بقیۃ السلف شیخ ڈاکٹر صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ کا مختصر تعارف

شیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ عصرِ حاضر کے جلیل القدر اور ممتاز اہلِ علم میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ نے اپنی طویل علمی زندگی قرآن و سنت کی تعلیم، عقیدہ و توحید کی دعوت، فقہ و اصولِ فقہ کی تدریس، علمِ فرائض، افتاء، تحقیق و تصنیف اور اصلاح و دعوت کے میدانوں میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ آپ کی علمی شخصیت میں تدریس کی پختگی، فقہی بصیرت، عقیدہ میں رسوخ، نصوصِ شرعیہ سے استدلال، دعوتی بصیرت اور تحقیقی ذوق یکجا نظر آتے ہیں۔
آپ نے اپنے دور کے جلیل القدر علماء سے کسبِ فیض کیا اور پھر کئی دہائیوں تک جامعات و علمی اداروں میں تدریس کے ذریعے طلبۂ علم کی تربیت فرمائی۔ عقیدہ و توحید، فقہ و فرائض، حلال و حرام، عبادات و معاملات اور معاصر شرعی مسائل پر آپ کی تصانیف و فتاویٰ علمی حلقوں میں معروف ہیں۔ اسی طرح قرآن و سنت اور منہجِ سلف کی دعوت، شرک و بدعات سے اجتناب، اور صحیح اسلامی عقیدے کی وضاحت آپ کی علمی و دعوتی خدمات کا نمایاں حصہ ہے۔
آپ کی علمی کاوشیں محض تصنیف و تالیف تک محدود نہیں رہیں؛ بلکہ درس گاہ، منبر، مجلسِ افتاء، علمی اداروں، دعوت و اصلاح اور تحقیقی میدان ہر جگہ آپ کی خدمات نمایاں رہی ہیں۔ آپ نے مشکل علمی مسائل کو دلائلِ شرعیہ اور اصولِ شریعت کی روشنی میں واضح کرنے کے ساتھ ساتھ عام مسلمانوں کی دینی رہنمائی بھی فرمائی۔ یہی ہمہ جہت علمی و دعوتی خدمات آپ کو معاصر اہلِ علم میں ایک ممتاز مقام عطا کرتی ہیں۔

نام و نسب:
آپ کا نام صالح بن فوزان بن عبداللہ الفوزان ہے۔ آپ کا تعلق قبائلِ دواسر کی معروف شاخ الوداعین، آل شماس سے ہے۔ آپ کا تعلق سعودی عرب کے علاقے الشماسیہ، قصیم سے ہے۔

ولادت اور ابتدائی حالات:
شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ کی ولادت[1935ء] 1354ھ میں الشماسیہ، علاقہ قصیم میں ہوئی۔
آپ ابھی کم سن تھے کہ والد محترم کا انتقال ہوگیا۔ یتیمی کی اس حالت میں بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے علم و ہدایت کے راستے کھول دیے۔ ابتدائی دور ہی سے آپ نے قرآن مجید پڑھنا شروع کیا اور اپنے علاقے کے اہلِ علم سے بنیادی دینی تعلیم حاصل کی۔
آپ نے قرآن مجید کی قرأت، لکھنا پڑھنا اور ابتدائی دینی مسائل سیکھے، پھر باقاعدہ تعلیمی اداروں میں داخل ہوکر اپنی علمی زندگی کا سفر آگے بڑھایا۔

ابتدائی تعلیم:
شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ نے1369ھ[مطابق 1949ء] میں الشماسیہ کے سرکاری مدرسے میں تعلیم حاصل کی۔
اس کے بعد 1371ھ میں مدرسۃ الفیصلیہ، بریدہ میں داخل ہوئے اور وہاں ابتدائی تعلیم مکمل کی۔
کچھ عرصہ آپ نے تدریس بھی کی، لیکن علم حاصل کرنے کی شدید خواہش نے آپ کو مزید اعلیٰ دینی تعلیم کی طرف متوجہ کیا۔

المعہد العلمی ببریدہ:
شیخ محترم نے مطابق 1954ء سے 1957ء تک آپ نے المعہد العلمی ببریدہ میں تعلیم حاصل کی۔
یہ زمانہ آپ کی علمی شخصیت کی تشکیل کا اہم مرحلہ تھا۔ یہاں آپ نے عربی زبان، فقہ، اصول، عقیدہ اور دیگر دینی علوم کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی اور علمی استعداد پیدا کی۔
اس کے بعد آپ اعلیٰ تعلیم کے لیے ریاض تشریف لے گئے۔

کلیۃ الشریعۃ، ریاض:
شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ نے کلیۃ الشریعۃ، ریاض میں داخلہ لیا اور 1381ھ (مطابق 1961ء) میں وہاں سے فراغت حاصل کی۔
جامعہ سے فراغت کے بعد آپ نے اعلیٰ تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور فقہ و شریعت کے تخصصی مباحث میں تحقیق کی۔

ایم اے:
آپ نے فقہ میں اعلیٰ ڈگری حاصل کی اور آپ کا تحقیقی مقالہ تھا:

«التحقيقات المرضية في المباحث الفرضية»

یہ تحقیق علم الفرائض اور اس سے متعلق فقہی مسائل پر مشتمل تھی۔

ڈاکٹریٹ:
بعد ازاں آپ نے ڈاکٹریٹ کی تحقیق مکمل کی، جس کا عنوان تھا:

«أحكام الأطعمة في الشريعة الإسلامية»

’’شریعتِ اسلامیہ میں کھانے پینے کے احکام‘‘۔
یہ تحقیق اسلامی فقہ میں حلال و حرام، ذبائح، مأکولات اور متعلقہ شرعی احکام کے ایک اہم باب سے تعلق رکھتی ہے۔

شیخ محترم کے ممتاز اساتذہ کرام:
شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ نے اپنے دور کے متعدد جلیل القدر علماء سے استفادہ کیا۔ آپ کی علمی شخصیت کے تشکیل پانے میں ان اساتذۂ کرام کا نمایاں کردار ہے۔

1️⃣ شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ
آپ نے شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے خصوصی طور پر فقہ اور علم الفرائض میں استفادہ کیا۔
شیخ ابن باز رحمہ اللہ کی علمی بصیرت، نصوصِ شرعیہ سے استدلال اور فقہی مسائل کے حل کا انداز شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ کی علمی شخصیت میں بھی نمایاں نظر آتا ہے۔

2️⃣ شیخ عبداللہ بن حمید رحمہ اللہ
آپ نے شیخ عبداللہ بن حمید رحمہ اللہ سے بھی استفادہ کیا، جو اپنے زمانے کے ممتاز فقیہ اور عالمِ دین تھے۔

3️⃣ شیخ محمد الامین الشنقیطی رحمہ اللہ
آپ نے معروف مفسر اور عالمِ اصول شیخ محمد الامین الشنقیطی رحمہ اللہ سے بھی علمی استفادہ کیا۔
شیخ شنقیطی رحمہ اللہ کا قرآن، اصولِ تفسیر، فقہ اور استدلال میں جو مقام تھا، اس سے استفادہ شیخ صالح الفوزان کے علمی سفر کا ایک اہم پہلو ہے۔

4️⃣ دیگر اہلِ علم
اس کے علاوہ آپ نے نجد، ریاض اور قصیم کے متعدد معروف علماء سے بھی استفادہ کیا۔ یوں آپ کی علمی تربیت کسی ایک استاد تک محدود نہ رہی بلکہ مختلف علوم و فنون کے متعدد اہلِ علم سے استفادے کا نتیجہ تھی۔

تدریسی زندگی کا آغاز:
اعلیٰ تعلیم سے فراغت کے بعد شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ نے باقاعدہ تدریس کا آغاز کیا۔
آپ نے:
① المعہد العلمی، ریاض
② کلیۃ الشریعۃ
③ کلیۃ أصول الدین
④ المعہد العالي للقضاء
جیسے علمی اداروں میں تدریسی خدمات انجام دیں۔
آپ نے نہ صرف ابتدائی اور متوسط درجے کے طلبہ کو پڑھایا بلکہ اعلیٰ تعلیم اور پوسٹ گریجویٹ سطح کے طلبہ کی بھی علمی رہنمائی فرمائی۔

تدریس میں امتیاز:
شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ کی تدریسی شخصیت کا ایک نمایاں وصف یہ ہے کہ آپ نے مشکل علمی مباحث کو نصوص، اصول اور فقہی قواعد کی روشنی میں منظم انداز سے بیان کیا۔
آپ کے دروس میں محض مسئلے کا حکم بیان کرنا مقصود نہیں ہوتا بلکہ مسئلے کی:
دلیل، علت، فقہی بنیاد، شرعی اصول اور سلف کے فہم کو بھی واضح کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اسی وجہ سے آپ کے دروس طلبۂ علم کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔

انتظامی خدمات:
شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ نے تدریسی ذمہ داریوں کے ساتھ بعض علمی اداروں میں انتظامی ذمہ داریاں بھی انجام دیں۔
کچھ عرصہ آپ نے علمی ادارے کی انتظامی نگرانی کی، تاہم آپ کی اصل توجہ ہمیشہ علم، تدریس، افتاء اور دعوت ہی پر رہی۔

علمی و دعوتی میدان:
شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ نے اپنی پوری زندگی کو تقریباً پانچ بڑے علمی میدانوں میں تقسیم کر رکھا ہے:
🔸1۔ تدریس
طلبۂ علم کو قرآن، حدیث، عقیدہ، فقہ اور دیگر علومِ شریعت کی تعلیم۔

🔸2۔ افتاء
عوام و خواص کے شرعی سوالات کے جوابات اور مسائل کی وضاحت۔

🔸3۔ تصنیف و تالیف
عقیدہ، فقہ، دعوت، ردِّ باطل اور مختلف معاصر مسائل پر کتب و رسائل کی تالیف۔

🔸4۔ دعوت و اصلاح
قرآن و سنت کی طرف دعوت، توحید کی تعلیم اور بدعات و خرافات سے اجتناب کی تلقین۔

🔸5۔ ردود و مناقشات
غلط نظریات، باطل افکار اور بعض معاصر تحریروں کی علمی تردید۔

عقیدہ و منہج:
شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ کا عقیدہ اہل السنۃ والجماعۃ کے منہج کے مطابق ہے۔
آپ قرآن و سنت کو صحابہ کرام، تابعین اور سلف صالحین کے فہم کے مطابق سمجھنے پر زور دیتے ہیں۔
آپ کی دعوت کا بنیادی محور:
توحید، اتباعِ سنت، شرک سے اجتناب، بدعات سے دوری اور صحیح عقیدہ ہے۔
اسماء و صفات کے باب میں آپ سلف کے منہج کی پیروی کرتے ہوئے تحریف، تعطیل، تکییف اور تمثیل سے اجتناب کی تعلیم دیتے ہیں۔

عقیدہ و توحید پر اہم تصانیف:
شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ نے عقیدہ و توحید کے موضوع پر متعدد اہم کتب تحریر فرمائی ہیں، مثلاً:
📚1۔ الإرشاد إلى صحيح الاعتقاد والرد على أهل الشرك والإلحاد
یہ کتاب صحیح عقیدہ کی وضاحت اور شرک و الحاد جیسے باطل نظریات کے رد پر مشتمل ہے۔

📚2۔ شرح العقيدة الواسطية
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی معروف کتاب العقیدہ الواسطیہ کی شرح۔

📚3۔ التعليقات المختصرة على متن العقيدة الطحاوية
عقیدہ طحاویہ کے اہم مباحث پر مفید علمی تعلیقات۔

📚4۔ إعانة المستفيد بشرح كتاب التوحيد
امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کی کتاب التوحید کی مفصل شرح۔

📚5۔ الملخص في شرح كتاب التوحيد
کتاب التوحید کی مختصر اور عام فہم شرح۔

📚6۔ شرح نواقض الإسلام
اسلام کے نواقض سے متعلق اہم علمی بحث۔

📚7۔ شرح كشف الشبهات
شبہات کے ازالے اور توحید کے دفاع سے متعلق اہم شرح۔

📚8۔ شرح مسائل الجاهلية
امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کی مسائل الجاہلیہ کی شرح۔

فقہ و فرائض میں علمی خدمات:
شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ نے فقہ کے میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔
فقہی تربیت کے اعتبار سے آپ کا تعلق فقہ حنبلی کے علمی ماحول سے رہا، تاہم آپ مسائل کے بیان میں دلائلِ شرعیہ اور فقہی اصولوں کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں۔
آپ کی اہم فقہی تصانیف میں:
📚9۔ الملخص الفقهي
یہ آپ کی معروف فقہی کتابوں میں سے ہے، جس میں عبادات، معاملات اور مختلف فقہی مسائل کو منظم انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

📚10۔ التحقيقات المرضية في المباحث الفرضية
یہ آپ کی اعلیٰ علمی تحقیق ہے جو علم الفرائض کے مسائل سے متعلق ہے۔

📚11۔ أحكام الأطعمة في الشريعة الإسلامية
یہ آپ کی ڈاکٹریٹ کی تحقیقی کاوش ہے، جس میں شریعتِ اسلامیہ کی روشنی میں کھانے پینے کے احکام پر تفصیلی بحث کی گئی ہے۔

دعوت و اصلاح سے متعلق تصانیف:
شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ نے دعوتی میدان میں بھی متعدد اہم موضوعات پر قلم اٹھایا، جن میں:
📚12۔ البيان فيما أخطأ فيه بعض الكتاب
بعض تحریروں اور مصنفین کی غلطیوں کی نشاندہی اور علمی تنقید۔

📚13۔ مجموع محاضرات في العقيدة والدعوة
عقیدہ اور دعوت سے متعلق مختلف علمی محاضرات کا مجموعہ۔

📚14۔ الخطب المنبرية في المناسبات العصرية
معاصر حالات اور مختلف مواقع کے اعتبار سے خطبات کا مجموعہ۔

📚15۔ من أعلام المجددين في الإسلام
اسلامی تجدید کے حوالے سے معروف شخصیات کا تعارف اور ان کی خدمات کا بیان۔

فتاویٰ اور شرعی مسائل:
شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ کی علمی خدمات کا ایک وسیع باب فتاویٰ ہیں۔
عقیدہ، عبادات، معاملات، نکاح و طلاق، تجارت، کھانے پینے، لباس، معاشرت، دعوت اور دیگر بے شمار موضوعات پر آپ کے فتاویٰ موجود ہیں۔
آپ نے عام مسلمانوں کے روزمرہ مسائل سے لے کر پیچیدہ فقہی مسائل تک قرآن و سنت اور فقہی اصولوں کی روشنی میں رہنمائی فراہم کی۔
آپ کے فتاویٰ کی خاص خصوصیت یہ ہے کہ مسئلے کے حکم کے ساتھ اکثر اس کی شرعی بنیاد اور دلیل بھی بیان کی جاتی ہے۔

ردِّ باطل اور علمی مناقشات:
شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ نے اپنے علمی سفر میں مختلف باطل افکار اور بعض معاصر تحریروں پر علمی نقد بھی کیا۔
اس سلسلے میں:
1۔ نقد كتاب الحلال والحرام في الإسلام
اور
2۔ التعقيب على ما ذكره الخطيب في حق الشيخ محمد بن عبد الوهاب
جیسے علمی کام نمایاں ہیں۔
آپ کا اسلوب عموماً نصوصِ شرعیہ، اقوالِ ائمہ اور اصولی دلائل پر مبنی ہوتا ہے۔

مزید علمی تصانیف و رسائل:
آپ کی تصنیفی خدمات صرف مذکورہ کتابوں تک محدود نہیں، بلکہ مختلف موضوعات پر آپ کے متعدد:
– رسائل
– شروحات
– فتاویٰ
– محاضرات
– خطبات
– علمی تعلیقات
– تحقیقی مقالات
بھی موجود ہیں۔
آپ نے عقیدہ و توحید کے ساتھ ساتھ فقہ، دعوت، اصلاح، ردِّ باطل اور معاصر مسائل پر بھی قلم اٹھایا۔

ہیئۃ کبار العلماء اور افتاء:
شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ طویل عرصے تک اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء سے وابستہ رہے اور ہیئۃ کبار العلماء کے رکن بھی رہے۔
یہ ذمہ داریاں اس امر کی عکاسی کرتی ہیں کہ آپ کو سعودی عرب کے اعلیٰ ترین شرعی علمی اداروں میں اہم مقام حاصل رہا ہے۔
اسی دوران آپ نے:
فتویٰ، تدریس، علمی مشاورت، شرعی تحقیق اور دعوت کے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دیں۔

مجمع الفقہی اور دیگر علمی ذمہ داریاں:
شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ مجمع الفقہی الإسلامي بمكة المكرمة سے بھی وابستہ رہے۔
مختلف شرعی و فقہی مجالس اور علمی کمیٹیوں میں آپ کی شرکت رہی، جہاں معاصر مسائل پر شرعی نقطۂ نظر سے غور و فکر کیا جاتا ہے۔

مفتیِ عام مملکتِ سعودی عرب:
30 ربیع الآخر 1447ھ، مطابق 22 اکتوبر 2025ء کو شاہی فرمان کے ذریعے شیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ کو:
مفتیِ عام مملکتِ سعودی عرب مقرر کیا گیا، نیز آپ کو:
رئیسِ ہیئۃ کبار العلماء اور
رئیسِ عام للرئاسة العامة للبحوث العلمية والإفتاء
کی ذمہ داریاں بھی سونپی گئیں، اور یہ منصب وزیر کے مرتبے کے ساتھ ہے۔
یوں ایک طویل علمی سفر کے بعد آپ سعودی عرب کے اعلیٰ ترین شرعی منصب پر فائز ہوئے۔

شیخ ابن باز رحمہ اللہ کی علمی تحسین:
شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ کی بعض علمی کاوشوں کے بارے میں شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ کے معروف کلمات نقل کیے جاتے ہیں:

«وَقَدْ أَجَادَ وَأَفَادَ وَأَحْسَنَ، جَزَاهُ اللهُ خَيْرًا وَنَصَرَ بِهِ الْحَقَّ»

’’انہوں نے خوب عمدہ کام کیا، فائدہ پہنچایا اور بہترین انداز اختیار کیا۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے اور ان کے ذریعے حق کی نصرت فرمائے۔‘‘
یہ کلمات شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ کی علمی خدمات کے بارے میں ایک بڑے عالم کی تحسین کی حیثیت رکھتے ہیں۔

شیخ محترم کی علمی شخصیت:
شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ کی شخصیت میں کئی علمی اوصاف جمع ہیں:
عقیدہ میں پختگی،
فقہ میں رسوخ،
فرائض میں مہارت،
افتاء میں تجربہ،
تدریس میں تسلسل،
تصنیف میں کثرت،
دعوت میں اہتمام،
اور ردِّ باطل میں علمی قوت۔
آپ کی شخصیت کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ آپ نے علم کو صرف کتابوں تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے درس، فتویٰ، دعوت، تصنیف اور عملی رہنمائی کے ذریعے لوگوں تک پہنچایا۔

ایک اہم علمی اصول:
شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ کی علمی زندگی کا مطالعہ کرتے ہوئے ایک بنیادی اصول پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ علماء کرام معصوم نہیں ہوتے۔
کسی عالم کی علمی عظمت اپنی جگہ، لیکن دلیل کے مقابلے میں کسی شخص کا قول حجتِ مطلق نہیں۔لہٰذا جو بات قرآن و سنت اور صحیح دلیل کے موافق ہو اسے قبول کیا جائے، اور اگر کسی اہلِ علم سے اجتہادی خطا واقع ہو تو اسے ادب و احترام کے ساتھ دلیل کی روشنی میں واضح کیا جائے۔یہی اہلِ علم کے احترام اور اتباعِ دلیل کے درمیان متوازن علمی منہج ہے۔

دعا: اللہ تعالیٰ شیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ کو صحت و عافیت عطا فرمائے، ان کے علم و عمل میں برکت دے، ان کی علمی و دعوتی خدمات کو شرفِ قبول بخشے، انہیں کتاب و سنت کی خدمت پر ثابت قدم رکھے اور ان کے علم سے امتِ مسلمہ کو نفع پہنچاتا رہے۔
آمین یا رب العالمین۔

✍🏻ناشر: حافظ امجد ربانی