الله کے مہمانوں کے میزبانوں کے نام

یہ بہت بڑا بخل ہوگا اگر ہم حج 2025 کے انتظام کرنے کیلئے سعودی عرب حکومت کے اقدامات کی تعریف نہ کریں، 16 لاکھ سے زیادہ حجاج کو جس طرح اس سال میننج کیا گیا ہے اس کی اس سے پہلے مثال نہی ملتی۔ الحمدللہ کوئی ایک بھی بڑا سٹامپیڈ (Stampede) رپورٹ نہیں ہوا۔ کہی آگ لگنے کا کوئی واقعہ نہی ہوا۔ پینتالیس سے پچاس ڈگری کی خشک اور جھلسادینے والی گرمی میں جس طرح اس صحرا کو ٹھنڈا رکھنے کے انتظام نظر آیے وہ قابل ستائش ہیں۔ جگہ جگہ مسٹ فینز (Mist fans)’ جگہ جگہ واٹر سپرے۔ منرل واٹر’ جوس’ اور ادویات کی فری سپلائی تو دیکھنے کو ملی ہی لیکن جس طرح منی اور عرفات میں سولہ لاکھ لوگوں کے بیک وقت ہونے کو کنٹرول کیا گیا وہ بہت حیران کن ہے۔
خیموں کے انتظام، واش رومز کا سسٹم اور ٹرانسپورٹ کی فراہمی یہ سب ہر ممکنہ حد تک بہترین تھا۔ لوگوں کی ٹریفک کو اس طرح سے ون وے رکھا گیا کہ ان کے خیمے بھی مس نہ ہوں اور ان کی منزل بھی مس نہ ہو اس کے باوجود کوئی حادثہ بھی نہ ہو۔ حرم میں صرف ان لوگوں کو خانہ کعبہ مئی مطاف میں طواف کی اجازت دی گئی جو احرام میں تھے۔ اس طرح باقی عام لباس والوں کو اوپر شفٹ کرکے اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ مطاف میں کم سے کم لیکن ضروری لوگ ہوں اور کوئی حادثہ نہ ہو۔
ایمرجنسی میڈیکل سروس بھی قابل ستائش تھی- ان دنوں میں پانچ سو کے قریب ہارٹ سٹنٹ ڈلے’ پانچ سو زائد سرجریاں ہوئیں جو سب حکومت نے سرپرستی کی۔ 170 ملکوں سے سولہ لاکھ سے زاید حاجی جن کی زبان الگ جن کے عقائد اپنے اپنے، جن کی تھذیب الگ، ان سب کو اس طرح مینجج کرنا کہ کچھ خاص دنوں میں سب مناسک بھی ہو جائیں اور کوئی حادثہ بھی نہ ہو یہ امر اتنا آسان نہیں ہے- سعودی حکومت سے اور بہت سے اعتراض کیے جاسکتے ہیں لیکن ان کو یہ کریڈٹ بھی دینا بنتا ہے کہ انہوں نے الله کے مہمانوں کی ہر ممکن بہترین میزبانی کی ہے۔
یقیناً یہ سب کچھ ایک غیر معمولی انتظامی بصیرت، عملی منصوبہ بندی، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، اور خدمتِ حجاج کے جذبے کا نتیجہ ہے۔ ان تمام باتوں نے مل کر ایک ایسا ماحول فراہم کیا جس میں ہر حاجی نہ صرف اپنے مناسک کو پورے اطمینان اور امن کے ساتھ ادا کر سکا، بلکہ اس نے اپنی زندگی کا یادگار ترین سفر پایا۔
آج جب دنیا کے مختلف ممالک میں بدانتظامی، افرا تفری اور بنیادی سہولیات کی کمی دیکھی جاتی ہے، وہاں سعودی حکومت نے ایک ایسا ماڈل پیش کیا ہے جسے انتظامی معجزہ کہا جا سکتا ہے۔ ایسے موقع پر ہمیں بحیثیت اُمت یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ اتحاد، نظم و ضبط، اور مہمان نوازی کیسے انسانوں کے جمِ غفیر کو سکون و سلامتی دے سکتی ہے۔
ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ سعودی حکومت کو مزید استقامت اور اخلاص عطا فرمائے تاکہ وہ آئندہ بھی حج جیسے عظیم فریضے کو اسی ذمہ داری اور احسن طریقے سے سرانجام دے سکے۔
اللّٰہ تعالیٰ ان سب افراد کو جزائے خیر عطا فرمائے جنہوں نے “اللّہ کے مہمانوں” کی خدمت میں کسی بھی درجے میں حصہ لیا — خواہ وہ سیکیورٹی اہلکار ہوں، ڈاکٹرز ہوں، والنٹئرز ہوں یا صفائی کرنے والے وہ گمنام فرشتے، جن کی محنت کی بدولت حج کا یہ روح پرور منظر نامہ ہمارے سامنے آیا۔

✍️ کامران الہی ظہیر