بسم الله الرحمن الرحيم
صبح و شام کے اذکار کی فضیلت
صبح و شام آیة الکرسی پڑھنے سے شیطان سے حفاظت رہتی ہے
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ لَهُ جُرْنٌ مِنْ تَمْرٍ، فَكَانَ يَنْقُصُ، فَحَرَسَهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَإِذَا هُوَ بِدَابَّةٍ شِبْهِ الْغُلَامِ الْمُحْتَلِمِ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، فَقَالَ: مَا أَنْتَ؟ أَجِنِّيٌّ أَمْ إِنْسِيٌّ؟ قَالَ: لَا، بَلْ جِنِّيٌّ. قَالَ: فَنَاوِلْنِي يَدَكَ. فَنَاوَلَهُ يَدَهُ، فَإِذَا يَدُهُ يَدُ كَلْبٍ، وَشَعْرُهُ شَعْرُ كَلْبٍ. قَالَ: هَكَذَا خَلْقُ الْجِنِّ؟ قَالَ: قَدْ عَلِمَتِ الْجِنُّ أَنَّ مَا فِيهِمْ رَجُلٌ أَشَدُّ مِنِّي. قَالَ: فَمَا جَاءَ بِكَ؟ قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّكَ تُحِبُّ الصَّدَقَةَ، فَجِئْنَا نُصِيبُ مِنْ طَعَامِكَ. قَالَ: فَمَا يُنَجِّينَا مِنْكُمْ؟ قَالَ: هَذِهِ الْآيَةُ الَّتِي فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ مَنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي أُجِيرَ مِنَّا حَتَّى يُصْبِحَ، وَمَنْ قَالَهَا حِينَ يُصْبِحُ أُجِيرَ مِنَّا حَتَّى يُمْسِي. فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: صَدَقَ الْخَبِيثُ.
محمد بن ابی بن کعب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے کھجوروں کے کھلیان تھے، جس میں سے کھجوریں کم ہو جاتی تھیں۔ چنانچہ ایک رات انہوں نے پہرہ دیا تو (چور) جانور سے مشابہ ایک نو عمر لڑکا تھا۔ انہوں نے اسے سلام کیا تو اس نے جواب دیا۔
انہوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ جن یا انسان؟ اس نے کہا: (انسان) نہیں بلکہ جن ہوں۔ انہوں نے کہا: مجھے اپنا ہاتھ دو، اس نے ہاتھ دیا، تو اُس کا ہاتھ کتے کے ہاتھ جیسا تھا اور اس کے بال بھی کتے کے بالوں جیسے تھے۔ابی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا جنات کی پیدائش اسی طرح ہوتی ہے؟ اس نے کہا: جنات جانتے ہیں کہ ان میں مجھ سے زیادہ طاقتور کوئی نہیں۔ انہوں نے پوچھا: تمہیں کیا چیز یہاں لائی؟ اس نے کہا: ہمیں پتہ چلا ہے کہ تمہیں صدقہ کرنا پسند ہے تو ہم تمہارے کھانے میں سے اپنا حصہ لینے آئے ہیں۔ انہوں نے پوچھا: کیا چیز تم سے بچا سکتی ہے؟ اس نے کہا: وہ آیت جو سورۃ البقرۃ میں ہے اَللہُ لَا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ القَيُّوْم جو کوئی اسے شام کو پڑھے گا وہ صبح تک ہم سے پناہ میں رہے گا اور جو اسے صبح پڑھے گا وہ شام تک ہم سے پناہ میں رہے گا۔ پھر جب صبح انہوں نے اس بات کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس خبیث نے سچ کہا۔
[المعجم الكبير الطبراني:541]




