تپتی کنکریوں پر سجدہ: صحابہؓ کی وہ نماز جو ہمیں جھنجھوڑ دے

⇚سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
’’ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز ادا کرتے تو سخت گرمی کی وجہ سے ہم میں سے کوئی اپنے کپڑے کا کنارہ سجدے کی جگہ رکھ لیتا۔‘‘ (صحیح البخاري : ٣٨٥، صحیح مسلم : ٦٢٠)

⇚سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
’’میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نمازِ ظہر ادا کرتا تھا، تو ایک مٹھی کنکریاں لے کر اپنی ہتھیلی میں رکھ لیتا، پھر انہیں دوسری ہتھیلی میں منتقل کرتا رہتا یہاں تک کہ وہ ٹھنڈی ہو جاتیں، پھر شدید گرمی کی وجہ سے جب میں سجدہ کرتا تو انہیں اپنی پیشانی کے نیچے رکھ لیتا۔‘‘
(مصنف ابن أبي شيبة : ٣٢٧٥، سنن أبي داود : ٣٩٩)

مسجد نبوی ﷺ میں کوئی قالین نہیں تھا، بلکہ فرش کی جگہ کنکریاں ڈال کر برابر کر دیا گیا تھا، چھت ایسی نہ تھی کہ دھوپ کی شدت کو روک سکتی، اس لیے زمین سخت گرم ہو جاتی اور اسی پر نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نماز ادا کیا کرتے تھے۔

حافظ محمد طاہر حفظہ اللہ