جمعہ کے دن وفات کی فضیلت
رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوْ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ إِلَّا وَقَاهُ اللَّهُ فِتْنَةَ الْقَبْرِ
”جو مسلمان جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات وفات پاتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے قبر کے فتنے سے محفوظ فرما دیتا ہے“۔
[سنن الترمذى:1074/حسن]
بارك الله فيكم وعافاكم
شیخ الباني رحمة الله عليه کی خدمات و تحقیقات گراں قدر ہیں مگر اس روایت پر حکم لگانے میں ان سے خطا ہوئی ہے ۔
اس روایت کو میرے سمیت کئ کبار عرب مشایخ و محققین نے ضعیف قرار دے رکھا ہے۔
مثلا:
موسوعة حديثية / مسند أحمد بن حنبل کے محققین نے تفصیل بیان کرنے کے بعد کہا:
ﻓﻬﺬﻩ اﻟﺸﻮاﻫﺪ ﻻ ﺗﺼﻠﺢ ﻟﺘﻘﻮﻳﺔ اﻟﺤﺪﻳﺚ، ﻭﻗﺪ ﺃﺧﻄﺄ اﻷﻟﺒﺎﻧﻲ ﻓﻲ “اﻟﺠﻨﺎﺋﺰ” ﺻ 35، ﻓﺤﺴﻨﻪ ﺃﻭ ﺻﺤﺤﻪ ﺑﻬﺎ ﺗﻘﻠﻴﺪا ﻟﻠﻤﺒﺎﺭﻛﻔﻮﺭﻱ ﻓﻲ “ﺗﺤﻔﺔ اﻷﺣﻮﺫﻱ”
مسند أحمد بن حنبل :(6582)11/ 150
یہ خلاصہ صفحہ 150 پر ہے۔
عظیم محقق شیخ مصطفی العدوی نے بھی ضعیف قرار دیا
المنتخب من مسند عبد بن حميد:(323)
شیخ سعید السناری نے کہا:
وللحديث شواهد عن جماعة من الصحابة: لا يصح منها شي قط، وأكثرها مناكير وغرائب، ومن قوي هذا الحديث بها فقد تساهل كما شرحناه في “غرس الأشجار”.
مسند أبی یعلی:(4113) کے تحت
دکتور سعد بن عبد الله الحميد( ضعف حديث فضل الموت يوم الجمعة ) شبكة الألوكة
تو جہاں ہم اختلافی مسائل میں ادلہ و قرائن ،راجح ،مرجوح دیکھتے ہیں وہیں تحقیق حدیث میں بھی یہی چیز پیش نظر رکھنی چاہیے ہے۔
ابو انس طیبی حفظہ اللہ




