الشیخ العلامة المحدث الفقیہ عبدالمحسن بن حمد العباد البدر حفظہ اللہ کا مختصر تعارف
شیخ سلیمان الرحيلي حفظہ اللہ فرماتے ہیں:
من أين لك بالشيخ عبد المحسن، جبل من جبال العلم، رجل ملأ علما، رزقه الله عز وجل العلم والزهد۔
تمہیں شیخ عبدالمحسن جیسے عالم کہاں سے ملیں گے! وہ علم کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ ہیں ایسے شخص ہیں جن کا دامن علم سے لبریز ہے۔ اللہ عزوجل نے انہیں علم اور زہد دونوں سے نوازا ہے۔
عصرِ حاضر کے علمی افق پر بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی زندگی محض درس و تدریس کی ایک طویل داستان نہیں ہوتی، بلکہ وہ ایک پورے علمی عہد کی ترجمان بن جاتی ہیں۔ ان کے شب و روز کتاب و سنت کی تعلیم، طلبۂ علم کی تربیت، علمی تحقیق، دعوتِ دین اور اصلاحِ امت میں بسر ہوتے ہیں۔ شیخ العلامہ المحدث الفقیہ عبدالمحسن بن حمد العباد البدر حفظہ اللہ بھی انہی جلیل القدر اہلِ علم میں سے ہیں، جنہوں نے اپنی طویل علمی زندگی کا بڑا حصہ حدیثِ رسول ﷺ کی تدریس، شرحِ کتبِ حدیث، عقیدہ، فقہ، دعوت، تصنیف اور طلبۂ علم کی تربیت میں صرف فرمایا۔
شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ کی علمی شخصیت کا سب سے روشن پہلو حدیثِ نبوی ﷺ سے غیر معمولی تعلق ہے۔ مدینہ منورہ کی علمی فضا، جامعہ اسلامیہ کے ابتدائی تعلیمی دور اور مسجد نبوی ﷺ کے حلقاتِ درس نے ان کی علمی زندگی کو ایک منفرد امتیاز عطا کیا۔ انہوں نے نہ صرف کتبِ حدیث کی تدریس کی بلکہ نصف صدی سے زائد عرصے تک طلبہ کی علمی و تربیتی رہنمائی فرمائی۔ ان کی اپنی تحریر کے مطابق جامعہ اسلامیہ میں ان کی تدریسی مدت پچاس سال مکمل ہوئی اور مسجد نبوی ﷺ میں کتبِ ستہ کی تدریس بھی مکمل فرمائی۔
آپ کی ان گراں قدر علمی و دینی خدمات کے اعتراف میں آپ کو شہزادہ نایف بن عبدالعزیز آل سعود ایوارڈ برائے سنتِ نبوی ﷺ اور معاصر اسلامی مطالعات سے بھی نوازا گیا، جس کی تقریب خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی سرپرستی میں منعقد ہوئی۔قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ شیخ حفظہ اللہ نے اس انعام کی رقم اپنے ضرورت مند طلبہ پر خرچ کر دی، جن کی تعداد اس وقت تقریباً دو ہزار طلبہ بیان کی گئی ہے۔
نام و نسب:
آپ کا نام:عبدالمحسن بن حمد بن عبدالمحسن بن عبد الله بن حمد بن عثمان آل بدرہے۔
آپ عبدالمحسن العباد کے نام سے بھی معروف ہیں، جبکہ البدر خاندانی نسبت ہے۔
ولادت اور ابتدائی نشوونما:
شیخ عبدالمحسن العباد البدر حفظہ اللہ 1353ھ میں الزلفی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے میں حاصل کی، پھر علمی تشنگی کو سیراب کرنے کے لیے ریاض کا رخ کیا۔ بعض کے مطابق آپ نے الزلفی میں ابتدائی تعلیم کے بعد معہدِ علمی ریاض اور پھر کلیۃ الشریعۃ ریاض میں تعلیم حاصل کی۔
ابتدائی ہی زمانے سے علم سے گہری رغبت، مطالعے کا ذوق اور اہلِ علم سے استفادہ آپ کی شخصیت کا نمایاں وصف بن گیا۔ یہی علمی شوق آگے چل کر ایک ایسی زندگی میں تبدیل ہوا جس کا بیشتر حصہ تعلیم و تدریس اور خدمتِ حدیث میں گزرا۔
معہدِ علمی ریاض اور کلیۃ الشریعۃ:
شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ نے معہدِ علمی ریاض میں بنیادی و متوسط دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد کلیۃ الشریعۃ ریاض میں اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کی۔
اسی علمی دور میں آپ کو اپنے زمانے کے متعدد اکابر علماء سے استفادہ کا موقع ملا۔ آپ کی علمی شخصیت کسی ایک فن یا ایک استاد کے اثر کا نتیجہ نہیں بلکہ مختلف علوم کے ماہرین کی صحبت، مسلسل مطالعے، تدریس اور علمی مشاغل کے مجموعی اثرات سے تشکیل پائی۔
ممتاز اساتذہ کرام:
آپ نے اپنے دور کے متعدد جلیل القدر علماء سے استفادہ کیا، جن میں بالخصوص:
🔸 شیخ محمد بن ابراہیم آل الشیخ رحمہ اللہ
🔸 شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ
🔸 شیخ محمد الامین الشنقیطی رحمہ اللہ
🔸 شیخ عبدالرحمن الإفریقی رحمہ اللہ
🔸 شیخ عبدالرزاق عفیفی رحمہ اللہ
جیسے اکابر اہلِ علم شامل ہیں۔
ان بزرگوں کی علمی مجالس سے استفادہ نے آپ کے اندر قرآن و حدیث، فقہ، عقیدہ اور علمی تحقیق کا ایسا مزاج پیدا کیا جس کی جھلک بعد کی پوری زندگی میں نمایاں نظر آتی ہے۔
تدریسی زندگی کا آغاز:
شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ نے 1379ھ میں باقاعدہ تدریسی خدمات کا آغاز فرمایا۔
ابتدا میں معہدِ علمی بریدہ میں تدریس کی، پھر 1380ھ میں معہدِ علمی ریاض میں تدریسی ذمہ داری سنبھالی۔ خود شیخ کی بیان کردہ یادداشتوں کے مطابق انہوں نے اپنی تعلیم مکمل ہونے سے پہلے ہی تدریس شروع کردی تھی اور بعد میں قضاء کے بجائے تدریس کے شعبے کو اختیار کرنے کو ترجیح دی۔
یہ انتخاب محض ایک ملازمت کا انتخاب نہیں تھا بلکہ ایک ایسے علمی سفر کا آغاز تھا جس نے آگے چل کر مدینہ منورہ کی علمی تاریخ میں نمایاں مقام حاصل کیا۔
جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے ابتدائی اساتذہ میں:
جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے قیام کے وقت شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ اس کے ابتدائی اساتذہ میں شامل ہوئے۔
جامعہ کے افتتاح کے موقع پر آپ نے کلیۃ الشریعۃ میں پہلا درس دینے والے اساتذہ میں ہونے کا شرف حاصل کیا۔ خود شیخ کے بیان کے مطابق جامعہ میں تدریس کا آغاز 1381ھ میں ہوا اور وہ ان ابتدائی اساتذہ میں شامل تھے جنہوں نے جامعہ کے تعلیمی سفر کے پہلے ہی دن درس دیا۔
یہ وہ زمانہ تھا جب جامعہ اسلامیہ اپنے ابتدائی مرحلے میں تھا اور دنیا بھر سے طلبۂ علم مدینہ منورہ کا رخ کرنے لگے تھے۔ بعد کے ادوار میں یہی طلبہ مختلف ممالک میں علم و سنت کے سفیر بن کر پھیل گئے۔
شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ سے طویل علمی رفاقت:
شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ کی علمی زندگی کا ایک نہایت اہم باب شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ سے تعلق ہے۔
شیخ ابن باز رحمہ اللہ جب جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے سربراہ تھے تو شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ نے ان کے ساتھ علمی و انتظامی میدان میں طویل عرصہ کام کیا۔ شیخ عبدالمحسن العباد کے اپنے بیان کے مطابق انہیں شیخ ابن باز رحمہ اللہ کی رفاقت تقریباً چودہ سال حاصل رہی اور وہ اس عرصے میں جامعہ کی مجلس کے رکن بھی رہے۔
یہ تعلق محض ادارہ جاتی نوعیت کا نہ تھا بلکہ علمی صحبت، باہمی اعتماد اور خدمتِ دین کے ایک طویل سفر پر مشتمل تھا۔
نائب رئیسِ جامعہ اسلامیہ:
1393ھ میں شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ کو نائب رئیس الجامعۃ الإسلامیۃ بالمدینۃ المنورۃ مقرر کیا گیا۔
آپ تقریباً چھ سال اس ذمہ داری پر فائز رہے۔ شیخ کی اپنی تحریر کے مطابق 1395ھ میں شیخ ابن باز رحمہ اللہ کے ریاض منتقل ہونے کے بعد جامعہ کی انتظامی ذمہ داری میں آپ کا کردار مزید نمایاں ہوا، یہاں تک کہ 1399ھ میں آپ نے اپنی درخواست پر اس انتظامی ذمہ داری سے علیحدگی اختیار کی۔
انتظامی ذمہ داریوں کے باوجود آپ نے تدریس کا سلسلہ منقطع نہیں کیا۔ خود شیخ بیان کرتے ہیں کہ جامعہ کی انتظامی ذمہ داری کے چھ سالہ عرصے میں بھی انہوں نے ہر ہفتے کلیۃ الشریعۃ میں دو محاضرے جاری رکھے۔
مسجد نبوی ﷺ میں تدریسِ حدیث:
شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ کی علمی زندگی کا سب سے روشن اور نمایاں باب مسجد نبوی ﷺ میں تدریسِ حدیث ہے۔
آپ نے محرم 1406ھ سے مسجد نبوی ﷺ میں کتبِ حدیث کی تدریس شروع فرمائی اور طویل عرصے تک یہ علمی خدمت انجام دیتے رہے۔ شیخ کی اپنی تحریر کے مطابق اس سفر کا آغاز صحیح مسلم سے ہوا، پھر صحیح بخاری، سنن نسائی، سنن ابی داود، جامع ترمذی اور سنن ابن ماجہ کی تدریس مکمل کی۔
یہ خدمت اپنی نوعیت میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ ایک عالم نے مسجدِ رسول ﷺ میں بیٹھ کر نسلوں کے طلبۂ علم کو حدیثِ رسول ﷺ کے بنیادی مجموعات پڑھائے۔
کتبِ ستہ کی جامع تدریس:
شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ کی علمی خدمات کا ایک عظیم امتیاز کتبِ ستہ کی تدریس ہے:
📚 صحیح البخاری
📚 صحیح مسلم
📚 سنن أبي داود
📚 جامع الترمذي
📚 سنن النسائي
📚 سنن ابن ماجه
شیخ نے ان کتب کی تدریس محض روایتِ حدیث کے طور پر نہیں کی بلکہ متن، سند، رجال، فقہی فوائد، عقائد، آداب اور عملی رہنمائی کے پہلوؤں کو بھی سامنے رکھا۔
ان کی سرکاری ویب سائٹ پر بھی حدیث، فقہ، عقیدہ اور آداب و اخلاق کے مستقل دروس موجود ہیں، جو ان کے علمی مشاغل کے تنوع کی واضح عکاسی کرتے ہیں۔
علمِ حدیث سے خصوصی تعلق:
شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ کی علمی شناخت بالخصوص علمِ حدیث سے وابستہ ہے۔
حدیث کے متن کے ساتھ اسانید، رواۃ، رجال، فقہی استنباط اور ائمہ حدیث کے مناہج سے ان کی خصوصی دلچسپی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے دروس میں حدیث محض ایک روایت کے طور پر نہیں بلکہ دین کے فہم اور عملی زندگی کی رہنمائی کے بنیادی ماخذ کے طور پر سامنے آتی ہے۔آپ کی طویل حدیثی تدریس نے دنیا کے مختلف ممالک سے آنے والے بے شمار طلبہ کو فائدہ پہنچایا۔
عقیدہ و منہج:
شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ کتاب و سنت اور فہمِ سلف کی دعوت دینے والے معروف اہلِ علم میں شمار ہوتے ہیں۔آپ کے علمی مباحث میں:
🔸 توحید
🔸 اتباعِ سنت
🔸 اسماء و صفات
🔸 ایمان
🔸 صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت
🔸 اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کی توقیر
🔸 بدعات سے اجتناب
🔸 دلیل کی پیروی
جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔
آپ کے ہاں علمی منہج کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ دلیل کی پیروی کے ساتھ اہلِ علم کا ادب اور باہمی عدل بھی ملحوظ رکھا جائے۔
صحابہ و اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کی محبت:
شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کے فضائل اور مقام پر مستقل تصانیف بھی تحریر فرمائی ہیں جن میں:
📚 عقيدة أهل السنة والجماعة في الصحابة الكرام۔ اور:
📚 فضل أهل البيت وعلو مكانتهم عند أهل السنة والجماعة
قابلِ ذکر ہیں۔
ان تحریروں میں اہلِ سنت کے منہج کے مطابق صحابہ و اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کے مقام، فضائل اور ان کے بارے میں اعتدال و انصاف کو واضح کیا گیا ہے۔
علماء کا ادب اور علمی انصاف:
شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ کی علمی شخصیت میں علماء کی توقیر اور علمی انصاف نمایاں ہے۔آپ کے ہاں یہ توازن ملتا ہے کہ عالم سے علمی خطا کا امکان تسلیم کیا جائے، مگر کسی ایک مسئلے میں اختلاف کو بنیاد بنا کر اس کی پوری علمی خدمات کو نظر انداز نہ کیا جائے۔
دلیل کی پیروی بھی ہو، اہلِ علم کا ادب بھی ہو
حق کی حفاظت بھی ہو، انصاف کا دامن بھی ہاتھ سے نہ چھوٹے۔یہی متوازن علمی مزاج آپ کی دعوت و تصنیف میں نمایاں دکھائی دیتا ہے۔
شیخ ابن باز رحمہ اللہ پر تصنیف:
شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ نے اپنے شیخ اور رفیقِ علمی شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ کی علمی و دعوتی زندگی پر بھی قلم اٹھایا۔
آپ کی معروف تصنیف:
📚 الشيخ عبد العزيز بن باز نموذج من الرعيل الأول ہے۔
یہ اصل میں جامعہ اسلامیہ میں پیش کیے گئے ایک علمی بیان سے مرتب ہوئی اور اس میں شیخ ابن باز رحمہ اللہ کے نسب، نشوونما، اساتذہ، تلامذہ، علمی خدمات، عبادت، تصانیف اور شیخ عبدالمحسن العباد کے ساتھ ان کے خصوصی تعلق سمیت مختلف پہلوؤں کا ذکر ہے۔
تصنیفی خدمات:
شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ نے تدریس کے ساتھ تصنیف و تألیف کے میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔آپ کی تصانیف میں حدیث، عقیدہ، صحابہ، اہلِ بیت، سنت، بدعت، سیرت اور علمی و دعوتی موضوعات شامل ہیں۔
📚 کتب و رسائلِ علامہ عبدالمحسن بن حمد العباد البدر حفظہ اللہ📚
📖 قرآنِ کریم
1. آیاتِ متشابہات فی القرآن الکریم وکیف التمییز بینہا
2. من کنوز القرآن الکریم
📚 حدیث و علومِ حدیث
3. عشرون حدیثًا من صحیح البخاری، دراسة أسانیدہا وشرح متونہا
4. عشرون حدیثًا من صحیح مسلم، دراسة أسانیدہا وشرح متونہا
5. شرح حدیث جبریل فی تعلیم الدین
6. فتح القوی المتین فی شرح الأربعین وتتمۃ الخمسین للنووی وابن رجب رحمہما اللہ
7. کیف نستفید من الکتب الحدیثیۃ الستۃ
8. اجتناء الثمر فی مصطلح اہل الأثر
9. دراسة حدیث: «نَضَّرَ اللّٰهُ امْرَأً سَمِعَ مَقَالَتِي» روایۃً ودرايۃً
📚عقیدہ
10. قطف الجنی الدانی شرح مقدمۃ رسالۃ ابن أبي زید القیروانی
11. عقیدۃ اہل السنۃ والجماعۃ فی الصحابۃ الکرام رضی اللہ عنہم
12. التحذیر من تعظیم الآثار غیر المشروعۃ
13. الحث علی اتباع السنۃ والتحذیر من البدع وبيان خطرہا
14. عقیدۃ اہل السنۃ والأثر فی المہدی المنتظر
15. مقدمۃ وتعلیقات علی تطہیر الاعتقاد وشرح الصدور
📚 فقہ
16. أہمیۃ العنایۃ بالتفسیر والحدیث والفقہ
17. منہج شیخ الإسلام محمد بن عبد الوہاب فی التألیف
18. شرح شروط الصلاۃ وأرکانہا وواجباتہا
19. شرح کتاب آداب المشی إلی الصلاۃ
📚 اخلاق، فضائل، آداب اور تراجم
20. من أخلاق الرسول الکریم ﷺ
21. فضل الصلاۃ علی النبی ﷺ وبيان معناہا وکیفیتہا وشیء مما أُلِّف فیہا
22. فضل أہل البیت وعلو مکانتہم عند أہل السنۃ والجماعۃ
23. فضل المدینۃ وآداب سکناہا وزیارتہا
24. ثلاث کلمات فی الإخلاص والإحسان والالتزام بالشریعۃ
25. أثر العبادات فی حیاۃ المسلم
26. العبرۃ فی شہر الصوم
27. من فضائل الحج وفوائدہ
28. بأي عقل ودین یکون التفجیر والتدمیر جہادًا؟
29. بذل النصح والتذکیر لبقایا المفتونین بالتکفیر والتفجیر
30. رفقًا أہل السنۃ بأہل السنۃ
31. العدل فی شریعۃ الإسلام ولیس فی الدیمقراطیۃ المزعومۃ
32. کیف یؤدی الموظف الأمانۃ؟
33. من أقوال المنصفین فی الصحابی الخلیفۃ معاویۃ رضی اللہ عنہ
34. عالم جَہبذ وملک فَذ
35. الشیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ نموذج من الرعیل الأول
36. الشیخ محمد بن عثیمین رحمہ اللہ من العلماء الربانیین
37. الشیخ عمر بن محمد فلاتہ رحمہ اللہ وکیف عرفتہ
📚 علمی ردود
38. أغلو فی بعض القرابۃ وجفاء فی الأنبیاء والصحابۃ؟
39. الانتصار للصحابۃ الأخیار فی رد أباطیل حسن المالکی
40. الانتصار لأہل السنۃ والحدیث فی رد أباطیل حسن المالکی
41. الدفاع عن الصحابی أبي بکرۃ رضی اللہ عنہ ومرویاتہ، والاستدلال لمنع ولایتِ النساء علی الرجال
42. الرد علی الرفاعی والبُوطی فی کذبہما علی أہل السنۃ ودعوتہما إلی البدع والضلال
43. الرد علی من کذّب بالأحادیث الصحیحۃ الواردۃ فی المہدی
44. الفوائد المنتقاۃ من فتح الباری وکتب أخری۔
اس کے علاوہ آپ کے دروس، محاضرات، مقالات اور علمی جوابات کا ایک وسیع ذخیرہ موجود ہے، اور آپ کی اپنی ویب سائٹ پر حدیث، فقہ، عقیدہ، آداب و اخلاق اور عمومی دروس کے مستقل ابواب موجود ہیں۔
علمی منہج کی نمایاں خصوصیات:
شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ کی علمی زندگی کے مطالعے سے چند نمایاں خصوصیات سامنے آتی ہیں:
① کتاب و سنت سے مضبوط وابستگی
ہر علمی بحث کو اصل شرعی مصادر سے مربوط رکھنا۔
② حدیث سے خصوصی شغف
متونِ حدیث کے ساتھ اسانید، رجال، علل اور فقہی فوائد پر توجہ۔
③ علم اور عمل کا امتزاج
علم کو محض معلومات کا ذخیرہ نہیں بلکہ عمل اور اصلاح کا ذریعہ سمجھنا۔
④ سلف صالحین کے فہم کی رعایت
نصوص کے فہم میں صحابہ، تابعین اور ائمۂ سلف کے منہج کو اہمیت دینا۔
⑤ اہلِ علم کا ادب
اختلاف کے باوجود علماء کی علمی خدمات اور مقام کا اعتراف۔
⑥ عدل و رفق
اختلافات کو علمی انداز میں بیان کرنا اور باہمی تعلق میں عدل و انصاف کی رعایت کرنا۔
جامعہ اسلامیہ کے طلبہ کی تربیت:
شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ کی طویل تدریسی زندگی کا ایک عظیم ثمرہ ان کے تلامذہ ہیں۔جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ دنیا کے مختلف ممالک کے طلبہ کا مرکز رہا ہے۔ اس جامعہ سے فارغ ہونے والے طلبہ دنیا کے مختلف خطوں میں تدریس، دعوت، تحقیق اور تصنیف کے میدان میں خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔
شیخ عبدالمحسن العباد نے اسی عالمی علمی ماحول میں کئی نسلوں کو حدیث و سنت کی تعلیم دی۔ان کے حلقۂ درس کی اہمیت صرف اس بات میں نہیں کہ وہاں ایک کتاب پڑھی جاتی تھی، بلکہ یہ بھی تھا کہ وہاں علم کے ساتھ تحقیق، دلیل، ادب، فقہ اور عملی رہنمائی کی تربیت ہوتی تھی۔
علمی زندگی کا ایک منفرد پہلو:
شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ کی زندگی کا ایک قابلِ ذکر پہلو یہ ہے کہ انتظامی ذمہ داریوں نے بھی ان کی تدریسی زندگی کو مغلوب نہیں کیا۔جامعہ کی نائب صدارت جیسی اہم ذمہ داری کے دوران بھی انہوں نے تدریس جاری رکھی، اور بعد میں مسجد نبوی ﷺ میں کتبِ حدیث کی تدریس کا وہ عظیم سلسلہ قائم کیا جو ان کی علمی شناخت کا روشن عنوان بن گیا۔
یہی تسلسل ان کی علمی زندگی کو امتیاز عطا کرتا ہے کہ عہدہ آیا اور گزر گیا، مگر درسِ حدیث کا چراغ روشن رہا۔
علمی آثار اور میراث:
شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ کی علمی میراث صرف کتابوں میں محفوظ نہیں بلکہ:
📖 دروس میں
📖 شروحات میں
📖 محاضرات میں
📖 فتاویٰ و جوابات میں
📖 تلامذہ کی علمی زندگی میں
📖 اور مسجد نبوی ﷺ کے طویل حلقاتِ درس کی یادوں میں بھی محفوظ ہے۔
ان کی ویب سائٹ پر بھی مختلف علمی فنون کے دروس اور تصانیف کا مستقل ذخیرہ موجود ہے۔
شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ کی علمی شخصیت:
شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ کی شخصیت میں:
حدیث میں رسوخ،
فقہ میں بصیرت،
عقیدہ میں پختگی،
تدریس میں استقامت،
تصنیف میں تنوع،
دلیل سے وابستگی،
علماء کا احترام،
صحابہ و اہلِ بیت سے محبت،
اتباعِ سنت کی دعوت،
عدل و رفق کی تلقین،
اور طلبۂ علم کی طویل تربیت
جیسے متعدد اوصاف جمع ہیں۔
ان کی زندگی کا بڑا حصہ مدینہ منورہ کی علمی فضا میں گزرا؛ جامعہ اسلامیہ کے ابتدائی تعلیمی دور سے لے کر مسجد نبوی ﷺ کے طویل حلقۂ درس تک، ان کی علمی زندگی حدیثِ رسول ﷺ کی خدمت کے ساتھ جڑی رہی۔
ایک روشن علمی سبق:
شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ کی زندگی کا مطالعہ یہ سبق دیتا ہے کہ علم کی اصل برکت اس کے تسلسل، اخلاص، تدریس اور عملی نفع میں ہے۔ایک طالب علم سے مدرس، مدرس سے جامعہ کے ذمہ دار، اور پھر مسجد نبوی ﷺ کے طویل عرصے تک مدرسِ حدیث ہونے تک ان کی زندگی ایک مسلسل علمی سفر کی تصویر پیش کرتی ہے۔یہ سفر ہمیں بتاتا ہے کہ علم کا کمال صرف کثرتِ معلومات میں نہیں؛ بلکہ کتاب و سنت سے وابستگی، دلیل کی قدر، اہلِ علم کا ادب، طلبہ کی تربیت اور امت کو نفع پہنچانے میں ہے۔
دعا: اللہ تعالیٰ شیخ عبدالمحسن بن حمد العباد البدر حفظہ اللہ کو صحت و عافیت، ایمان و عمل کی پختگی اور خیر و برکت والی طویل زندگی عطا فرمائے، ان کے علم و خدمات کو شرفِ قبول بخشے، انہیں سنتِ رسول ﷺ کی خدمت پر ثابت قدم رکھے اور ان کے علم سے امتِ مسلمہ کو مسلسل نفع پہنچاتا رہے۔ آمین یا رب العالمین۔
ناشر: حافظ امجد ربانی




