شرح مشكاة المصابيح، اور علامہ صفی الرحمن المبارکفوری صاحب الرحیق المختوم کا آپس میں قرابت کا کیا رشتہ ہے، اور ہر ایک کی منشا یہی ہیکہ میں ہی کچھ لکھ دوں کیونکہ محترم شیخ زہیر مدنی رحمہ اللہ کی وفات کے بعد یہ مسئلہ ایک بار پھر سامنے آگیا ہے کہ اپنی قرابت داریوں کی وضاحت کر دیجئے۔

لہذا کچھ مطالعہ سے ماخذ کیا ہے۔۔ کچھ اپنے بزرگوں کی یاداشت سے، اور کچھ اپنے بہنوں اورافراد خانہ سے استفسار بعد سپرد قلم ہے۔

علامہ عبد الرحمن مبارکپوری
رحمہ اللہ صاحب تحفة الأحوذي.
ولادت: ١٢٨٢ھ ۔۔1865م
وفات:١٣٥٣ھ۔۔۔1935م

نہایت نرم مزاج ، سراپا انکسار اور متواضع عالم دین تھے۔ حافظ عبد اللہ غازی پوری کے حلقہ درس میں رہے بعد ازاں انکی صلاحیتوں سے متاثر ہوکر انہیں کے مشورے پر حضرت میاں سید نذیر حسین دھلوی کے شاگرد رشید ٹھہرے۔ ان سے کسب فیض کے بعد سند فراغت لی۔ تدریس کے فرائض انجام دیے اورمتعدد کتابیں لکھیں، جن میں سے جامع الترمذی کی شرح تحفة الأحوذي، چار مبسوط جلدوں پر پھیلی ہوئی ہے یہ وہ خدمت حدیث ہے جو عرب عجم میں آپکو ایک ممتاز مرتبے فائز کرتی ہے،
علامہ عبید اللہ رحمانی مبارکپوری صاحب مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح کا شمار آپکے بیحد ذہین اور لائق شاگردوں میں ہوتا ہے۔ جب علامہ عبد الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ مکفوف البصر ہوگئے تو کتاب کی تکمیل کےلئے آپکی نظر انتخاب علامہ عبیداللہ رحمانی المبارکفوری پر پڑی، آپ نے دار الحديث کے مہتمم شیخ عطاء الرحمن سے رابطہ کیا، انہوں نے علامہ عبیداللہ رحمانی مبارکپوری کو بھیج دیا اور دوسال تک انہوں نے تحفة الأحوذي کی تیسری اور چوتھی جلد بطور معاون کام کیا۔
[تراجم علمائے اہل حدیث: 1/315]
مولانا عبد الصمد رحمانی مبارکپوری رحمہ اللہ بھی علامہ عبدالرحمن مبارکپوری کے شاگرد تھے انہوں نے آپکی ہی کتاب تحفہ الأحوذي پر بطور معاون کام کیا ہے۔

علامہ عبیداللہ رحمانی مبارکپوری والد محترم علامہ صفی الرحمن المبارکفوری صاحب الرحیق المختوم کے سگے پھوپھا ہوتے تھے ، اور علامہ عبد الصمد مبارکپوری رحمہ اللہ سگے چچا۔
علامہ عبد الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ کی کوئی اولاد نرینہ نہیں تھی اس لئے ان سے قرابت کا اصولی سلسلہ قائم نہ رہ سکا۔
=====================
زہیر بن عبد الرحمن بن عبیداللہ بن عبد السلام المبارکفوری

شیخ زہیر مدنی تھے علوم شریعہ کی تعلیم انہوں نے مدینہ پھر مکہ سے حاصل کی اور پھر بنارس میں عمر تمام تک تدریسی خدمات انجام دیتے رہے ، شاعری کا ذوق رکھتے تھے ، خوش پوش اور خوش طبیعت صلہ رحم انسان تھے علمائے دین سے مصاحبت رکھتے تھے۔ والد محترم کی عم زاد بہن اور مولانا عبد الصمد صاحب کی لڑکی عائشہ آپکی والدہ تھیں، اسطرح آپ قرابت میں میرے پھوپھی زاد بھائی تھے۔
====================

انکے والد عبدالرحمن رحمانی المبارکفوری حفظہ اللہ۔۔ ان کے نام اور علامہ عبد الرحمن مبارکپوری صاحب تحفة الاحوذي کے ہم نام ہونے کیوجہ سے بار بار التباس ہوتا ہے۔
یہ بھی شیخ الحدیث ہیں تدریسی خدمات کئ دہائیوں پر محیط ہے ، اصول حدیث پر کتاب بھی لکھی ہے ، سند اجازہ لروایة الحديث،
(نبی صلى اللہ علیہ وسلم تک )
اور سند اجازہ مُدِنبوی (جسکا سلسلہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک جاتا ہے ) تفویض کرتے ہیں۔ والد محترم کے پھوپھو زاد بھائی ہیں اور ہم عصر بھی۔
======================
انکے والد ہیں محدث كبير علامہ عبید اللہ رحمانی مبارکپوری صاحب مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح.
انکا شمار علمائے فحول میں ہوتا ہے آپ ایک بلند پایہ عالم دین اور علم حدیث میں یگانہ روزگارفنون حدیث میں خاص مہارت تھی اور عربی ادب پر بھی عبور حاصل تھا ، آپکی شخصیت ایسی تھی جسکی مثال مشکل سے ملتی ہے ، جذبہ خدمت خلق سے متصف اور مہمان نواز تھے ائمہ حدیث کی تحقیق وتصنیف میں محدثین نے جو پودا لگایا تھا اسکی آبیاری میں علامہ نے جس کاوش اور جانفشانی سے حصہ لیا تھا اہل علم اسے ہمیشہ قدرو منزلت سے دیکھتے رہیں گے۔
تقریبا 87 سال کی عمر میں وفات پائی۔ اللہ جنت الفردوس کا مکیں بنائے۔ آمین

جب انکی وفات ہوئی ہم ابھی بچپن سے سر نکال رہے تھے ، میری دادی جان (اللہ ان پر رحم فرمائے) جنکی عمر رفتہ خود صدی کے آخری سالوں کو چھو رہی تھی۔ سر پر دست شفقت رکھتیں، زمانے بھر کی اونچ نیچ اور رواداریاں سکھاتیں تھیں، لوگوں کے انساب انگلیوں پر گناتیں، وہ کہتی تھیں خود میں نے اپنے آٹھ انساب دیکھے ہیں 4 اپنے سے اوپر اور 4 نیچے ، یہ خود تم لوگوں کے سامنے میری چار پیڑھی ہے، صد سالہ بزرگی کے باوجود انکے حافظہ اور سماعت پر حرف نہ آیا تھا ، باپردہ خاتون تھیں اور نفیس کف و کالر والے دلکش لباس زیب تن کرتیں اور اپنے طبعی حسن سے محفلِ خواتین کی منظور نظر ٹھہرتی تھیں ، قرب و جوار کی خواتین رسم رواج شادی بیاہ کے سلسلے اور معاملات میں ان سے مشورہ کرتی تھیں، اس وقت انکے ایک ہلکے اشارے پر ہم جیسے کم سن لوگ محفل بدر کئے جاتے تھے۔

دھوپ دیکھ کر بالکل ٹھیک وقت کا اندازہ لگا لیتی تھیں اور واقعتا گھڑی اتنا ہی بجا رہی ہوتی جتنا وہ بتاتی تھیں، ہم پوچھتے تو کہتیں ہم گھڑیوں کے زمانے لوگ تھوڑی ہیں ، ایام شمسی قمری ، تاریخ ، سن ، تہوار مسلموں کا ، غیر مسلموں کا سب انکو ازبر ہوتا تھا ، ہم انہیں چلتی پھرتی یونیورسٹی کہتے جس پر وہ محظوظ ہوتی تھیں اور مسکراتی تھیں، ہمیں گاہے گاہے ماں کے حکم پر دعا سلام وصول کرنے کے لئے اور شفقت پانے کےلئے انکی گود میں گھسنا پڑتا تھا وہ عام عورتوں کیطرح شکوہ بالکل نہیں کرتی تھیں، نہایت صابرہ ، شاکرہ ، خوش باش ، ملنسار خاتون تھیں، وہ علامہ عبیداللہ رحمانی کو بڑے مولوی صاحب کہہ کر انکا بہت ذکر خیر کرتی رہتی تھیں، اور ہمیں انکے قصے سنایا کرتی تھیں۔ انکی اہلیہ (دادی کی نند ) ابھی حیات تھیں۔ میں نے ملاقات کی خواہش ظاہر کی والدہ محترمہ نے عورتوں کو حکم دیا اور دوسرے ہی دن بھرے پرے خاندان کی خواتین کی لجنہ تشکیل پائی اور علامہ صاحب کے گھر کا رخ کیا۔ علامہ صاحب کی اہلیہ عمر رواں اور کہولت کی آخری منزل کو چھو رہی تھیں ان کا حافظہ کمزور ہوگیا تھا۔ میرا بچپنا تھا میں خاموش کھڑی تھی سب نے والد محترم کا نام لیکر باری باری میرا تعارف کرایا مگر وہ پہچان نہ سکیں اور اپنے بہت پہلے کے احوال سہیلیوں اور وہاں کے باغات اور سیلاب کے متعلق پوچھنے لگیں پھر بے بس ہوکر رونے لگیں۔ یہی میری ان سے پہلی اور آخری ملاقات تھی۔ رحمہم اللہ جمیعا
====================

علامہ عبد السلام مبارکپوری رحمہ اللہ صاحب سیرة البخاري.

یہ علامہ عبیداللہ رحمانی مبارکپوری کے والد محترم ہیں۔ براہ راست علامہ عبد الرحمن مبارکپوری صاحب تحفہ الأحوذي کے شاگرد ہونے کے ساتھ ساتھ سید میاں نذیر حسین دھلوی اور شیخ حسین عربی یمانی کے شاگرد رشید ہیں۔
مطالعہ کتب کے بیحد شائق تھے ، اور علمائے کرام کی سوانح میں بالخصوص دلچسپی رکھتے تھے ، مولانا امرتسری رحمہ اللہ کے اخبار ” اہل حدیث ” برصغیر کے 82 علماء کا تذکرہ انہیں کی مساعئ جمیلہ کا نتیجہ ہے۔
“سیرة البخاري” امام المحدثين/امير المؤمنين في الحديث محمد بن اسماعيل البخاري رحمه الله تعالى کے احوال زندگی اور علمی خدمات پر ایک بے نظیر شاہکار کتاب ہے اسکی تالیف کا پس منظر یہ ہیکہ مولانا شبلی نعمانی نے اپنی کتاب ” سيرة النعمان ” امام ابو حنیفہ کی سوانح میں ، محدثین پر عموما اور امام بخاری پر خصوصا تنقید کی ہے تو ” مولانا ابو الطیب محمد شمس الحق عظیم آبادی صاحب عون المعبود فی شرح سنن ابي داؤد ” نے علامہ عبد السلام المبارکفوری سے “سیرة البخاري” لکھوائی۔

آپ کوئی کتاب دیکھتے اسے خریدنے کے لئے کوشاں رہتے، کتابوں سے دلچسپی اور ذوق مطالعہ ہی آپکی موت کا باعث بنا ، ایک روز آپ دہلی کی جامع مسجد کے علاقے سے ایک کتاب خرید کر چاندنی چوک کے قریب سے روڑ عبور کر رہے تھے کہ اچانک ایک تیز رفتار گھوڑا گاڑی آئی جس پر نہ کوئی سوار تھا اور نہ ہی کوچوان تھا وہ روندتے ہوئے آپکے اوپر سے گزر گیا ، جس سے موقع پر ہی آپکی وفات ہوگئ، سبز رنگ کے ٹائیٹل والی کتاب آپکے ہاتھ میں تھی جو اب خون میں سرخ ہوچکی تھی ، شنید ہیکہ سبز اور سرخ رنگت کی یہ کتاب اب بھی آپکے مکتبہ میں موجود ہے۔ یہ حادثہ 24 فروری 1924 کو پیش آیا تھا۔
=================
والد محترم علامہ صفی الرحمن المبارکفوری۔ صاحب کتاب الرحیق المختوم۔ 1942: 2006
جب سیرت نبوی کے لئے مسابقے کا اعلان ہوا آپ نے ایک مختصر خبر کراچی اسٹیشن پر ایک ٹرین کے انتظار میں ایک جریدے میں پڑھی۔
جب جامعہ سلفیہ بنارس پہنچے تو طلبہ کا ایک ہجوم تھا جو آپ سے اس مقابلہ میں شمولیت کا اصرار کر رہا تھا آپ نے اپنے استاد علامہ عبید اللہ رحمانی مبارکپوری کی چوکھٹ پر شرف باریابی بخشی ، معاملہ انکے گوش گزارا ، انہوں نے شفقت فرمائی اور گویا ہوئے کہ ” انعام نہ سہی ، سیرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ پر ایک کتاب تو تیار ہو جائے گی”
کہتے ہیں پھر مجھے شرح صدر عنایت ہوا اور میں نے 5 ماہ کے اندر مکمل کتاب لکھ ڈالی۔
رحمهم الله جميعا واسكنهم فسيح جناته.

بقلم #عطیہ_العبيرالمبارکفوری

یہ بھی پڑھیں:شیخ الحدیث مولانا شمعون عابد بلوچ رحمہ اللہ کا تعارف