فتوحات پر مسلمانوں اور کافرانہ طرز عمل کا جائزہ
اسلامی تاریخ کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ جنگیں اور فتوحات کبھی بھی محض طاقت کے اظہار، قومی غرور یا وقتی جذباتی سرشاری کے لیے نہیں لڑی گئیں بلکہ ان کے دور رس مقاصد میں ظلم کا خاتمہ، دین کی سربلندی، مظلوموں کا تحفظ اور امن کا قیام تھا۔ اسی لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک سے لے کر بعد کے ادوار تک جب بھی مسلمانوں کو کوئی عظیم فتح حاصل ہوئی تو اس کے ساتھ شکر، عاجزی اور اصلاح کا جذبہ نمایاں رہا، نہ کہ لہو و لعب، رقص و موسیقی اور جذباتی جشن کا ماحول تھا۔
یہی وہ بنیادی فرق ہے جو اسلامی تصورِ فتح کو دنیا کی مادی تہذیبوں سے ممتاز کرتا ہے۔
رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی حیاتِ مبارکہ میں غزوہ بدر پہلی عظیم فتح تھی جس میں تین سو تیرہ کمزور اور بے سرو سامان مسلمانوں نے قریشِ مکہ کے بڑے لشکر کو شکست دی۔ اس کے بعد فتحِ خیبر، فتحِ مکہ، غزوہ حنین اور پھر جزیرہ عرب میں اسلام کے غلبے کی صورت میں متعدد کامیابیاں مسلمانوں کو حاصل ہوئیں۔ ان تمام مواقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طرزِ عمل انتہائی قابلِ تقلیدہے۔ فتحِ مکہ جیسا عظیم تاریخی دن جس میں پورا عرب سردار دو عالم کے سامنے جھک گیا، اس دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) فاتحانہ انداز تکبر کے بجائے اس قدر عاجزی کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے کہ سر مبارک اونٹنی کے کجاوے تک جھکا ہوا تھا اس وقت نہ کوئی رقص تھا، نہ موسیقی، نہ فخر و غرور کے نعرے، نہ فنکاروں کی محفلیں نہ شعر و شاعری کا تڑکا تھا ۔ بلکہ اعلان یہ تھا: “آج تم پر کوئی گرفت نہیں”۔
بعد ازاں دشمنوں کو معاف کیا گیا، سیدنا علی المرتضیٰ ( رضی اللہ عنہ) کے ساتھ ملکر خانہ کعبہ کو بتوں سے پاک کیا گیا اور اللہ کے حضور سجدہ شکر کے لئے نوافل ادا کیے گئے۔
اگر دیکھا جائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد خلفائے راشدین کے دور میں اسلامی فتوحات کا دائرہ حیرت انگیز طور پر وسیع ہوا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں فتنہ ارتداد کا خاتمہ ہوا، فتنہ منکرین ختم نبوت کا خاتمہ ہوا، فتنہ منکرین زکوٰۃ کا خاتمہ ہوا ،سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد میں عراق، شام، مصر اور فارس فتح ہوئے۔ قادسیہ میں رستم مارا گیا، یرموک میں رومی سلطنت کو فیصلہ کن شکست ہوئی، بیت المقدس مسلمانوں کے زیر نگیں آیا۔ لیکن تاریخ کی معتبر معلومات یہ نہیں بتاتیں کہ ان فتوحات کے بعد جشنِ موسیقی منعقد کیے گئے ہوں یا کسی معرکہ کو سال پورا ہونے پر گلوکاروں کو بلا کر محفلیں سجائی گئی ہوں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب بیت المقدس پہنچے تو ایک خادم کے ساتھ باری باری اونٹ پر سوار ہوتے تھے۔ لباس پر پیوند تھے اور دل میں خوفِ خدا۔ یہی اسلامی فتوحات کی روح تھی جسے آج اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔
اس کے بعد دیکھیں تو بنو امیہ کے دور میں محمد بن قاسم نے سندھ فتح کیا، طارق بن زیاد نے اندلس( اسپین ) میں اسلامی پرچم بلند کیا، موسیٰ بن نصیر کی قیادت میں یورپ کے دروازے کھلے۔ بعد میں سلطان محمود غزنوی، سلطان صلاح الدین ایوبی، سلطان نور الدین زنگی، سلطان محمد فاتح اور برصغیر میں مختلف مسلم حکمرانوں نے بھی عظیم فتوحات حاصل کیں۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کی فتح کے بعد صلیبیوں سے انتقام کی خون آشام تاریخ نہیں دہرائی بلکہ عفو و درگزر کا مظاہرہ کیا۔ سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ فتح کیا تو اسے صرف عسکری کامیابی نہ سمجھا بلکہ اسے اسلامی بشارت کی تکمیل قرار دیا اور شکر ادا کیا۔ ان ادوار میں فتح کی خوشی ضرور ہوتی تھی، سپاہیوں کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی تھی، شاعری بھی پڑھی جاتی تھی، مگر اسے فحاشی، موسیقی اور لہو و لعب کے تہذیبی مظاہروں میں تبدیل نہیں کیا جاتا تھا۔
اگر دیکھا قرآن و سنت نے صرف مسلمانوں کو فتح کے آداب نہیں سکھائے بلکہ مخالف اقوام کے طرزِ عمل کو بھی نمایاں کیا تاکہ حق و باطل کے اخلاقی فرق کو سمجھا جا سکے۔ عہدِ نبوی کے غزوات و سرایا میں یہ تقابل بار بار سامنے آتا ہے کہ ایک طرف اہلِ ایمان تھے جن کے نزدیک جنگ ایک دینی ذمہ داری، ظلم کے خاتمے اور اللہ کی رضا کا ذریعہ تھی، جبکہ دوسری طرف کفارِ مکہ اور دیگر باطل قوتیں تھیں جو اپنی عسکری طاقت، قبائلی غرور، شراب، گانے بجانے اور تفاخر کے ماحول کے ساتھ میدان میں اترتی تھیں۔
غزوہ بدر اس کی سب سے واضح مثال ہے۔ جب قریش مکہ اپنے لشکر کے ساتھ بدر کی طرف نکلے تو ان کا انداز محض دفاعی یا سنجیدہ عسکری نہ تھا بلکہ اس میں فخر، غرور اور جشن کا رنگ نمایاں تھا۔
مولانا صفی الرحمن مبارک پوری رحمہ اللہ اپنی کتاب الرحیق المختوم میں لکھتے ہیں کہ ابو جہل نے کہا تھا کہ ہم بدر جا کر کئی دن قیام کریں گے، اونٹ ذبح ہوں گے، شرابیں پی جائیں گی، گانے والیاں ہمارے لیے گائیں گی اور عرب ہماری شان و شوکت دیکھیں گے۔ یہی وہ کیفیت تھی جسے قرآن نے یوں بیان کیا:
وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ خَرَجُوا مِن دِيَارِهِم بَطَرًا وَرِئَاءَ النَّاسِ
یعنی ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جو اتراتے ہوئے اور لوگوں کو دکھانے کے لیے نکلے تھے۔
مولانا عبد السلام بھٹوی رحمہ اللہ نے تفسیر القرآن الکریم میں لکھا ہے کہ یہ آیت بدر کی طرف نکلنے والے قریش کے اسی متکبرانہ اور نمائشی طرزِ عمل کے بارے میں نازل ہوئی۔ ان کے مقابلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لشکر تھا جو تعداد، ساز و سامان اور ظاہری قوت میں کمزور تھا مگر دعا، گریہ، توکل اور عاجزی سے سرشار تھا۔ ایک طرف رات شراب و سرود میں گزری، دوسری طرف رسول مکرم ( صلی اللہ علیہ وسلم)سجدے میں دعا کرتے رہے۔
اسی طرح غزوہ احد میں بھی کفارِ مکہ اپنی عورتوں اور گانے بجانے والیوں کے ساتھ میدان میں آئے،قریش کی عورتیں دف بجا بجا کر اپنے لشکر کو جوش دلاتی تھیں اور قبائلی حمیت کے اشعار پڑھتی تھیں۔ جنگ کے بعد جب مسلمانوں کو وقتی نقصان پہنچا تو کفار نے اس پر فخر و غرور کا اظہار کیا، قریش کی عورتیں شہداء کے اعضاء مسخ کرنے میں مصروف ہو گئیں، ہند بنت عتبہ کا کردار اسی تناظر میں ملتا ہے۔ جبکہ کفار نے اس عمل کو اپنی برتری کی علامت سمجھا۔
اس کے مقابلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو صبر، استقامت اور اللہ کی طرف رجوع کی تعلیم دی۔
مجموعی طور پر یہی تاثر ابھرتا ہے کہ کفارِ مکہ اور جاہلی معاشرے جنگی کامیابی کو غرور، انتقام، شور، قبائلی تفاخر اور نفسیاتی غلبے کے اظہار کا ذریعہ بناتے تھے۔ ان کے ہاں فتح کا مطلب مخالف کو ذلیل کرنا، طاقت کی نمائش کرنا اور اپنی بڑائی کا اعلان کرنا تھا۔ اسی لیے ان کے لشکروں کے ساتھ گانے والیاں، دف اور فخر کے اشعار بھی ہوتے تھے۔ اس کے برعکس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام( رضی اللہ عنہم) کی تعلیم یہ تھی کہ فتح ملے تو سجدہ شکر کیا جائے، اور آزمائش آئے تو صبر و احتساب اختیار کیا جائے۔
لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اسلامی تاریخ میں جشنِ فتح کی موجودہ صورت دراصل بعد کے ادوار کی پیداوار ہے، خصوصاً جب مسلم معاشرے مغربی تہذیب، قومی ریاستوں اور سیاسی پروپیگنڈے کے اثر میں آئے۔ قدیم اسلامی مصادر میں ہمیں یومِ شکر، سجدہ شکر،
دعائے نصرت، اعزازِ مجاہدین اور عوامی اطمینان تو ملتا ہے مگر موسیقی و رقص پر مبنی قومی تفریحی تقریبات کی کوئی واضح مثال نہیں ملتی۔ وجہ یہ ہے کہ اسلام جنگ کو کھیل یا تفریح نہیں بناتا۔ جنگ انسانی جانوں کا معاملہ ہے، اس میں خون بہتا ہے، مائیں بیٹے کھوتی ہیں، بچے یتیم ہوتے ہیں، شہر برباد ہوتے ہیں۔ اس لیے اسلام فتح کے بعد بھی انسان کو ذمہ داری، تقویٰ اور احتساب کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
قرآن مجید نے بدر کی فتح کے بعد فرمایا: “وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّهِ” یعنی مدد صرف اللہ کی طرف سے ہے۔ گویا اصل نسبت اللہ کی طرف ہے، نہ کہ انسانی طاقت کی طرف ہے۔ اسی لیے مسلمان فاتحین اپنی فتوحات کو ذاتی کمال نہیں سمجھتے تھے بلکہ اللہ کی امانت تصور کرتے تھے۔ علامہ اقبال نے اسی حقیقت کو یوں بیان کیا تھا:
؎ قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان
اور ایک مقام پر وہ مسلمانوں کو طاقت کے نشے سے بچاتے ہوئے کہتے ہیں:
؎ نگہ بلند، سخن دل نواز، جاں پُرسوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے
اسلامی تاریخ کا تنقیدی مطالعہ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ جب بھی فتوحات کا مقصد اللہ کی رضا سے ہٹ کر قومی تفاخر، حکمرانوں کی شخصیت پرستی یا عوامی جذبات کے استحصال میں بدل گیا تو امت اپنے اصل مزاج سے دور ہوتی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کے بعض ادوار میں شاہی درباروں میں رقص و سرود کی محفلیں بڑھیں، مگر اہلِ علم اور مصلحین نے ہمیشہ اس روش پر تنقید کی۔ امام ذہبی، ابنِ کثیر، ابنِ تیمیہ اور دیگر ائمہ کرام کے ہاں یہ اصول واضح ملتا ہے کہ نعمت پر شکر مشروع ہے مگر معصیت کے ذریعے شکر ادا کرنا جائز نہیں۔
اسی تناظر میں جب آج بعض معرکوں یا عسکری کامیابیوں کے بعد فتح کے جشن کے نام پر موسیقی پروگرام، گلوکاروں کی محفلیں اور مخلوط تقریبات منعقد کی جاتی ہیں تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ طرزِ عمل اسلامی تاریخ اور اسلامی مزاج سے ہم آہنگ ہے؟
اگر کسی معرکے کو بنیان مرصوص یا معرکہ حق جیسے قرآنی و دینی عنوانات دیے جائیں تو پھر اس کے تقاضے بھی دینی ہونے چاہییں۔ قرآن نے بنیان مرصوص کی تعبیر ان اہلِ ایمان کے لیے استعمال کی ہے جو اللہ کی راہ میں سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہوتے ہیں۔ اس عظیم قرآنی تعبیر کو موسیقی اور تفریحی کلچر کے ساتھ جوڑ دینا ایک فکری تضاد محسوس ہوتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ قوموں کو اپنے محافظوں اور شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھنا چاہیے، ان کی خدمات کا اعتراف ہونا چاہیے، نوجوانوں میں حوصلہ اور جذبہ پیدا ہونا چاہیے، لیکن اس کے لیے اسلامی تہذیب کے اپنے ذرائع موجود ہیں۔ دعائیہ اجتماعات، شہداء کے تذکرے، علمی سیمینارز، فکری تربیت، قومی وحدت، رفاہی منصوبے اور اخلاقی اصلاح یہ سب ایسے طریقے ہیں جو ایک مہذب،زندہ قوم اور دینی معاشرے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر فتوحات کو محض شور، موسیقی اور جذباتی نعروں تک محدود کر دیا جائے تو جنگ کے اصل مقاصد پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
اسلام یہ سکھاتا ہے کہ جنگ سے سب سے بڑا سبق امن کی قدر، ظلم سے نفرت، اللہ پر توکل اور انسانی جان کی حرمت کا شعور حاصل کرنا ہے۔ فتح اگر انسان میں تکبر پیدا کر دے تو وہ زوال کا آغاز بن جاتی ہے، اور اگر عاجزی، شکر اور اصلاح پیدا کرے تو وہ تاریخ میں رحمت بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کامیابی کے بعد امت کو اللہ کی طرف متوجہ کیا، نہ کہ دنیاوی سرمستی کی طرف۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان اپنی تاریخ کو صرف جذباتی نعروں کے ذریعے نہیں بلکہ تحقیقی شعور کے ساتھ پڑھیں۔ فتوحات کو محض قومی تفریح کا عنوان بنانے کے بجائے ان کے اخلاقی، دینی اور تہذیبی اسباق کو سمجھا جائے۔ کیونکہ تاریخ کا اصل مقصد ماضی کی نمائش نہیں بلکہ حال کی اصلاح اور مستقبل کی رہنمائی ہوتا ہے۔
✍️ کامران الہی ظہیر




