“نیشا پومی” سے شہرت پانے والے نوجوان کا استقبال اور ہماری ترجیحات”

چند روز قبل ایک نوجوان محض ایک بے معنی اور مضحکہ خیز جملے “نیشا پومی” کی وجہ سے سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔ وہ نہ کوئی عالم ہے، نہ محقق، نہ سائنس دان، نہ کسی عظیم کارنامے کا حامل بلکہ ایک سادہ اور ملنگ مزاج نوجوان ہے جس کی ایک غیر سنجیدہ ویڈیو لوگوں کی تفریح کا ذریعہ بن گئی۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس کے استقبال کے لیے ہزاروں کالجز اور یونیورسٹیوں کے پڑھے لکھے نوجوان جمع ہوگئے، اس کے ساتھ سیلفیاں بنوائیں اور اسے ایک ہیرو کا درجہ دے دیا۔
یہ واقعہ ہمارے معاشرے کی فکری ترجیحات پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
جن قوموں کے نوجوان علماء، مفکرین، سائنس دانوں، موجدوں اور کردار ساز شخصیات کو اپنا آئیڈیل بناتے ہیں، وہ ترقی کی راہوں پر گامزن ہوجاتی ہیں۔ لیکن جب کسی قوم کے نوجوان محض تفریح، فضول گوئی اور بے مقصد شہرت کے پیچھے دوڑنے لگیں تو یہ فکری زوال کی علامت بن جاتا ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر کسی شیخ الحدیث، حافظِ قرآن، محقق، محدث، استاذ، یا کسی معاشرے کے حقیقی محسن کی تقریب ہو تو وہاں اتنا ہجوم نظر نہیں آتا جتنا ایک وائرل ویڈیو کے کردار کے لیے جمع ہوجاتا ہے۔ یہ رویہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہم نے علم، کردار اور خدمت کی بجائے شہرت کو معیارِ عظمت بنا لیا ہے۔
یقیناً اس نوجوان کا قصور نہیں کہ لوگ اسے غیر معمولی اہمیت دے رہے ہیں، اصل مسئلہ ہماری سوچ اور ترجیحات کا ہے۔ سوشل میڈیا نے چند لمحوں کی شہرت کو کامیابی کا معیار بنا دیا ہے، جبکہ حقیقی کامیابی علم، اخلاق، محنت اور انسانیت کی خدمت میں پوشیدہ ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین، اساتذہ اور دینی و سماجی رہنما نوجوانوں کی اخلاقی و فکری تربیت کریں، انہیں حقیقی ہیروز سے روشناس کرائیں اور یہ احساس دلائیں کہ قوموں کی تعمیر فضول مشاغل سے نہیں بلکہ علم، کردار اور مقصدیت سے ہوتی ہے۔
اگر ہم نے اپنی ترجیحات درست نہ کیں تو کل ہماری نئی نسل عظیم شخصیات کے نام بھول جائے گی، لیکن چند لمحوں کے سوشل میڈیا ستاروں کو یاد رکھے گی۔ اور یہ کسی بھی زندہ قوم کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
یاد رہے کہ نوجوان کسی بھی قوم کا مستقبل ہی نہیں بلکہ اس کا حقیقی لیڈر بھی ہوتا ہے۔ آج کا نوجوان جس فکر، جس کردار اور جن شخصیات کو اپنا آئیڈیل بناتا ہے، کل پوری قوم اسی سمت گامزن ہوتی ہے۔
سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ نے بجا فرمایا تھا کہ: اگر کسی قوم کو بغیر کسی جنگ کے شکست دینی ہو تو اس کے نوجوانوں میں فحاشی پھیلا دو۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ اگر نوجوانوں کی توجہ علم، تحقیق، اخلاق اور کردار سازی کے بجائے فضول شہرت، بے مقصد تفریح اور سوشل میڈیا کے وقتی ستاروں پر مرکوز ہو جائے تو قوم کی فکری سمت بھی متاثر ہوتی ہے۔
ایک باشعور نوجوان کتاب کو موبائل کی اسکرین پر ترجیح دیتا ہے، علم کو شہرت پر مقدم رکھتا ہے، اور کردار کو مقبولیت سے زیادہ اہم سمجھتا ہے۔ یہی نوجوان آگے چل کر قوم کا معمار، رہنما اور حقیقی سرمایہ بنتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان اپنی صلاحیتوں کو فضول مشاغل میں ضائع کرنے کے بجائے علم، ہنر، تحقیق، دین اور خدمتِ خلق کے میدانوں میں صرف کریں، کیونکہ آج کا نوجوان ہی کل کی قوم کا لیڈر ہے۔

✍️ یاسر مسعود بھٹی
فاضل مرکز لارنس روڈ لاہور

یہ بھی پڑھیں:میرا جسم میری مرضی کا نیا ورژن