شہیدِ اسلام مولانا حبیب الرحمن یزدانی رحمہ اللہ کا مختصر تعارف
اہلِ حدیث کی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن کی زندگی ایک خاص دور کی دینی دعوتی اور اجتماعی جدوجہد کی عکاس ہوتی ہے۔ شہیدِ اسلام مولانا حبیب الرحمن یزدانی رحمہ اللہ بھی انہی نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ ایک بااثر خطیب قرآنِ کریم کے خوش الحان قاری توحید و سنت کے داعی اور اجتماعی سرگرمیوں میں فعال عالمِ دین تھے۔
آپ نے اپنی دعوتی زندگی میں مختلف آزمائشوں کا سامنا کیا۔ قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہوئے قید و بند کی صعوبت برداشت کی اور اپنے اکلوتے بیٹے کی وفات کا صدمہ بھی اٹھایا لیکن ان حالات کے باوجود دینی خدمات کا سلسلہ جاری رکھا۔
مولانا حبیب الرحمن یزدانی رحمہ اللہ کی شخصیت:
– توحید و سنت کے بے باک داعی
– قرآنِ کریم کے خوش الحان قاری
– شعلہ نوا اور بلند پایہ خطیب
– عوامی اجتماعات کے مؤثر مقرر
– جماعتی و دعوتی جدوجہد کے فعال رکن
– آزمائشوں میں ثابت قدم انسان
– منبر و محراب سے وابستہ مخلص داعی
– کتاب و سنت کی دعوت کے لیے زندگی وقف کرنے والی شخصیت
پیدائش اور ابتدائی حالات:
مولانا حبیب الرحمن یزدانی رحمہ اللہ اپریل 1947ء بمطابق جمادی الاولیٰ 1367ھ پل شاہ دولہ ضلع گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم مولانا عبدالحلیم بن حافظ محمد عبداللہ کمبوہ اس زمانے میں وہاں خطابت کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ دینی ماحول میں پرورش پانے کی وجہ سے بچپن ہی سے آپ کا تعلق مسجد منبر اور دینی تعلیم سے قائم ہوگیا۔
تعلیمی سفر:
آپ نے ابتدائی عصری تعلیم گورنمنٹ مڈل اسکول سکھانہ باجوہ سے حاصل کی۔ اس کے بعد دینی علوم کے حصول کے لیے مختلف مدارس اور جامعات میں تعلیم حاصل کی۔آپ نے جن تعلیمی اداروں میں سفر کیا۔
– مدرسہ ضیاء القرآن منڈی چشتیاں
– جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ
– جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ
– جامعہ سلفیہ فیصل آباد
– مدرسہ نصرۃ الحق حنفیہ نسبت روڈ لاہور
– دارالعلوم تقویت الاسلام شیش محل لاہور
آخرکار آپ نے دارالعلوم تقویت الاسلام شیش محل لاہور سے دینی تعلیم مکمل کی۔
اساتذہ کرام:
آپ کے اساتذہ میں متعدد معروف اہلِ علم :
– شیخ الحدیث مولانا محمد اسحاق چیمہ رحمہ اللہ
– شیخ الحدیث حافظ عبدالمنان نورپوری رحمہ اللہ
– شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ رحمہ اللہ
– مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ
– مولانا بہاؤ الدین رحمہ اللہ
– حافظ عبدالرشید گوہڑوی رحمہ اللہ
– حافظ مختار احمد رحمہ اللہ وغیرہم شامل ہیں۔
ان اہلِ علم کی صحبت اور علمی استفادے نے آپ کی دینی شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔
خطابت کا آغاز:
تعلیم مکمل کرنے کے بعد مولانا حبیب الرحمن یزدانی رحمہ اللہ نے حمید پور کلاں ضلع گوجرانوالہ سے خطابت کا آغاز کیا۔ تقریباً چار سال وہاں خدمات انجام دینے کے بعد معروف خطیب مولانا سید عبدالغنی شاہ رحمہ اللہ کے انتقال کے بعد کامونکی تشریف لائے۔جامع مسجد اہلِ حدیث کامونکی میں آپ نے طویل عرصہ خطابت کی۔ یہاں آپ کی خطابت نے وسیع حلقے کو متاثر کیا اور توحید، سنت قرآن و حدیث اور اصلاحِ معاشرہ کے موضوعات آپ کی گفتگو کا نمایاں حصہ رہے۔
مولانا سید عبدالغنی شاہ رحمہ اللہ سے استفادہ:
خطابت کے ابتدائی دور میں مولانا حبیب الرحمن یزدانی رحمہ اللہ نے مولانا سید عبدالغنی شاہ رحمہ اللہ کے اندازِ تلاوت و خطابت سے بھی استفادہ کیا۔بعد میں آپ نے اپنا ایک مستقل اسلوب اختیار کیا جس میں قرآنِ کریم کی مؤثر تلاوت بلند شعلہ بیانی اور موضوع سے گہری وابستگی نمایاں تھی۔ آپ کی خطابت میں قرآن و حدیث کے دلائل کے ساتھ سامعین کی اصلاح اور دینی غیرت پیدا کرنے کا پہلو بھی نمایاں رہتا تھا۔
خطیبانہ مقام:
مولانا حبیب الرحمن یزدانی رحمہ اللہ کی شہرت کا ایک بڑا سبب ان کا مخصوص اندازِ خطابت تھا۔ آپ طویل خطابات کے باوجود سامعین کی توجہ برقرار رکھتے تھے۔ایک زمانے میں علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ اور مولانا حبیب الرحمن یزدانی رحمہ اللہ کی ایک ہی جلسے میں شرکت اہلِ حدیث اجتماعات کی نمایاں خصوصیت سمجھی جاتی تھی۔ یزدانی شہید رحمہ اللہ اپنی خطابت سے مجمع کو متوجہ کرتے اور اس کے بعد علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ اپنے علمی و تحقیقی انداز میں خطاب فرماتے۔ دونوں شخصیات نے اپنے اپنے انداز میں اہلِ حدیث خطابت کو ایک نمایاں مقام عطا کیا۔
سیاسی و اجتماعی جدوجہد:
مولانا حبیب الرحمن یزدانی رحمہ اللہ نے اپنے زمانے کی سیاسی اور اجتماعی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا۔
آپ نے سیاسی زندگی کا آغاز قومی اتحاد کی سرگرمیوں سے کیا اور بھٹو حکومت کے خلاف تحریک میں حصہ لیا جس کے نتیجے میں آپ کو قید و بند کی صعوبت بھی برداشت کرنا پڑی۔
آپ کی سیاسی و اجتماعی سرگرمیوں میں دینی اور ملی مسائل کا پہلو نمایاں تھا۔
جماعتی خدمات:
آپ جمعیت اہلِ حدیث پاکستان کے ناظمِ تبلیغ رہے اور بعد میں نائب ناظمِ اعلیٰ کی ذمہ داری بھی سنبھالی۔علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ کی عدم موجودگی میں آپ کو قائم مقام ناظمِ اعلیٰ کی ذمہ داریاں بھی ادا کرنا پڑتی تھیں۔
جماعتی سطح پر آپ کی سرگرمیوں میں دعوتِ کتاب و سنت اہلِ حدیث فکر کی ترویج اور عوام میں دینی شعور پیدا کرنا نمایاں تھا۔
14 اگست 1984ء کا قاتلانہ حملہ:
مولانا حبیب الرحمن یزدانی رحمہ اللہ اپنی دعوت و خطابت میں توحید و سنت پر خاص زور دیتے اور شرک و بدعات کے رد میں کھل کر گفتگو کرتے تھے۔14 اگست 1984ء کو کامونکی میں آپ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا جس میں آپ شدید زخمی ہوئے اور ہسپتال منتقل کیے گئے۔علاج کے بعد جب صحت یاب ہوئے تو خطابت اور دعوت کا سلسلہ دوبارہ شروع کردیا۔
آزمائشوں میں ثابت قدمی:
مولانا حبیب الرحمن یزدانی رحمہ اللہ کی زندگی میں آزمائشیں مسلسل آتی رہیں۔ قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہونا قید کا سامنا کرنا اور بعد میں اپنے اکلوتے بیٹے کی وفات کا صدمہ برداشت کرنا معمولی حالات نہ تھے۔ ان واقعات کے باوجود آپ نے اپنی دینی سرگرمیوں کو ترک نہیں کیا۔
شادی اور اولاد:
مولانا حبیب الرحمن یزدانی رحمہ اللہ کی شادی اپنے حقیقی چچا کی صاحبزادی سے ہوئی۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو چھ بیٹیاں اور ایک بیٹا عطا فرمایا۔ آپ کے اکلوتے بیٹے کا نام انعام الرحمن تھا جو 1982ء میں پیدا ہوئے۔ فروری 1985ء میں ایک افسوس ناک واقعے میں آپ اپنے اس بیٹے سے محروم ہوگئے۔ بعد میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک اور بیٹا عطا فرمایا جس کا نام بھی انعام الرحمن رکھا گیا۔
محفوظ خطابات:
مولانا حبیب الرحمن یزدانی رحمہ اللہ کی خطابت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ آپ کے متعدد پرانے خطابات اب بھی محفوظ ہیں۔ ان میں درج ذیل موضوعات پر خطابات شامل ہیں:
– توحید و رسالت
– دعوتِ قرآن و حدیث
– شانِ رسالت ﷺ
– فکرِ آخرت
– صبر کی اہمیت
– مسلکِ اہلِ حدیث
– واقعہ کربلا
– امام اعظم
– قیامت کی نشانیاں
– سیرت النبی ﷺ
23 مارچ 1987ء آخری اجتماع:
23 مارچ 1987ء کو لاہور کے راوی روڈ پر واقع قلعہ لچھمن سنگھ میں جمعیت اہلِ حدیث پاکستان اور اہلِ حدیث یوتھ فورس کے زیرِ اہتمام سیرت النبی ﷺ کے موضوع پر ایک بڑا اجتماع منعقد ہوا۔ اس اجتماع میں مولانا محمد خان نجیب شہید رحمہ اللہ مولانا عبدالخالق قدوسی شہید رحمہ اللہ مولانا حبیب الرحمن یزدانی شہید رحمہ اللہ علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ اور دیگر اہلِ علم و خطباء شریک تھے۔
مولانا حبیب الرحمن یزدانی رحمہ اللہ نے سیرت النبی ﷺ کے موضوع پر خطاب کیا۔ ان کے بعد علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ خطاب کے لیے تشریف لائے۔اسی دوران ایک شدید بم دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں اجتماع میں موجود متعدد افراد شہید اور تقریباً ایک سو افراد زخمی ہوئے۔ مولانا حبیب الرحمن یزدانی رحمہ اللہ اور علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ بھی شدید زخمی ہوئے۔
شہادت:
شدید زخمی ہونے کے بعد مولانا حبیب الرحمن یزدانی رحمہ اللہ کو ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم زخم جان لیوا ثابت ہوئے۔
24 مارچ 1987ء کو آپ وفات پاگئے ایک طویل دعوتی و خطیبانہ زندگی اپنے اختتام کو پہنچی۔
آپ کی نمازِ جنازہ 25 مارچ 1987ء کو کامونکی میں ادا کی گئی جس کی امامت شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ رحمہ اللہ نے فرمائی۔
دعا: اللہ تعالیٰ مولانا حبیب الرحمن یزدانی رحمہ اللہ کی مغفرت فرمائے ان کی شہادت کو قبول فرمائے ان کی دینی و دعوتی خدمات کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔
آمین یا رب العالمین۔
ناشر: حافظ امجد ربانی




