“انڈیپنڈنٹ وومن” بیانیے کا فکری محاسب
آج کی عورت جس فکری بحران سے دوچار ہے، اس کی جڑیں صرف معاشی، سماجی یا قانونی مسائل میں نہیں، بلکہ تہذیبی اور فکری کشمکش میں پیوست ہیں۔ ایک ایسی کشمکش جس میں عورت کو اس کی حقیقی شناخت سے کم اور ایک رومانوی، جذباتی اور بعض اوقات خیالی تصور سے زیادہ متعارف کروایا گیا ہے۔
اس بات سے انکار نہیں کہ عورت علم، شعور، بصیرت، کردار اور صلاحیت کی مالک ہے۔
تاریخِ اسلام کے صفحات ایسی عظیم خواتین کے تذکروں سے روشن ہیں جنہوں نے علم، دعوت، فقہ، تربیت، تجارت اور خدمتِ خلق کے میدانوں میں ایسے نقوش ثبت کیے جن کی روشنی آج بھی باقی ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ طاقت کا تصور جب حقیقت سے کٹ جائے تو طاقت نہیں رہتا، فریب بن جاتا ہے؛ اور آزادی جب ذمہ داری سے جدا ہو جائے تو نعمت نہیں رہتی، آزمائش بن جاتی ہے۔
گزشتہ چند دہائیوں سے اب عورت کو دو انتہاؤں کے درمیان دھکیل دیا گیا ہے۔ ایک طرف وہ جاہلانہ رسوم تھیں جنہوں نے عورت کو اس کے بعض شرعی اور انسانی حقوق سے محروم رکھا، اور دوسری طرف وہ جدید فکری تحریکیں ہیں جو عورت کو اس کی فطری ساخت، معاشرتی ضرورتوں اور زمینی حقائق سے کاٹ کر ایک ایسی “ون وومن آرمی” میں تبدیل کرنا چاہتی ہیں جو بظاہر ہر میدان میں فاتح دکھائی دیتی ہے، مگر اندر سے تنہائی، اضطراب، عدمِ تحفظ اور جذباتی تھکن کا شکار ہوتی چلی جاتی ہے۔
اگر عدل و انصاف کو مد نظر رکھتے ہوئے دیکھا جائے انسانی معاشرہ صدیوں سے تعاون پر قائم ہے۔ مرد عورت کا محتاج ہے اور عورت مرد کی محتاج ہے لیکن یہ محتاجی کمزوری نہیں، بلکہ فطرت کا حسن اور توازن ہے اور انسان کو اسی فطرت پر تخلیق کیا گیا ہے، مگر افسوس کہ جدید دور میں اسی فطری احتیاج کو ذلت اور خود کفالت کو مطلق آزادی بنا کر پیش کیا جانے لگا۔
انسانی تاریخ کے پہلے باب پر نگاہ ڈالی جائے تو ایک نہایت معنی خیز حقیقت سامنے آتی ہے کہ جب حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو انسانی تاریخ کا پہلا رشتہ حاکم اور رعایا کا نہیں تھا، بھائی بہن کا نہیں تھا، باپ بیٹی کا نہیں تھا بلکہ زوجیت کا تھا۔ حضرت حواء علیہا الرحمہ کی تخلیق اس اعلان کے ساتھ ہوئی کہ یہ آپ کی بیوی ہیں۔ اللہ تعالیٰ قادر تھا کہ آدم علیہ السلام کو تنہا ہی زمین پر بھیج دیتا، نسل انسانی کے پھیلاؤ کے لیے کوئی اور صورت پیدا فرما دیتا، لیکن مشیتِ الٰہی نے انسان کو یہ سبق آغاز ہی میں دے دیا کہ زندگی کا سفر تنہا طے کرنے کے لیے نہیں بنایا گیا۔چنانچہ حضرت حواء علیہا الرحمہ کی تخلیق محض نسل انسانی کے تسلسل کا ذریعہ نہیں تھی، بلکہ یہ اعلان تھا کہ انسان اپنی اصل میں ایک تعلق پذیر مخلوق ہے۔ اسے رفاقت چاہیے، اسے سکون چاہیے، اسے وہ ہستی چاہیے جس کے پاس لوٹ کر دل اپنے بوجھ اتار سکے۔قرآن نے اس تعلق کو محض ایک معاشرتی معاہدہ قرار نہیں دیا، بلکہ اسے سکون، مودت اور رحمت کا سرچشمہ قرار دیا۔ گویا مرد اور عورت کا تعلق کسی جنگ کا نام نہیں، کسی مقابلے کا نام نہیں، کسی طاقت آزمائی کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی رفاقت کا نام ہے جس میں ایک کی کمی دوسرے کی تکمیل سے پوری ہوتی ہے۔اسی لیے جب آج یہ کہا جاتا ہے کہ انسان، خصوصاً عورت، مکمل طور پر تعلقات سے بے نیاز ہو کر بھی اپنی زندگی کا کامل نمونہ بن سکتی ہے تو یہ دعویٰ نہ صرف انسانی فطرت سے متصادم محسوس ہوتا ہے بلکہ تاریخِ انسانی کے پہلے سبق سے بھی ہم آہنگ دکھائی نہیں دیتا۔
مجھے یاد ہے کہ برصغیر میں جب نوآبادیاتی دور آیا تو صرف سیاسی نظام تبدیل نہیں ہوا، افکار بھی بدلنے لگے۔ مغربی نظریات، فلسفے اور تحریکیں تراجم کے ذریعے ہمارے معاشروں میں داخل ہوئیں۔ پھر آہستہ آہستہ ایسے تصورات بھی منتقل ہونے لگے جن کی جڑیں ان معاشروں میں تھیں جہاں ریاست نسبتاً مضبوط، قانون زیادہ مؤثر اور سماجی ڈھانچہ مختلف تھا۔ لیکن ان نظریات کو بغیر کسی تنقیدی جائزے کے ہمارے ماحول پر منطبق کر دیا گیا۔بعد ازاں سوشل میڈیا نے اس عمل کو کئی گنا تیز کر دیا۔اب کتابوں کے کرداروں کی جگہ ریلز کے کرداروں نے لے لی۔ چند سیکنڈ کی ویڈیوز اور چند دلکش جملوں نے پوری نسل کی ذہن سازی شروع کر دی۔ سوشل میڈیا پر بیٹھی بعض خواتین دن رات “انڈیپنڈنٹ وومن” کا راگ الاپتی ہیں۔ ان کی گفتگو سن کر ایسا محسوس ہوتا ہے گویا عورت کی معراج یہی ہے کہ وہ کسی رشتے، کسی خاندان، کسی مرد اور کسی معاونت کی محتاج نہ رہے۔
گھروں، شہروں اور دیہاتوں میں بیٹھی ہوئی ہزاروں لڑکیاں یہ مناظر دیکھتی ہیں اور رفتہ رفتہ یہی سمجھنے لگتی ہیں کہ عورت کی اصل شناخت یہی ہے۔ چنانچہ ایک نئی ذہنیت جنم لیتی ہے۔ اب یہ بیانیہ بھی ہمارے معاشرے کے جامعات ( یونیورسٹیوں) سے گریجویٹ ہونے والی لڑکیوں میں زور پکڑ رہا ہے کہ شادی کر لیں گیں مگر گھر کے کام نہیں کریں گیں،یہ بھی کہا جاتا ہے اگر کھانا پکانا اور بچوں کی تربیت ہی کرنی تھی تو اتنی تعلیم کیوں حاصل کی؟ اس بات کو بھی دلیل کے طور پر کیش کروانے کی کوشش کی جاتی ہے کیریئر پر سمجھوتا نہیں ہوگا اور بعض ماڈرن ذہنیت سے آراستہ خواتین کو یہ کہتے بھی سنا گیا ہے کہ شوہر کے کام کرنا عورت کی ذمہ داری کیوں ہے؟
لیکن یہ سب مفروضے اور سوالات دراصل ایک گہرے فکری مغالطے سے پیدا ہوتے ہیں وہ یہ کہ خدمت کو غلامی سمجھ لیا گیا ہے، حالانکہ خدمت انسانی عظمت کی بنیاد ہے۔ اگر دوسروں کے لیے جینا پسماندگی ہے تو ماں کی عظمت بھی سوال بن جائے گی، باپ کی قربانیاں بھی بے معنی ہو جائیں گی اور خاندان کا پورا تصور ہی مشکوک قرار پائے گا۔تعلیم کا مقصد ذمہ داریوں سے فرار نہیں، بلکہ انہیں بہتر انداز میں نبھانا ہے۔ علم کا مقصد انا میں اضافہ نہیں، بلکہ شعور میں اضافہ ہے۔
سوشل میڈیا کی دنیا کا سب سے بڑا فریب یہی تو ہے کہ یہاں زندگی نہیں دکھائی جاتی، زندگی کو اچھا میک اپ کر کے دکھایا جاتا ہے۔یہاں مسکراہٹیں دکھائی جاتی ہیں، تنہائیاں نہیں۔ یہاں کامیابیاں دکھائی جاتی ہیں، ان کی قیمت نہیں۔ یہاں آزادی دکھائی جاتی ہے، اس کے ساتھ جڑا ہوا اضطراب اور عدمِ استحکام نہیں،جب کہ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے مواقع پر سکرین کے پیچھے کا منظر نامہ سکرین کے سامنے دکھائی جانے والی تصویر سے یکسر مختلف ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ خواب فروخت کرنا آسان اور حقیقت بیان کرنا مشکل ہے، اس لیے نوجوان ذہنوں کو زیادہ تر وہی دکھایا جاتا ہے جو دلکش ہو، نہ کہ وہ جو درست ہو۔
پھر جب یہی نظریات زمینی حقائق سے ٹکراتے ہیں تو مسائل پیدا ہوتے ہیں۔یہ وہ خطہ ہے جہاں وراثت کے جھگڑوں پر خون بہہ جاتا ہے، جہاں زمین کے چند فٹ نسلوں کو دشمن بنا دیتے ہیں، جہاں غیرت کے نام پر ظلم کی داستانیں ابھی ختم نہیں ہوئیں، جہاں کمزور کے لیے انصاف تک رسائی ہمیشہ آسان نہیں ہوتی۔ ایسے ماحول میں عورت کو مکمل تنہائی اور مطلق خود کفالت کا خواب بیچنا دانش مندی نہیں، بلکہ ایک خطرناک راستہ پر گامزن کرنا ہے۔
مجھے اس بات سے بھی اختلاف ہے کہ عورت کو صرف اس کے حقوق یاد دلائے جائیں اور فرائض کا ذکر تک نہ ہو۔ حقوق اور فرائض زندگی کے دو لازم و ملزوم بازو ہیں۔ ایک بازو سے پرواز ممکن نہیں۔ جس طرح مرد صرف اختیارات کا مطالبہ نہیں کر سکتا، اسی طرح عورت بھی صرف حقوق کے بیانیے پر معاشرہ تعمیر نہیں کر سکتی۔میں نے دیکھا ہے کہ ہماری کئی بیٹیاں اعلیٰ تعلیم حاصل کرتی ہیں، نوکریاں کرتی ہیں، زندگی کے میدان میں آگے بڑھتی ہیں۔ یہ خوش آئند ہے۔ لیکن جب انہیں یہ باور کرایا جائے کہ تمہیں کسی رشتے، کسی خاندان، کسی سہارے، کسی مرد کی ضرورت نہیں، تو یہی بات بعد میں ایک فکری بوجھ بن جاتی ہے۔ کیونکہ انسان، خواہ مرد ہو یا عورت، اپنی اصل میں ایک سماجی وجود ہے۔ وہ تعلقات سے کٹ کر مکمل نہیں ہو سکتا۔
مجھے خوف اس بات کا نہیں کہ عورت مضبوط ہو جائے گی۔ مجھے خوف اس بات کا ہے کہ کہیں طاقت کے نام پر اسے تنہا نہ کر دیا جائے۔ کہیں آزادی کے نام پر اسے غیر محفوظ نہ کر دیا جائے۔ کہیں خود انحصاری کے نام پر اس کے کندھوں پر وہ بوجھ نہ رکھ دیا جائے جو فطرت نے مشترکہ ذمہ داری کے طور پر تقسیم کیا تھا۔
میری ان معروضات کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ عورت تعلیم حاصل نہ کرے، معاشی میدان میں آگے نہ بڑھے یا اپنی صلاحیتوں کو محدود کر دے،بلکہ اسلام نے عورت کو علم دیا، عزت دی، وراثت دی، ملکیت دی اور شخصیت دی۔ لیکن اسے خاندان سے کاٹ کر ایک تنہا جزیرہ نہیں بنایا۔
مسئلہ عورت کی ترقی نہیں، ترقی کی تعریف کا ہے،مسئلہ آزادی نہیں، آزادی کے مفہوم کا ہے،مسئلہ خود مختاری نہیں، خود مختاری کے نام پر فطرت سے بغاوت کا ہے۔
میرا ماننا ہے کہ اس مخمصے کا حل نہ جمود میں ہے اور نہ اندھی جدت میں ہے۔نہ عورت کو دیواروں کے سائے میں قید کر دینا درست ہے اور نہ اسے یہ باور کرانا کہ پوری کائنات کا بوجھ تنہا اس کے کندھوں پر رکھا جا سکتا ہے۔
راہِ اعتدال یہی ہے کہ عورت کو اس کے تمام شرعی، انسانی اور معاشرتی حقوق دیے جائیں، اس کی عزت، تعلیم، وراثت اور تحفظ کو یقینی بنایا جائے، اور ساتھ ہی خاندان، محرم رشتوں اور باہمی تعاون کی اس حکمت کو بھی سمجھا جائے جو صدیوں سے انسانی معاشرے کے استحکام کا سبب رہی ہے۔
انسان کی اصل طاقت اس کے تعلقات میں ہے، اس کی تنہائی میں نہیں۔ عورت کی عظمت مرد بننے میں نہیں، بلکہ عورت رہتے ہوئے اپنے مقام، اپنی فطری قوت اور اپنے خداداد کردار کو پہچاننے میں ہے۔
اللہ تعالیٰ ہماری بہن بیٹیوں کو صحیح شعور، درست فہم، عزت، تحفظ اور اعتدال نصیب فرمائے، اور انہیں ایسے خاندان عطا فرمائے جو ان کے لیے رحمت، سکون اور مضبوطل سہارا بن سکیں۔ آمین۔
✍️ کامران الہی ظہیر




