سوال 7291
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
جنازہ میں رکوع سجدہ وغیرہ کرنا منع ہے کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ شاید میت کو سجدہ ہو رہا لیکن دوسری طرف حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کہتی ہیں کہ میں سامنے لیٹی ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نماز پڑھ لیتے تھے؟
وضاحت کر دیں۔ جزاکم اللہ خیر واحسن الجزاء فی الدنیا والآخرۃ
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
میت کو سجدہ کرنا، رکوع کرنا، قیام کرنا یا سلوٹ مارنا دین میں مشروع نہیں ہے۔
البتہ یہ کہنا کہ نمازِ جنازہ میں رکوع اور سجدہ نہیں ہے، تو اس کی ایک حکمت یہ بیان کی جاتی ہے کہ کہیں لوگ وہم یا شک میں مبتلا نہ ہو جائیں کہ میت کو سجدہ کیا جا رہا ہے۔ یہ بات اہلِ علم نے سمجھانے کے لیے بیان کی ہے۔ شریعت کے اصل احکام، ان کی منشا، مراد اور حقیقت کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔
ہمیں جس چیز کا حکم دیا گیا ہے، اس پر عمل کرنا ہے۔ جہاں رکوع کرنے کا حکم ہے وہاں رکوع کریں، اور جہاں رکوع نہیں ہے وہاں نہ کریں۔ اسی طرح جہاں بوسہ دینے کی اجازت ہے وہاں دیں، اور جہاں اجازت نہیں وہاں نہ دیں۔
رہی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث، جس میں وہ چارپائی یا زمین پر لیٹی ہوتی تھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا فرما لیتے تھے، تو یہ ایک الگ مسئلہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی زندہ شخص سامنے لیٹا یا بیٹھا ہو تو اسے سترہ بنا کر اس کے پیچھے نماز پڑھی جا سکتی ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ



