اُن کا رزق کم کر دیا جاتا ہے

ابو خلاد رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«مَا مِنْ قَوْمٍ فِيهِمْ مَنْ يَتَهَاوَنُ بِالصَّلَاةِ لَا يَأْخُذُونَ عَلَيْهِ إِلَّا كَانَ أَوَّلُ عُقُوبَتِهِمْ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَرْزَاقِهِمْ».

’’جس قوم میں کوئی نماز کی سستی کرنے والا ہو اور وہ اس کا مواخذہ نہ کریں تو اُن کی سب سے پہلی سزا یہ ہوتی ہے کہ اُن کا رزق کم کر دیا جاتا ہے۔‘‘

(الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر للخلال، صـ ٤٥)

حافظ محمد طاہر حفظہ اللہ