مولانا سلمان ندوی : کیا لکھوں کچھ لکھا نہیں جاتا
مفتی عنایت اللہ خورشید قاسمی
شیخ الحدیث: جامعۃ المؤمنات رامپور
امام وخطیب مسجد رحمت کاندیولی
مولانا سلمان ندوی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ خبر صدمہ بن کر آئی اور دلِ مضطر نے پکارا کہ اٹھو! قلم اٹھاؤ، تعزیتی کلمات لکھو، ان کے لیے ایصالِ ثواب کا سامان کرو، ان کی خطابت، ان کی تحریر اور ان کے علم و فضل کا ذکرِ خیر کر کے حقِ محبت ادا کرو۔ وہ ایک طویل عرصے تک علم و ادب کی دنیا پر راج کرتے رہے، تو کیا آج ان کے جانے پر دو لفظ بھی نہ لکھے جائیں؟
میں اسی تڑپ کے ساتھ کاغذ اور قلم سنبھال کر بیٹھا ہی تھا۔ ذہن پر سکتہ طاری تھا اور الفاظ کی آمد کا انتظار تھا کہ اچانک… فضا بدل گئی۔ میرے تخیل کے بند دریچوں سے جلالِ نورانی کے پیکر نمودار ہونے لگے۔ یہ وہ ہستیاں تھیں جن کا نام لیتے ہوئے زبان لرزتی ہے، اور جن کی عدالت پر خود قرآن نے مہر تصدیق ثبت کی ہے۔
سب سے پہلے امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ سامنے آ کھڑے ہوئے! ان کے چہرے پر ایک خاموش درد تھا، وہ عتاب آمیز لیکن دھیمے لہجے میں مجھ سے مخاطب ہوئے:
> “اے قلم کار! تو آج کس کی اچھائیوں کا دفتر کھولنے بیٹھا ہے؟ ذرا ٹھہر… اور مجھے دیکھ! کیا میرے اندر کوئی ایک بھی اچھائی نہیں تھی؟ کیا میں اللہ کے آخری نبی ﷺ کا قریبی رشتہ دار اور سالا نہیں تھا؟ کیا میں کاتبِ وحی نہیں تھا کہ میرے لکھے ہوئے حروف کو آسمانی تصدیق حاصل تھی؟ کیا میرے لیے خود سرورِ کائنات ﷺ نے ‘ہادی اور مہدی’ ہونے کی دعا نہیں فرمائی تھی؟”
ان کی آواز میں ایک کسک تھی، وہ آگے بڑھے اور کہنے لگے:
> “کیا میرے ہاتھ پر سید الشہداء حضرت حسن اور سید شباب اہل الجنہ حضرت حسین رضی اللہ عنہما نے بیعت نہیں کی تھی؟ کیا میں نے انہیں ہمیشہ عزت، انعام اور اکرام سے نہیں نوازا؟ کیا میری پوری زندگی میں کوئی ایک بھی ایسی خوبی نہیں تھی کہ وہ شخص مجھے سرِ عام، منبر و محراب سے ‘باغی، طاغی، منافق اور فاسق’ کہتا رہا؟ کیا میرے لیے کائنات کا سب سے بڑا اعزاز—’شرفِ صحابیت’—کافی نہیں تھا کہ میری عدالت پر انگلی اٹھائی گئی؟”
میں ابھی اس جلالِ عزم کے سامنے کانپ ہی رہا تھا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ آ گئے۔ ان کی آنکھوں میں ایک صدیوں پرانا زخم ابھر آیا تھا۔ وہ تڑپ کر بولے:
> “اے لکھنے والے! ذرا میری طرف بھی دیکھ۔ مجھے ‘درباری مولوی’ کہا گیا، مجھے ‘منافق’ کے لقب سے یاد کیا گیا، مجھ پر احادیثِ رسول ﷺ کو چھپانے اور من گھڑت باتیں پھیلانے کا الزام لگایا گیا! کیا میرا حضور ﷺ کی نظرِ شفقت میں کوئی مقام نہیں تھا؟ کیا میں نے بھوک اور پیاس کی شدت سے نڈھال ہو کر، پیٹ پر پتھر باندھ کر، دن رات ایک نہیں کیے تھے تاکہ فرمانِ رسول ﷺ تم تک پہنچ سکے؟ کیا میری زندگی صرف برائیوں کا مجموعہ تھی کہ مجھ پر اس بیدردی سے طعن و تشنیع کے تیر چلائے گئے؟”
ابھی میں ان شکایات کے بوجھ تلے دبا ہی تھا کہ کمرے کا وقار دوچند ہو گیا۔ اسلام کے عظیم المرتبت خلفاء، جن کے جلال سے باطل لرزتا تھا، تشریف لائے۔ ان کی خاموشی بھی سوالیہ نشان تھی۔
خلیفہ اول، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے میری طرف دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں شدید صدمہ تھا۔ انہوں نے کہا:
> “کیا اس شخص نے میرے بارے میں یہ نہیں لکھا کہ میں نے خلافت ہتھیانے کے چکر میں حضور ﷺ کی آخری وقت میں کھل کر مخالفت کی؟ کیا اس نے مجھ پر یہ الزام نہیں لگایا کہ میں نے (اور میرے ساتھی عمر نے) ثقیفہ بنو ساعدہ کے وقت حضرت علی اور عباس رضی اللہ عنہما کو دھوکہ دیا؟ کیا میری پوری زندگی کی قربانیاں، میری ‘صدیقیت’ اور غارِ ثور کی یاری، سب صرف اس لیے تھی کہ مجھ پر خلافت کا ‘ناحق حقدار’ ہونے کا الزام لگایا جائے؟”
ان کے فورا بعد، خلیفہ دوم، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ، جن کے نام سے قیصر و کسریٰ کانپتے تھے، مخاطب ہوئے:
> “اور میرے بارے میں کیا زبان استعمال کی گئی؟ کیا اس نے یہ نہیں لکھا کہ تمام صحابہ نے (نعوذ باللہ) حضور ﷺ کی وصیت کو ٹھکرا دیا تھا؟ کیا مجھ پر اور ابوبکر پر یہ الزام نہیں لگایا گیا کہ ہم حضور ﷺ کے بعد خلافت کے حقدار نہیں تھے؟ کیا میری عدالت، میری حق گوئی، اور میرے لیے رسول اللہ ﷺ کی وہ دعائیں، سب کچھ اس شخص کی تنقید کی بھینٹ چڑھ گئیں؟ کیا میں نے اسلام کی جو خدمت کی، اس کا صلہ یہ الزامات ہیں؟”
آخر میں، ایک ایسا جلال نمودار ہوا جس کے سامنے حیا بھی سر جھکا لے۔ وہ آئیں جن کا مقام تمام مومنوں کے لیے ماں کا ہے، جو رسول اللہ ﷺ کی محبوب ترین زوجہ تھیں، جن کے گھر میں وحی کا نزول ہوتا تھا۔ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے چہرے پر گہرا صدمہ تھا، انہوں نے تڑپ کر کہا:
> “بیٹا! تم کس کے لیے تعزیتی مضمون لکھنے بیٹھے ہو؟ کیا میرے بارے میں اس شخص نے کیا کچھ نہیں کہا؟ کیا اس نے مجھے (اور میرے ساتھیوں زبیر و طلحہ رضی اللہ عنہما کو) حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف خروج کرنے کی وجہ سے ‘فاسق’ اور ‘مردود الروایہ والشہادہ’ (جن کی روایت اور گواہی قبول نہ ہو) نہیں کہا؟ کیا اس نے یہ نہیں لکھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف قتال کرنے والے تمام صحابہ (نعوذ باللہ) ‘باغی، طاغی، عاصی، مجرم، قاتل، ظالم اور فاسق’ ہیں؟ کیا میری ‘ام المؤمنین’ کی حیثیت اس کے لیے کافی نہیں تھی؟ کیا میری پاکیزگی، میری دیانت، میری قربانیاں، سب کو اس طرح ایک جملے سے رد کر دیا گیا؟”
فضائل، مناقب اور قرآنی گواہیوں کا وہ پورا منظرنامہ میری آنکھوں کے سامنے گھوم گیا۔ ایک طرف رسولِ پاک ﷺ کی صحبت یافتہ وہ عظیم ہستیاں تھیں جن کی پاکیزگی کی گواہی قرآن نے دی، جن کے بارے میں کہا گیا ‘رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ’، اور دوسری طرف میرا وہ قلم تھا جو ان پر تنقید کرنے والی شخصیت کی ثناء خوانی کے لیے بے قرار تھا۔
ان تمام مقدس ہستیوں نے مجھے ایک نگاہ سے دیکھا، ان کے چہروں پر ایک عجیب بے نیازی اور گہرا صدمہ تھا۔ انہوں نے جاتے جاتے رندھی ہوئی آواز میں مجھ سے کہا:
> “تم نے دیکھا، تم نے سنا، اور تم نے جانا کہ اس شخص نے ہمیں منافق، غاصب اور فاسق کہا ۔ اس سب کے باوجود… اگر تمہارا ضمیر تمہیں اجازت دیتا ہے، اگر تمہاری عقیدت کے پیمانے اتنے ہی وسیع ہیں، تو شوق سے لکھو! جاؤ، ان کی تعریفوں کے پُل باندھو۔ انہیں ‘محققِ دوراں’ لکھو، انہیں ‘مفکرِ اسلام’ کے القابات سے نوازو… ہمیں کوئی اعتراض نہیں، بس ہمارے ان سوالوں کا جواب روزِ محشر اپنے خدا کو دے دینا۔”
وہ چلے گئے… لیکن میری تڑپ، میرا جوش اور میرے الفاظ وہیں منجمد ہو گئے۔ قلم ہاتھ میں لرز رہا ہے، کاغذ میری بے بسی پر ہنس رہا ہے، اور ضمیر ملامت کر رہا ہے۔ اب سمجھ نہیں آتا کہ اس دنیا سے رخصت ہونے والے کے لیے تعزیتی کلمات لکھوں، یا صحابہ کی ناموس پر اٹھنے والے ان گہرے زخموں پر ماتم کروں جن پر اس کی تحریریں گواہ ہیں!




