سوال 7611
وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ ؟ فَقَالَ : ” يُكَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ، وَالْبَاقِيَةَ(مسلم 1162)
السلام علیکم! راہ نمائی فرمائیں
جو گناہ کیے ہی نہیں وہ معاف کیسے؟؟؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
فہم کی بات ہے، واقعی اس میں کوئی اشکال نہیں ہے۔ حفظِ ما تقدّم کے طور پر اگر دعا پڑھی جا سکتی ہے، ویکسین لگوائی جا سکتی ہے، یہ بھی ایک دعا ہے!
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ، وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ»
یہ بھی دعا آتی ہے؛ یعنی اس عمل کے شر سے جو میں نے ابھی کیا ہی نہیں۔
شریعت نے ہمیں کچھ چیزیں اس طرح سکھائی ہیں۔
«لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ»،
اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ حفاظت کے لیے ہے، حفظ ما تقدّم کے طور پر دعا سکھائی گئی ہے۔ اور یہ اللہ کی طرف سے ہمارے لیے ایک بشارت ہے، دین کے یُسر، آسانی اور بشارت والا دین ہونے کی علامت ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: کیا اس کے جواب میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کے عوض کبائر میں تخفیف ہو جاتی ہے یا درجات بلند ہو جاتے ہیں؟
جواب: السلام علیکم! جی بالکل کہا جا سکتا ہے۔ اچھا استنباط ہے۔ بارک اللہ فیک
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




